598

سزا (#محور-1)

نفسیات کی کلاس تھی۔
استاد نے کہا۔۔
 "اب میں چاہتا ہوں کہ آپ سب لوگ اپنی زندگی میں آنے والے تکلیف دہ لمحات کو یاد کریں۔۔"
چند ہی لمحات میں ہر چہرہ سنجیدہ ہو چکا تھا۔
مسکراہٹ کسی کے چہرے پر نہیں تھی۔
ماحول پر  عجیب سا بوجھل پن طاری تھا۔۔
ہر ایک گہری سوچ میں گم تھا۔۔
"آپ کو ایسا نہیں لگ رہا ہے کہ آپ ان حالات سے دوبارہ گزر رہے ہیں؟
اپنے جسم میں تبدیلیوں پر غور کریں۔۔
کیا آپ اپنے آپ کواسی سٹریس میں محسوس نہیں کر رہے؟
یہی ہوتا ہے جب آپ کسی ناخوشگوار واقعے کو سوچتے ہیں۔۔
واقعہ ایک بار ہوتا ہے۔۔
آپ پر روز بیتتا ہے۔۔
کئی مرتبہ۔۔
کبھی کبھی کئی سال تک۔۔۔
چلیں اب ماحول ٹھیک کرتے ہیں۔۔
کافی ٹینشن ہو گئی ہے۔۔
آنکھیں بند کریں۔۔
اپنی زندگی کے خوشگوار ترین لمحے کا تصور کریں۔۔۔"
صرف تین منٹ گزر ے تھے۔۔
اور طلبا کے سنجیدہ چہروں پر مسکراہٹوں سے پھول کھل اٹھے تھے۔۔
"جو آپ کے ساتھ ہوتا ہے وہ ہوتا ہے۔۔
وہ آپ کے اختیار میں نہیں۔۔
مگر اس کا رد عمل آپ کے اختیار میں ہے۔۔
 اس کی سزا کتنی کاٹنی ہے۔۔۔
وہ آپ کے اختیار میں ہے!"

بشکریہ اردو کالمز