مہمان کالم - ’’عوام کا جہاں اور ہے ، حکمرانوں کا جہاں او ر‘‘ ’’عوام کا جہاں اور ہے ، حکمرانوں کا جہاں او ر‘‘

افتخار حسین شاہ

میں نے ایک روز پہلے ایک دوست کی بیٹی کی شادی پر شام سات بجے پہنچنا تھا لیکن نہ بجلی آ رہی تھی اور نہ ہی گیس۔ ظاہر ہے گرم پانی مہیا نہیں تھا سو ٹھنڈے پانی سے منہ ہاتھ دھویا۔دسمبر کے یخ بستہ مہینہ میں ان حالات میں تیار ہونا کافی مشکل ہوتا

ہے ۔نہ جانے کیوں مجھے اپنے ڈی سی او شپ(DCO ship)کے ایام یاد آنے لگے ۔ دسمبر 2007 میں ،میںڈی سی او ( DCO ) رحیم یار خان تھا۔ اُن دنوں بھی لوڈ شیڈنگ چل رہی تھی ۔ آپ اندازہ لگائیں کہاں 2007 اور کہاں 2022! لیکن اپنے ملک میں سے لوڈ شیڈنگ ختم نہ ہو سکی۔ آپ گن کے بتائیں ، کتنے سال ہو گئے۔کیا دنیا کے کسی اور ملک میں بھی ایسا ہو رہا ہے۔ سلام پیش کریں اس ملک کے مختلف حکمرانوں کو! خیر میں بات کر رہا تھا رحیم یار خان کی۔ رحیم یار خان کے ڈی سی او ہاوس میں ہی ایک بڑے کمرے میں ڈیزل سے چلنے والا ایک بہت بڑا جنریٹر(Generator (نصب تھا ۔ جوں ہی بجلی جاتی تھی آپریٹر اس جنریٹر کو چلا دیتا تھا اور پھر ڈی سی او ہاوس جگمگ کر اُٹھتا تھا۔ہر مہینے اس جنریٹر کو چلانے کے لیے ڈیزل کا خرچہ تقریباً ایک لاکھ روپے آتا تھا (یہ ان زمانوں کی بات ہے ، اب نہ جانے کیا اخراجات ہوتے ہونگے) ۔ یہ انتظام صرف رحیم یار خان کے ڈی سی ہاوس کے لیے نہیں تھا بلکہ ایسا ہر ضلع میں حکومتی و سرکاری اعلیٰ عہدہ داروں کے لیے ہو رہا تھا اور مجھے یقین ہے کہ آج بھی ہو رہا ہوگا۔یہ سب انتظامات کس پیسے سے ہوتے ہیں۔ یہ وہی پیسا ہوتا ہے جو حکومتیں اپنے ملک میں رہنے والے عوام سے مختلف ٹیکسز کی صورت میں اکٹھا کرتی ہیں۔ آپ کیا سمجھتے ہیں وزیر اعلیٰ یا گورنر ہاوس میں بھی لوڈ شیڈنگ کے دوران بجلی چلی جاتی ہے ! قطعاً نہیں ۔ اگر آپ ایسا سوچتے ہیں تو ناراضی معاف آپ ایک احمق ہیں۔ ان گھروں کے لیے حکمرانوں نے بجلی کے مختلف سورسز (sources ) سے کنکشن لیے ہوتے ہیں یا ان ہاوسز میں دیو قامت جنریٹرز نصب ہوتے ہیں جو بجلی کے جاتے ہی پلک جھپکنے کی دیر میں بجلی مہیا کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ٰان سب لوازمات پر اُٹھنے والا بے دریغ خرچہ غریب اور لاچار عوام کی جیبوں سے مختلف ٹیکسوں کی صورت میں اکٹھا کیا جاتا ہے۔ آپ اگر عوام سے آج کے دور میں لیے جانے والے ٹیکسوں پر غور کریں تو آپ حیران ہونگے اور سوچیں گے کہ اتنے ٹیکسز تو باہر کے علاقوں سے حملہ آور ہو کر ان علاقوں پر حکومت کرنے والے حکمران بھی نہیں لیتے تھے۔ آپ اپنے ملک میں کوئی چیز بھی خریدیں چاہے وہ صرف زندہ رہنے کے لیے بہت ہی ضروری ہو یا کسی بھی مہلک بیماری سے جان چھڑانے کے لیے ادویات ہوں، آپ کو اس کی قیمت کا 16.5%جی ایس ٹی(جنرل سیلز ٹیکس)کی شکل میں حکومت کو دینا پڑے گا۔ میں تو حیران ہوتا ہوں ریاست پاکستان کی حکومتوں کے جبر پر کہ وہ یہاں رہنے والے غریب لوگوں سے کن کن طریقوں سے دولت اکٹھی کرتی ہیں۔ میں جم خانہ کی باربر شاپ سے بال کٹواتا ہوں اور کٹنگ کے پیسے دیتے وقت مجھے سخت تکلیف ہوتی ہے جب مجھے کٹنگ کروانے پر بھی حکومت کو 16.5 % ٹیکس دینا پڑتا ہے ۔ بھلا اس میں حکومت کا کیا رول ہے۔یہ اپنے عوام پر ظلم نہیں تو اور کیا ہے ؟ اپنے ملک میں چند طبقات اس ملک کے غریب عوام سے مختلف ٹیکسز کی صورت میں دولت اکٹھی کرکے موج میلے کی زندگی گزار رہے ہیں۔اگر اس ملک میں لوڈ شیڈنگ کا عذاب کوئی سہہ رہا ہے تو وہ اس ملک کے غریب اور لاوارث عوام ہیں۔ کیا کسی وزیراعلیٰ یا گورنر ہاوس ، کیا کسی کمشنریا پولیس کے ڈی آئی جی ، کسی ڈپٹی کمشنر یا ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر(DPO ) کے د فاتر یا گھر وں میں بھی آپ کو لوڈ شیڈنگ نظر آتی ہے یانہیں۔ یہ حکمرانوں کے گھر ہیں، ان کا جہان اور ہے اور ان کی رعایا یعنی ٰ عوام کا جہان اور ! یہی حال ہمارے دوسرے اعلیٰ افسران کے دفاتر اور گھروں کا ہے۔ میں اس ملک کے سیاستدانوں کا نام نہیں لکھنا چاہتا ، آپ کے ذہن میں کسی کا نام بھی آتا ہے ،ذرا غور کریں کیا لوڈ شیڈنگ کے وقت ا ن کے گھر بھی اندھیرا ہوتا ہو گا اور ان کے تمام برقی آلات قابل استعمال نہیں ہوتے ہونگے ۔انہی وجوہات اور حالات کے پیش نظر اس ملک کا ہر شہری یہاں سے بمعہ فیملی بھاگنا چاہتا ہے کیونکہ یہاں ہر طرف اور ہر لمحہ عوام پر ظلم جاری ہے۔میں عموماً دوستوں کی محفل میں کہتا ہوں کہ آپ صرف جائزہ لینے کے لیے ہی کہہ دیں کہ میرے پاس دوبئی، قطر ، بحرین ، ناروے ، سویڈن اور کینیڈا کے کچھ ویزے آگئے ہیں اور میں کچھ لوگوں کو دینا چاہتا ہوں ۔ پھر دیکھنا درجنوں لوگ کیسے لاکھوں روپے ہاتھوں میں لیے آپ کے در پر بمعہ سفارشیوں کے پہنچتے ہیں! آج کل ہمارے ایک دوست بمعہ فیملی امریکہ سے لاہور آئے ہوئے ہیں۔ باتوں باتوں میں کہہ رہے تھے کہ اسی ملک میں پڑھے لکھے ہیں ، یہیں سب رشتے ہیں، یہاں واپس آنے کے لیے دل کو ’کھچ‘ ( یہ لفظ اُنہوں نے استعمال کیا) تو پڑتی ہے لیکن اس ملک میں قانون کی حکمرانی ( Rule of law ) کہیں نظر نہیں آتی ، یہاں ’’جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا ‘‘ والی صورت حال ہے۔بتا رہے تھے کہ امریکہ میں تو Conflict of interest (مفادات کے ٹکراوٗ)والے معاملے کو بھی اتنی سنجیدگی سے لیا جاتا ہے کہ ہمارے جیسے لوگ حیراں و ششدر رہ جاتے ہیں۔مثلاً بتا رہے تھے کہ کسی کمپنی کے سی ای او (CEO ) کا کوئی قریبی رشتہ دار اس کی کمپنی میں کام نہیں کر سکتا۔ اپنے ملک میں تو کسی کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (CEO ) نہ صرف اپنے قریبی رشتہ داروں کو بلکہ اپنے گاوں کے بے شمار لوگوں کو بھرتی کر کے فخر محسوس کرتے ہیں۔

 

بشکریہ روزنامہ آج