محمد خورشید اختر
خودی کا سرِ نہاں لا الہ الااللہ
خود ہے تیغ فساں لا الہ الااللہ ۔
علامہ اقبال کی شاعری رومانوی کم اور مقصدی زیادہ ھے ، جہاں تشبہات اور استعارات کے علاؤہ تمام فنی و فکری خوبیوں کو بہترین انداز میں استعمال کیا گیا ، درس اقبال اور فہم اقبال میں ان کا سب سے بڑا تصور شاعری ، تصور خودی ھے ، جو دراصل تخلیق انسانی کا سب سے بڑا مقصد تھا کہ انسان اپنے آپ کو پہچان سکے ، یہ وہ معرفتِ نفس ھے جو معرفتِ الٰہی تک پہنچاتا ہے ،
یہ اقبال کی تصنیف "ضرب کلیم" کی نظم ھے اور بانگ درا یا اسرار و رموز کے سفر سے یہاں تک اقبال کئی ارتقائی مراحل سے گزرے ہیں اور امتداد زمانہ ھو یا علمی و فکری سفر انسان حقیقت کی تلاش میں سرکرداں رہتا ہے ، اقبال جیسا شخص کس پیج و تاب سے گزرا ھو گا ، اس موج رواں کو خوں خوار مگرمچھوں کے منہ سے اور سخت چٹانوں کی ٹھوکروں سے گزرنا پڑا ھوگا تب جاکر "گہر بنا ھوگا،
غالب نے اسی مضمون کو یوں بیان کیا تھا کہ ،
دام ہر موج میں ہے حلقہ صد کام نہنگ
دیکھیں کیا گزرے ہے قطرے پہ گہر ہونے تک ،
اقبال کے اس سفر میں انہی راستوں سے گزرنا پڑا ھو گا ، یہ سفر اتنا طویل بھی اور صبر آزما بھی اندر کی دنیا کا ایک جاں گسل سفر ھے، جس سے معرفتِ ذات کا بھید کھلتا ہے ، جس کے لیے تلوار تو تیز رکھنی ھے اور وہ بھی مسلسل ، اور تلوار تیز کرنے کے لیے جو پتھر ، جو سان چاہیے وہ ھے ، توحید کا دل و جان سے اقرار اور اذکار ، یہ سان ھے لا الہ الااللہ ، جس نے اپنی تلوار اس سان پہ تیز کی وہ ذات کا ، اللہ تعالیٰ کا عرفان حاصل کر چکا ،
خودی کا سرِ نہاں ، وہی راز ہے جو چھپا ھے ھم سب کے سینے میں ظاہری بینائی نہیں ، یہ سفر شروع ھوتا ھے دل بینا سے ، اور دل بینا اچھی صحبت ، علم و عمل کی یقینی ، استقامت اور سعی مسلسل سے ھوتا ھے ،
میر درر کے مضمون تصوف میں اس بات کو اس طرح بیان کیا گیا کہ ،
مٹ جائیں ایک آن میں کثرت نمائیاں
ھم آئینے کے سامنے جب آ کے ھو کریں۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو تخلیق کیا کہ وہ اپنے اندر کو پہچان کر میری ذات تک پہنچے ، ظاہری دنیا میں ھماری سوچ ، ھماری باتوں اور ھماری زندگی کا مقصد ھمیشہ آنکھوں سے نظر آنے والی چیزیں ہی ہیں ، انسان جب تھک ھار کے ، کسی آزمائش اور سفر کا شکار ھوتا ھے تھوڑی سی نظر اندر پڑتی ہے تو وہ خوف سے کانپ اٹھتا ہے ، جیسے آزمائش دور ھوئی یا ظاہری طور پر خوشحال ھوا ، سب بھول کر پھر سرکشی کے راستے پر نکل جاتا ہے ، حالانکہ وہ الارم ھوتا ھے اندر جھانکنے کا ، یہاں اگر اپنی ذات کی معرفت حاصل کر لی ، آپ کئی صلحا ، اللہ کے نیک بندوں اور فقرا کو دیکھیں اور پڑھیں محض معمولی واقعات نے ان کی زندگی بدل ڈالی ،کئی لوگوں نے بادشاہی کا تاج اتار دیا ، مگر یہ بھی نہیں کہ رہبانیت اختیار کر کے دنیا چھوڑ دی ، بلکہ میرے اور آپ کے بیچ رہے ، پتہ بھی نہیں لگا کہ وہ معرفتِ ذات یعنی معرفتِ الٰہی کے کس درجے پر فائز ہیں ، کوئی محض آذان کی آواز سے اپنے اندر اتر گیا ، کسی نے چیونٹی اور پرندے سے سبق حاصل کر لیا ، کسی نے قرون اولیٰ میں سبز پتے کھا کر سفید دودھ دینے والی بکریوں سے معرفتِ الٰہی حاصل کر لی ، کسی نے دستر خوان پر مہمان کو بلا کر ، حضرت سیدنا بلال حبشی کا واقعہ دیکھیں ، سیلمان فارسی کو پڑھیں ، ابوزر غفاری کا مشاہدہ کریں ، صہیب الرومی کو دیکھیں ، غرض معرفتِ الٰہی کے لیے سفر پہ نکلنا اور صلحاء کے پاس بیٹھنا شرط ھے ،
اقبال جس معرفت ذات کی پہچان خودی کے ذریعے کرواتا ہے اس کا آنا یعنی ego سے تعلق نہیں ہے ، جب کہانی لا سے شروع ھوتی ھے تو پہلے ذات کی نفی ھوتی ھے ، نفی کے بعد اثبات اور پھر معرفتِ ذات آور معرفت الہٰی کا سفر شروع جہاں مدارج ختم نہیں ھوتے ہر دن نیا نظارہ ، نئی منزل ھوتی ھے ، بات اقبال کے ایک شعر سے چلی تھی ، اقبال کے علم کی وسعت بہت زیادہ ہے شرق و غرب دونوں کے علوم اور معاشروں کی تاریخ جانتے ہیں اور قرآن سے تعلق اور عشق مصطفیٰ سے معمور ہیں ، ان ساری باتوں کو ایک طرف رکھ بھی لیں تو انسان کا اعلیٰ منصب تمام مخلوقات پر فضیلت رکھتا ہے ، اللہ تعالیٰ کو معبود ، مالک اور قادر ماننا اللہ کا حق ہے ، البتہ معرفتِ نفس یعنی جسے معرفتِ الٰہی سے تعبیر کیا جاتا ہے ، تخلیق انسانی کا بنیادی مقصد ھے ۔یہی وہ چھپا ہوا راز ہے جسے لا الہ الااللہ کی سان سے تیز کر کے کردار کی تلوار کو تسخیر کے لیے چلانا ہے ، عاجزی اور انکساری ، اخلاق اور کردار اس کے جزو ہیں جن سے معرفتِ الٰہی کا کل بنتا ہے ، یہ تیغ فساں ، صرف اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو نہ صرف ماننا بلکہ اس کی بدولت اندر اتر کر دیکھنا ھے ، سادہ معنوں میں سمجھیں تو خودی کا سرِ نہاں ، یعنی ذات کی پہچان کا راز لا الہ الااللہ میں ھے ، اس کی ضرب لگائیں ، خفیہ پکاریں ، اعلانیہ پکاریں یا اشاروں سے ، راستے ادھر ہی جاتے ہیں ، پھر
دل کے آئینے میں ھے تصویر یار
جب ذرا گردن جھکائی دیکھ لی ،
اس پہلی منزل پر پہنچ جاتا ہے ، ایسے لوگ اللہ کی رضا پر ھمیشہ راضی رہتے ہیں ، یہی اللہ کے دوست ہیں ، وہ صبر ایوب ھو ، آزمائش ابراہیم و اسماعیل ھو ، یا سفر مصطفوی ھو ، سب صبر ، استقامت اور یقین کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں اور شکر کے ساتھ تیز رفتار ھوتے ہیں ، بڑا سادہ مگر اہم شعر ھے اقبال کا ۔
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا خود بندے سے پوچھے ،بتا تیری رضا کیا ہے ،
اس منزل تک پہنچنے کے لیے دنیا میں اس کی رضا پہ راضی ھونا ھوتا ھے پھر وہ خود ھم سب کی رضا پوچھتا ہے ، اللہ کا دیدار ھو یا حقیقت منتظر کا نظر آنا پھر آپ کی مرضی چلے گی ، گویا اقبال کے اس شعر میں خودی کا راز بتایا گیا اور اس کے لیے استعمال ھونے والی تلوار کو تیز کرنے کا سان لا الہ الااللہ بتاتا، ھماری بدقسمتی یہ ہے کہ فہم اقبال نہیں ، اقبال کو محض شاعر اور فلسفی سمجھ کر اس کی فکر کو محدود کر دیا اصل میں اقبال محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور معرفتِ الٰہی کا ایک رہبر ہے ، ایک میر کارواں ھے ، اس سفر پہ نکلنے والے کو راز الوندی سمجھنے کے لیے اقبال نے اپنی لحد کو زیارت گاہ عمل قرار دیا اس مراد قبر نہیں بلکہ فکر اقبال کی فہم ھے ،
(جاری ہے )
15