اس رات کی بے چینی میں آج تک نہیں بھولا۔۔
پندرہ سال پرانی بات ہے۔۔
رات کا سوا ایک بج رہا تھا۔۔
وارڈ مکمل بھرا ہوا تھا۔۔۔
اگلا دن سرجری کا تھا اور اس سے پہلی کال ہمیشہ بہت سخت ہوتی تھی۔۔۔
میں تھکن سے چور تھا۔۔۔
آخری مریض تھا۔۔
اس کی کچھ رپورٹس صبح سویرےآنی تھیں۔۔
اسے دوائیں لگانے کے بعد میں نے حفاظتی پروٹوکول کو نظر انداز کرتے ہوئے سرنج کا ڈھکنا اپنے ہاتھ میں ہی رکھا اور اسے بند کرنے کی کوشش کی۔۔۔
اورسوئی سیدھی میری انگلی میں جا گھسی۔۔۔
میری نیند سے بند ہوتی آنکھیں اب پوری کھل چکی تھیں۔
مجھے خوف تھا کہ کہیں مجھے ایچ آئی وی یا ہیپاٹائٹس نہ لگ جائے۔۔۔
آر ایم او نے سن کر کندھے اچکا دئے۔۔
"کچھ نہیں ہوتا۔۔۔"
پوسٹ ایکسپوجر کئیر کا کوئی سسٹم سرے سے موجود ہی نہیں تھا ۔۔۔
مجھے لگا کہ اس بڑے سے ہسپتال میں میں اکیلا ہی ہوں جس نے سب کچھ بھگتنا ہے۔۔۔
مجھے کوئی بھی مرض لگ جائے۔۔
قصور بھی میرا ہوگا۔۔
اور نتائج بھی مجھے ہی برداشت کرنے ہونگے۔۔۔
کیوں کہ معاشرے میں "ڈاکٹر کی حفاظت" کا کوئی تصور نہیں تھا۔۔۔
نہ اس وقت تھا۔۔۔
نہ آج ہے۔۔
معاشرہ چاہتا ہے کہ آپ بغیر تحفظ کے وبائی امراض کو ڈیل کریں۔۔
مریض کے ساتھ آنے والے غنڈوں کا بھی سامنا کریں۔۔
ان کی گالیاں بھی کھائیں۔۔
اور ان کا غصہ نکالنے کے لئے پنچنگ بیگ بھی بن کر دکھائیں۔۔۔۔
خود کو ایکسپوز کریں اور اپنے گھر والوں کے لئے بھی مرض تحفے میں لے کر جائیں۔۔
صبح تک میں نے جاگ کر اس مریض کی رپورٹس کا انتظار کیا۔ ۔
الحمدللہ اسے ہیپاٹائٹس نہیں تھا۔۔۔
ایچ آئی وی بھی نہیں تھا۔۔
اس رات کی بے چینی مجھے آج بھی یاد ہے۔۔۔
اس وقت بھی یونیورسٹی خالی ۔۔۔
چند لوگ ہیں جو یہاں موجود ہیں۔۔۔
یہ ان کا کام ہے۔۔۔
اس کی انہیں تنخواہ بھی ملتی ہے۔۔۔
اور انہوں نے اس بات کا حلف بھی لیا ہے۔۔۔
ملک کے ہسپتال آباد ہیں۔۔
مریض دھڑا دھڑ آ رہے ہیں۔۔۔
اس حلف میں یہ شامل نہیں ہے کہ آپ ڈاکٹر کو بغیر ڈھنگ کے ماسک اور پروٹیکٹیو ایکوپمنٹ کے میدان میں اتار دیں۔۔
اسے اور اس کے خاندان کو وبائی امراض کا تحفہ دیں۔
جنھیں چینی ڈاکٹرز کی مثالیں نظر آ رہی ہیں وہ ذرا ان ڈاکٹرز کا حلیہ دیکھ لیں۔۔۔
اور کسی سرکاری ہسپتال جا کر فرنٹ لائن میڈیکل ورکر سے اس کا تقابل کریں۔۔۔
صحت پہنچانے والا اگر خود ہی بیمار ہوگا تو آپ کی کیا مدد کریگا؟
#محور
محمد یحیی' نوری
#Coronavirus #Pakistan