833

نواز شریف کے چیلنجز گمبھیر ہو گئے

پاکستانی سیاست پر پروگرام کرتے اور لکھتے ہوئے کبھی کبھار اکتا جانا کوئی معیوب بات نہیں لیکن جب سے سینیئر صحافی ارشد شریف کی ناگہانی موت ہوئی ہے تب سے دل و دماغ لکھتے اور پروگرام کرتے وقت کچھ زیادہ ساتھ نہیں دے رہے۔

ارشد شریف کے نظریات اور طرز صحافت سے زیادہ تر اختلاف ہی رہا لیکن جب بھی ملاقات ہوئی صحافت اور سیاست کو پس پشت ڈال کر ایسے ماحول میں ہوئی، جسے یاد کرتے ہوئے دل چیر سا جاتا ہے۔

بہت سی باتیں لکھنا اب مناسب نہیں لیکن ارشد شریف میرے تمام اعتراضات کا جواب ایک معنی خیز مسکراہٹ سے دے کر مجھے بھی مسکرانے پر مجبور کر دیتے تھے۔

رواں برس ماسکو کے سفر میں وہ ساتھ رہے جہاں میں کچھ اور رپورٹ کرتا رہا اور ارشد بھائی کی ترجیحات مختلف تھیں لیکن ان چند دنوں میں انہیں انتہائی محنت سے کام کرتے دیکھا۔

روس میں سارا دن مجھے خود ہی سٹینڈ کھڑا کر کے اپنا پروگرام ریکارڈ کروانا پڑتا تھا لیکن ایک شام برفانی ہوائیں اتنی تیز چلنا شروع ہوئیں کہ سٹینڈ گر گیا۔

قریب کھڑے ایک ساتھی کیمرہ مین سے مدد کی درخواست کی تاکہ ڈیڈ لائن پر شو پورا کروا کر بھجوا سکوں لیکن انہوں نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ سوری بھائی سردی بہت زیادہ ہے۔

قریب کھڑے ارشد شریف خود ہی آگے بڑھےاور ماسکو کی شدید سردی میں ہاتھوں میں موبائل پکڑے کیمرہ مین بن کر میرے پروگرام کا آخری حصہ ریکارڈ کروایا۔

میری تو ویسے بری حالت ہو گئی تھی، ان کے بھی ہاتھوں نے تقریباً کام چھوڑ دیا۔ خدا تعالی ان کے خاندان کو صبر عطا فرمائے لیکن ان کی اچانک اور ایسی موت نے یقیناً بہت سے صحافیوں کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ صحافت اور سیاست میں ایسی حدیں مقرر ہو چکی ہیں جسے پار نہ کرنے میں ہی عافیت ہے۔

 

ارشد شریف کو 23 اکتوبر کی رات کینیا کی پولیس نے اس وقت سر میں گولی مار کر قتل کر دیا جب انہوں نے اور ان کے ڈرائیور نے مبینہ طور پر ایک پولیس ناکے کی خلاف ورزی کی (تصویر: فیس بک/ ارشد شریف)

 

اس بہیمانہ قتل کی تحقیقات ہونا تو لازم ہے لیکن التجا یہی ہے کہ جب تک تحقیقات کا کوئی نتیجہ سامنے نہیں آتا، کسی پر الزام تو دور کی بات شک کرنا بھی مناسب نہیں۔

ویسے تو جب سے پیدا ہوئے یہی سنا کہ پاکستان نازک دوراہے پر ہے لیکن اپنی صحافتی زندگی میں کبھی اپنے ملک کو اتنی نازک صورت حال سے گزرتے نہیں دیکھا۔

اس وقت اگر کوئی بھی ملک یا گروہ خدانخواستہ ایک آدھ اور واقعہ کروا کے پاکستان کو غیر مستحکم کروانا چاہے تو اس سے زیادہ سازگار حالات ان کو نہیں ملیں گے، اسی لیے ہوش سے کام لینا اب اہل صحافت کی بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ مفروضوں پر مبنی صحافت اور سیاست پر اب فل سٹاپ لگانے کا وقت آچکا ہے۔

بہت ہو چکا! اب اگر مجھ سمیت کوئی بھی بات کرے تو ثبوت کے ساتھ کرے ورنہ نہ کرے۔ ریاست کی خاطر اب سیاست اور صحافت دونوں کو ذمہ داری کا ثبوت دینا پڑے گا۔

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ سیاست اور صفحات دونوں کو اسٹیبلشمنٹ نے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا، بار بار کیا اور یہی ہماری تلخ تاریخ رہی ہے۔

 

لیکن اگر آج تاریخ میں پہلی بار بار آئی ایس آئی کے سربراہ میڈیا پر سامنے آنے پر مجبور ہوئے تو فی الحال اس بات کو مان لینے میں ملک کی عافیت ہے کہ فوج اب سیاست سے ہاتھ ہٹا چکی ہے۔

یہ تو آنے والا وقت ہی طے کرے گا کہ ایسا کب تک رہتا ہے لیکن فوج کا غیر سیاسی رہنا خود ادارے اور آئین پاکستان کی تکریم اور تعظیم کے لیے ناگزیر ہے۔

مصیبت لیکن یہ ہے کہ تقریباً ہر سیاسی جماعت ہی یہ سمجھتی ہے کہ اقتدار کا رستہ پنڈی کی راہ داریوں سے گزر کر آتا ہے۔

ہمارا ماضی یہی رہا ہے لیکن اس تاثر یا حقیقت کو بدلنے میں جہاں فوج کا کلیدی کردار ہے وہیں سیاسی جماعتوں کا کردار بھی کم اہمیت کا حامل نہیں۔

فوج کے سیاسی کردار پر تنقید جائز تھی، ہے اور آئندہ بھی رہے گی لیکن سیاست دانوں کو بھی یہ طے کرنا ہو گا کہ وہ سیاست میں مدد کے لیے آبپارہ اور پنڈی کی طرف دیکھنا بند کریں۔

گذشتہ دنوں لندن میں سابق وزیراعظم نوازشریف اور مریم نواز سے ملاقات رہی جس میں زیادہ تر توجہ موجودہ ملکی حالات ہی رہے۔

سیاسی عدم استحکام کے باعث یہ بات اب ثانوی ہو چکی ہے کہ دونوں باپ بیٹی ساتھ واپس آ رہے ہیں اور آ بھی رہے ہیں یا نہیں۔

اس وقت دونوں کے ذہنوں پر یہی سوار ہے کہ اب جبکہ اقتدار سنھبالا جا چکا ہے، اس بھنور سے ملک اور اپنی جماعت کو کیسے نکالا جائے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ اقتدار میں سے نکلنے کے بعد پاکستان تحریک انصاف کی مقبولیت میں اضافہ ہوا۔ عمران خان کے بیانیے نے (غلط صحیح کی بحث میں جائے بغیر) نوجوان ووٹرز کو اپنی طرف تیزی سے مائل کیا ہے۔

ن لیگ حکومت میں تو آ گئی لیکن نہ صرف اپنا بیانیہ کھو بیٹھی بلکہ مقبولیت بھی، جس کا نتیجہ دو درجن سے زیادہ نشستوں پر ضمنی انتخابات میں سامنے آ چکا ہے۔

سابق وزیراعظم نوازشریف خود اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ اقتدار میں آنے سے ان کی جماعت کو نقصان ہوا جو انتخابی نتائج سے ظاہر ہو رہا ہے۔

مریم نواز کو پارٹی کا سربراہ بنانے پر سنجیدگی دکھانے سے پارٹی کے لیے پنجاب میں معاملات بہتر ہو سکتے ہیں (تصویر عادل شاہ زیب)

 

لیکن ن لیگ کے پاس حکمت عملی کیا ہے؟ اب کس بیانیے کو لے کر آگے چلا جائے؟ عوام تو اب مہنگائی اور ابتر حالات کا ذمہ دار موجودہ حکومت کو سمجھتے ہیں؟

نوازشریف صاحب سے گفتگو کے دوران زیر بحث آئے یہ سوالات مریم نواز غور سے سنتی رہیں اور میرے ایک دو ایسے تلخ جملے انہوں نے دہرائے جس سے تاثر ملا کہ انہیں ن لیگ کے سیاسی چیلنجز کا نہ صرف بخوبی اندازہ ہے بلکہ وہ حقیقت سے آنکھیں نہیں چرانا چاہتیں۔

ن لیگ میں یہ حقیقت بھی واضح ہوتی جا رہی ہے کہ پارٹی میں اس وقت اگر عمران خان کی طرز سیاست اور مقبولیت کو کوئی چیلنج کر سکتا ہے تو وہ مریم نواز ہیں۔

اس وقت میڈیا ہو یا سوشل میڈیا، عمران خان اور ان کا بیانیہ ہی چھایا ہوا ہے۔ ایسے وقت میں جب ن لیگ کے تمام اہم رہنما حکومتی معاملات میں مصروف ہیں اور پارٹی کو پے درپے انتخابات میں شکست ہو رہی ہے، مریم نواز کو پارٹی کا سربراہ بنانے پر سنجیدگی دکھانے سے پارٹی کے لیے پنجاب میں معاملات بہتر ہو سکتے ہیں۔

گذشتہ برس اسی مہینے میں جب نواز شریف سے لندن میں ملاقات ہوئی تو حالات مختلف تھے، عدم اعتماد کی شنید تھی، لیکن لندن میں مقیم نوازشریف صاحب کچھ معاملات میں ’بھروسہ‘ کرنے کو تیار نظر نہیں آ رہے تھے۔

اس بار حالات مختلف ہیں، ان کی جماعت برسراقتدار ہے، ان کے بھائی وزیراعظم ہیں، مریم نواز آج ان کے پاس لندن میں موجود ہیں۔

وہ اب ’بھروسہ‘ نہ ہونے کی باتیں بھی نہیں کر رہے۔ ان کے لہجے میں ٹھہراؤ اور اطمینان ہے، لیکن آج ان کے چیلنجز بدل کر گھمبیر ہو چکے ہیں۔

آج وہ عمران خان کو ایک جمہوری شکست تو دے چکے ہیں لیکن اس سیاسی جنگ میں ن لیگ کو کچھ ایسی چوٹیں لگی ہیں، جس کا علاج صرف نواز شریف کی وطن واپسی اور مریم نواز کو پارٹی صدارت دینے کے فیصلوں کے بعد ہی شاید کچھ حد تک ممکن ہو سکے۔

بشکریہ انڈپینڈنٹ نیوز