680

ن لیگ اور ضمنی انتخابات میں شکست

ضمنی انتخابات کی لا حاصل اور بے مقصد ایکسرسائز میں آٹھ میں سے چھ نشستیں جیت کر عمران خان یہ تو ثابت کر چکے کہ انکی مقبولیت بڑھی ہے اور یہ بھی کہ پی ڈی ایم جماعتیں انکے نام نہاد امریکی سازش کے بیانیے سے لے کر ’پورا ملک میرے ساتھ ہے‘ کی رٹ کے مقابلے میں اب تک متاثر کن بیانیہ بنانے میں ناکام رہی ہیں۔

میں ضمنی انتخابات کے اس پورے عمل کو بے مقصد اور لاحاصل اس لیے سمجھتا ہوں کہ کروڑوں روپے خرچ کر کے ایسے شخص یہ انتخابات جیت چکے ہیں جو بطور وزیراعظم اس پارلیمان کو تحلیل کروا چکے ہیں، اس میں بیٹھنے سے انکاری ہیں، انکی پارٹی کے تمام ممبران قومی اسمبلی سے مستعفی ہو چکے ہیں۔

یعنی اب عمران خان صاحب ضمنی الیکشن میں جیتی گئی ان تمام نشستوں سے مستعفی ہو جائیں گے اور ایک بار پھر ان پر انتخابات ہوں گے وہ پھر جیتیں گے اور ایک دفعہ پھر مستعفی ہوں گے۔ اس ملک کے ساتھ اتنے مذاق ہو چکے ہیں کہ اب اس طرح کے بھونڈے مذاق بھی نارمل لگنے لگے ہیں۔

لیکن افسوس کا مقام ہے پی ٹی آئی کے لیے جس نے اپنے سیاسی بیانیے کی جیت کے لیے جمہوری عمل کو صریحا مذاق بنا دیا ہے۔

ایک طرف آپ ضمنی انتخابات کے نتائج کو عوام کی جانب سے ریفرنڈم قرار دے رہے ہیں تو دوسری جانب قومی اسمبلی نہ جا کر اسی عوام کے مینڈیٹ کو جوتی برابر احترام دینے کی لیے بھی تیار نہیں۔

بات کریں حکومت کی تو انکی پہلی غلطی تو یہ تھی کہ جب پوری تحریک انصاف مستعفی ہو چکی تو آپ نے اپنی گنی چنی پسندیدہ نشستوں پر ہی کیوں استعفی قبول کر کے انتخابات کروائے؟ اور جب انتخابات کروانے کا فیصلہ ہو بھی گیا تو آپ نے (سوائے پیپلز پارٹی کے) اپنے امیدواروں کو عمران خان سے لڑنے کے لیے دھکا تو دے دیا لیکن بیچ منجھدار اکیلا چھوڑ دیا۔

ایک طرف عمران خان کے کامیاب بڑے بڑے جلسے اور چارجڈ کراؤڈ تو دوسری طرف پی ڈی ایم قیادت کی غیر موجودگی، عدم دلچسپی اور عمران خان سے مقابلے کے لیے کسی قسم کی سٹریٹیجی کا فقدان۔

کراچی میں تحریک انصاف کے ضمنی انتخابات کے حوالے سے 14 اکتوبر 2022 کو منعقد کیے گئے جلسے میں شرکا بڑی تعداد میں موجود (اے ایف پی)

 

پی ڈی ایم کی تقریبا تمام جماعتیں حکومت میں آنے کے بعد سے عوام سے دور ہو چکی ہیں، ظاہری بات ہے مشکل فیصلے بھی لینے پڑے لیکن چھ ماہ میں اتنی تیزی سے غیر مقبول ہونے کی وجہ صرف عمران خان کا بیانیہ نہیں ہو سکتا۔

اس وقت پی ڈی ایم کی سب سے بڑی جماعت ن لیگ کے صدر وزیراعظم بن چکے ہیں جبکہ زیادہ تر لیڈرشپ کابینہ کا حصہ بن چکی، نوازشریف صاحب ظاہر ہے باہر ہیں۔ مریم نواز کھل کر نہیں کھیل رہیں اور کھیلیں بھی کیوں جب انہیں خود شاید یہ احساس ہو گا کہ حکومت لینے سے انکی پارٹی کو بے تحاشا سیاسی نقصان ہوا اور جس طرز سے حکومت چلائی جا رہی ہے اگر یہ مزید چھ سات ماہ اسی طرح چلائی گئی تو شاید ن لیگ آئندہ انتخابات میں پنجاب میں سر بھی نہ اٹھا پائے۔

ن لیگ کے وہ سینئیر رہنما جو کابینہ کا حصہ نہیں ہم سے گلے شکوے کر رہے ہیں کہ کابینہ کے وزرا تو ان کے میسیج کے جواب تک نہیں دے رہے۔

ایسے میں پارٹی امیدواروں کی شکست کی وجہ صرف عمران خان کی مقبولیت یا بیانیہ نہیں ہو سکتا۔ اگر ن لیگ کو اپنے ووٹر سے دوبارہ ’کنکٹ‘ ہونا ہے اور آئندہ انتخابات کی پیش بندی کرنی ہے تو پارٹی اور حکومتی معاملات کو الگ کرنا ہو گا۔

آج نوجوانوں کی اکثریت عمران خان کے گن گا رہی ہے، سیاسی بیانیے کی لڑائی سوشل میڈیا پر لڑی جا رہی ہے۔ خان کی باتوں اور بیانیے کے ساتھ متفق نہ ہونے کے باوجود ستر فیصد سے زیادہ میڈیا سارا دن انہی کے بیانات چلانے پر مجبور ہے۔ لیکن جس دن اور جیسے ہی مریم نواز کی کوئی ٹویٹ، یا پریس کانفرنس آئے تبھی جا کر عمران خان کے ذکر کو فل سٹاپ لگتا ہے۔

اس سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ ن لیگ کو اگر مقابلے میں رہنا ہے تو نوازشریف کو بلاتاخیر مریم نواز کو پارٹی صدارت سونپنی ہو گی کیونکہ اس وقت ن لیگ میں اگر کوئی ووٹر سپورٹر اور ورکر کے علاوہ آج کے یوتھ سے کنکٹ کر سکتی ہیں تو وہ مریم نواز ہیں۔

ویسے بھی حکمران جماعت جتنا جلدی یہ سمجھ لے بہتر ہو گا کہ جس میدان میں اب سیاسی مقابلہ ہو رہا ہے یا آگے چل کر ہونا ہے، اب اس میدان کے گھوڑے روایتی سیاستدان نہیں بن سکتے۔

تمام روایتی سیاسی جماعتوں کو یہ ذہن نشین کر لینا چاہئے کہ آپکو بدلنا ہو گا یا پھر سیاست سے نکلنا ہو گا۔

بشکریہ انڈپینڈنٹ نیوز