449

تلخیاں (#محور-1)

نفسیات کی کلاس تھی۔۔
استاد نے کہا۔۔
"وقتکےساتھ ساتھ سارےغم مٹ جاتےہیں۔۔
ساری تلخیوں کا اثر کم ہو جاتا ہے۔۔
مگر اس میں وقت لگتا ہے۔۔
اگرآپ ان تلخیوں کوخود کم کرنے کی کوشش کریں توآپ غم اوردکھ کےان مراحل سےجلدی نکل جاتےہیں۔
کبلر راس کہتی ہے کہ جب انسان  پر کوئی برا وقت کوئی  تکلیف آتی ہے۔
وہ کوئی بری خبر سنتا ہے ۔۔
تو سب سے پہلے  اسے ماننے سے انکا ر کر دیتا ہے۔۔
بہت سے لوگ ذیابیطس اور بلڈ پریشر کی 
د وا نہیں کھاتے۔
 اصل میں وہ اپنی تشخیص کو ماننے سے انکار
کر رہے ہوتے ہیں ۔۔
اس  کے بعد وہ غصّہ کا شکار ہو جاتا ہے۔۔
میرے ساتھ ہی کیوں؟
پھر جب آہستہ آہستہ اسے یقین آتا ہے تو وہ غمزدہ ہو جاتا ہے۔۔
اس کے بعد اپنی حالت کو بہتر بنانے کی کوشش شروع کرتا ہے۔۔
بارگین کرتا ہے۔
 پناہ تلاش کرتا ہے۔۔
آخر میں وہ حقیقت کا ادراک کر لیتا ہے۔۔
نئے حالات کو قبول کر کے ان کے مطابق زندگی گزارنا  شروع کرتا ہے۔۔
تب ہی وہ غم سے نکلتا ہے۔۔
یہ پانچ مراحل ہیں۔۔
جتنی جلدی ان سے گزر جأو تلخیاں اتنی جلدی مٹ جاتی ہیں۔۔۔"
محور

 

بشکریہ اردو کالمز