اقبال کا ایک شعر اور قیادت۔4 10

اقبال کا ایک شعر اور قیادت۔4

یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے 
صنم کدہ ہے جہاں، لا الہ الااللہ ،
ھم اقبال کا تصور خودی اس نظم کے پہلے
شعر سے شروع کر چکے اور اب تک کی تفہیم میں تفصیلی بات ھوئی ، دوسرا شعر خودی کے اس سفر کی عملی تصویر ھے ، جب انسان اپنے آپ کو پہچان لیتا ہے اور رب کی معرفت حاصل کر لیتا ہے پھر وہ زمانے کا امام ھوتا ھے ، اس کے شعبے اور اختیارات مختلف ھو سکتے ہیں مگر معرفت کا ہر گز مطلب نہیں ہے کہ آپ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر ایک کونے میں بیٹھ کر اللہ اللہ کرتے رہیں بلکہ گھر سے معاشرے اور معاشرے سے قوم تک ایک امام ہیں ، ایک دوسرے شعر میں علامہ اقبال نے کہا کہ ، 
سبق پھر پڑھ صداقت کا، عدالت کا شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا 
تین خوبیاں اور بڑا نتیجہ سچ اپنے متعلق بولنے کا حوصلہ ، جو سچا ھے وہی عدل و انصاف کر سکتا ہے اور جو عدل و انصاف کرے گا وہ بہادر ھو جائے گا ، کسی چیز کا خوف نہیں رہے گا ، یہ خصوصیات پیدا ھو جائیں تو پھر وہ امام ھے ، قائد ھے ، رہنما ھے ،چاہے گھر ھو یا باہر ، میدان جنگ میں ھو یا حکمران ، دلوں پر حکومت کرتا ہے وہ ایک اور جگہ کہتے ہیں ، 
تو نے پوچھی ھے امامت کی حقیقت مجھ سے 
حق تجھے میری طرح صاحب اسرار کرے 
ہے وہی تیرے زمانے کا امام برحق 
جو تجھے حاضر و موجود سے بیزار کرے 
دے کر احساس زیاں تیرا لہو گرما دے 
فقر کی سان چڑھا کر تجھے تلوار کرے ، 
یہی وہی تیغ فساں ھے ، جو خودی کے درس میں تھی امام برحق کون ہے ، جو ان صبح وشام میں نہ الجھائے بلکہ بڑی منزل کا راستہ دکھائے ،اس کا سب سے بڑا کام احساس زیاں پیدا کرنا ھے ، ہر شخص کے اندر احساس زیاں یعنی ذات کے عرفان اور مقصد تخلیق جان گئے تو پھر کام آسان ہو جائے گا ، دوسرا کام فقر کی سان ھے ، یہ وہ کردار کی مضبوط ڈھال ھو جو امام کے پائے استقلال میں لغزش نہیں آنے دیتا ، اسے کے اندر حرص و ہوس پیدا نہیں ھوتی ، لالچ اس کا راستہ نہیں روک سکتی ، 
اسی لئے علامہ اقبال نے کہا کہ آج کا دور پھر کسی ابراہیم کی تلاش میں ہے جو آزمائشوں سے گھبرائے نہیں بلکہ آگے بڑھتا جائے ، ابراہیم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے جس جس آزمائش سے گذرا وہ ثابت قدم رہے ، خود قرآن میں اللہ نے گواہی دی کہ ھم نے آپ کو ثابت قدم پایا ، اللہ کی پہچان کے لیے سفر شروع کیا تو دوسری طرف بتوں ، سورج ، چاند اور آگ کی پوجا عروج پر تھی ، ابراہیم نے سورج کو ان کے سامنے پرکھا اور کہا کہ یہ بھی غروب ہو گیا ،یہ میرا رب نہیں ھو سکتا ، چاند کو دیکھا اور وہ بھی غروب ہو گیا ، کہا یہ میرا رب نہیں ھو سکتا ، بچپن سے ہی بتوں کو ارد گرد پایا ، ان کی بت شکنی کی اور جب نمرود کی محفل میں جراع ھوئی تو کہا بڑے خدا سے پوچھیں جس کے گلے میں کلہاڑا ھے ، دلیل و فکر میں مشرکین مکمل لاجواب ھو گئے
صنم کدہ ہے جہاں اور مرد حق ھے خلیل 
یہ نکتہ وہ ہے کہ پوشیدہ لا الہ میں ھے 
اس لئے آپ خلیل ٹھہرے ، اسماعیل کی قربانی کا وقت آیا اللہ تعالیٰ کی معرفت کی بڑی منزل تھی نہ بیٹا ڈگمگایا اور نہ ابراہیم پیچھے ہٹے ، مکہ کے صحرا میں ماں اور بیٹے کو اکیلا چھوڑنے کو کہا پیچھے مڑ کر نہ دیکھا ، اور آگ میں گودنا پڑا بے خطر کود پڑے ، آگ گلزار بن گئی ،
آج بھی ھو جو ابراہیم سا ایماں پیدا 
آگ کر سکتی ھے انداز گلستان پیدا 
یہ آزمائش اور ابراہیم کی ثابت قدمی ، استقامت کسی بھی قائد ،لیڈر میں خصوصیت ھو تو وہ قوم کو ، گھر کو ، اور کسی شعبے کو بھی ساتھ لے معراج تک پہنچا سکتا ہے ، علامہ اقبال نے جس زمانے میں یہ کہا تھا اس وقت برصغیر کے مسلمان اور عالمی سطح پر امت کو ایک ایسی ھی قیادت کی ضرورت تھی ، اسی تلاش میں وہ قیادت کے اوصاف بیان کرتے ہیں ، کیونکہ قرون اولیٰ کے مسلم رہنماؤں کے اندر یہ خصوصیات نمایاں تھیں ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی قیادت سے لے کر عمر بن عبد العزیز تک ایک پورا پس منظر ھے ، آپ بالکل محدود پیمانے پر ھی پرکھ لیں ، ایسا قائد ھی معاشروں کو تبدیل کرتا ہے تین مزید اوصاف علامہ اقبال نے گنوائے ، 
۔نگہ بلند ، سخن دلنواز ، جاں پرسوز 
یہی ہے رخت سفر میر کارواں کے لیے 
قائد ایسا ھو جس کی نظر ، سوچ اور منصوبہ بندی دیر پا اور کم از کم ایک صدی تک دیکھ کر اپنی قوم کو تیار کر دے ، یا اتنا وژن ھو کہ آنے والے مناظر کو بھانپ سکے ، اس کی بات میں اثر ھو ، یہ تب ھوتا ھے جب وہ خود آزمائشوں اور قربانیوں کا مرقع ھو اور ان سے گزر چکا ھو ، اور جب اس پر کوئی مشکل آئے ، قوم پر مشکل آئے ، وہ قائد گھبرائے نہ بلکہ اس بھنور سے نکالنے اور خود نکلنے کی صلاحیت رکھتا ھو ، اپنے ارد گرد دیکھیں ایسا کوئی ھے ؟ اس سفر پہ جو بھی نکلے یہ تین اوصاف اور خوبیاں سامان سفر ھونا چاھئے اسی صورت میں وہ میر کارواں ھوگا ، 
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانیاں اور آزمائشیں ایک استعارہ ہیں ، جو رہتی دنیا تک نمردوں کے خلاف برسر پیکار رہنے کے لیے ایک بنیادی منشور ھے ، یہ دور بھی ایسے ہی قائد کی تلاش میں ھے جس سے انصاف اور اخیتار کی منزل حاصل کی جا سکتی ھے ،
آج ہم کہاں کھڑے ہیں، کس کی تلاش ہے؟ ایک ایسے رہنما کی جو داد رسی کرے، زخموں پہ مرہم رکھے، کہ انصاف کرے، ؟ یہ سوالات اس وقت بھی برصغیر کے مسلمانوں تھے، ان کو سر سید ملے، قائد اعظم ملے، کوئی تو ڈھارس بندھنے کے لیے آیا، اب عروق مردہ مشرق میں کون جوش بھرے،؟ صلاحیت اور دیانتداری بھرے؟ ہم گزشتہ کئی سال سے عالمی سطح پر مسلمانوں کی حالت دیکھ کر کبیدہ خاطر ہیں، مگر وسعت نظری کی بجائے، طاقت اور دولت، اقتدار اور قوت کی فکر نے انسانی حقوق و انصاف چھین لیا، اب عوام بھی اسی نہج پہ سوچتے ہیں کہ جو مل جائے سمیٹ لیں، اس بھٹکے ہوئے آہو کو کون سوئے حرم دکھائے گا؟ اہل فکر و دانش یر غمال ہیں، نظریات کی جگہ مفادات نے لے لی ہے، نظریہ رکھنے والا دیوار کے ساتھ یا مٹی کے اندر دفن کر دیا جاتا ہے، نوجوان وہ واحد امید ہوتے ہیں جو مستقبل کی نوید بن کر ابھریں اور دور ابراہیم جیسا علم بلند کرے، جہاں نمرود کو بھی شکست ہو، اس کے لیے کردار اور عمل کو نمونہ بنایا جاتا ہے، اکیلے ہی سفر شروع کیا جاتا ہے اور قافلہ بن جاتا ہے ۔۔۔۔جاری

بشکریہ اردو کالمز

'.$config["ad_footer"].'