بعض لوگ نمایاں ہی نہیں منفرد اور حال و مستقبل کے سٹار ہوتے ہیں، ان کی کوشش جستجو اور تحقیق نئی نسل کو راستہ ہی نہیں عظیم منزل سے بھی ہم کنار کرتی ہے، ان کی قدر دانی نہ ہو تو وہ کہیں گرد میں گم ہو جاتے ہیں، قوموں کو زنگ لگ جاتا ہے، نوجوانوں کا سرمایہ ضائع ہو کر علم و تحقیق پر گہرا اندھیرا چھا جاتا ہے ۔ علم و تحقیق کی روشنی دینے والے وہ منفرد لوگ ہوتے ہیں جو اندھیروں کو مٹا کر ایک نئی دنیا پیدا کرتے ہیں، انہی کرداروں میں منفرد مہارت، علم و تحقیق کے مالک ایسوسی ایٹ پروفیسر اور سربراہ کمپیوٹر سائنسز وقاص حیدر بنگیال ہیں جو کوہسار یونیورسٹی مری میں خدمات سر انجام دے رہے ہیں،
وقاص حیدر بنگیال کو حال میں دنیا کو بڑے دو فیصد سائنسدانوں میں شامل کیا گیا ہے، اور عالمی رینکنگ میں یہ پوزیشن حاصل کرنا آسان نہیں جس کے پیچھے بھکر پنجاب سے اٹھ کر یہاں تک پہنچانا ایک لازوال کام ہے، وقاص حیدر بنگیال نے وفاقی اردو یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی لیکن ثابت کیا کہ وہ پاکستان کی خدمت اور نوجوان نسل کے لیے ایک امام کی حیثیت رکھتے ہیں، انہوں نے ہواوے سے لے کر پنجاب آئی ٹی پارک، ای کامرس اور دیگر شعبوں میں نمایاں کام کیا، ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے میرٹ سکالرشپ پہ پی ایچ ڈی کو مکمل کیا اور جدت کے سرخیل ہیں،
ڈاکٹر وقاص حیدر خان بنگیال کا شمار کمپیوٹر سائنس اور مصنوعی ذہانت کے شعبے سے وابستہ پاکستانی اساتذہ و محققین میں ہوتا ہے۔ ان کی نمایاں کامیابیوں میں ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان کی انڈیجینس اسکالرشپ کے تحت پی ایچ ڈی کی تکمیل اور جامعہ گجرات میں دو مرتبہ بہترین فیکلٹی ریسرچ ایوارڈ کا حصول شامل ہے
ڈاکٹر وقاص بنگیال مصنوعی ذہانت، مشین لرننگ، ڈیپ لرننگ، کمپیوٹر وژن اور نیچرل لینگویج پروسیسنگ جیسے جدید شعبوں میں تحقیقی سرگرمیوں سے وابستہ ہیں۔ ان کی تحقیقی شناخت AD Scientific Index اور Rankless جیسے علمی پلیٹ فارمز پر بھی موجود ہے۔ انہیں دنیا کے ممتاز دو فیصد سائنس دانوں (Top 2% Scientists) میں شمار کیے جانے کا اعزاز بھی حاصل ہے، جو ان کی علمی و تحقیقی خدمات کے حوالے سے ایک نمایاں سنگِ میل ہے۔
وہ کوہسار یونیورسٹی مری میں ایسوسی ایٹ پروفیسر کی حیثیت سے اور فیکلٹی آف کمپیوٹنگ اینڈ اپلائیڈ سائنسز کی قیادت اور شعبۂ کمپیوٹر سائنس کی سربراہی سے متعلق ذمہ داریاں بھی نبھا رہے ہیں۔ یونیورسٹی میں سافٹ ویئر انجینئرنگ کے الگ شعبے کے قیام، ایم ایس کمپیوٹر سائنس پروگرام کے فروغ اور جدید ٹیکنالوجی کی تربیتی سہولتوں کی ترقی کے لیے ان کی کوششیں ان کی ادارہ جاتی خدمات کا اہم حصہ ہیں۔
ڈاکٹر وقاص حیدر بنگیال جیسے کم ہی لوگ اور جدت و قدامت کا امتزاج ہوں گے، ایک سٹار، ایک کردار، جیسے آگے بڑھنے کے مواقع ملیں تو مصنوعی ذہانت اور کمپیوٹر سائنسز میں ایک انقلاب بپا ہو سکتا ہے، ہمارے ہاں بدقسمتی سے صلاحیت اور محنت کی قدر کم ہے، اپنے بل بوتے پر یا چند اداروں کی حصہ داری سے جب مایوسی کے بادلوں سے کوئی امید کا ستارا نکلتا ہے تو اسے کن اکھیوں سے دیکھنا شروع کر دیتے ہیں، جو لوگ راہرو منزل ہوتے ہیں انہیں آگے بڑھنے سے روک دیتے ہیں، یہی ہماری تنزلی کی وجوہات ہیں، تشخیص موجود ہے علاج کی ضرورت ہے، مسیحا ہو یا اچھی نیت والا، ایسے لوگوں کو جامع کردار سونپ کر قومی مستقبل بہتر بناتا ہے، آج کتنے سوال ہیں؟ علم و تحقیق کے راستے محدود ہیں اس طرف کون توجہ دے گا، اس مردم خیز مٹی میں ایسے ایسے ہیرے جواہرات موجود ہیں جن کو تراشنے سے مستقبل چمک سکتا ہے ۔ ڈاکٹر وقاص حیدر بنگیال جیسے لوگوں کو روشن سٹار کا جھومر کہیں تو بے جا نہ ہو گا، آپ کے پاس ایک مثال نہیں کئی موجود ہیں، جن کی اپنی محنت اور کوششوں نے ملک کو ایک راستہ عطا کیا، دکھ اس بات کا ہوتا ہے کہ ان کی قدر دانی نہ کی جائے تو مایوسی عود آتی ہے، ہم نے دوران تدریس دیکھا کئی اساتذہ، طلباء وطالبات اور نوجوانوں صرف اس لیے آگے نہیں بڑھ سکے کہ انہیں مواقع نہیں دئیے گئے، وہ یا ملک سے چلے گئے یا مایوسی میں کھو گئے، اب بھی 15 ہزار نوجوان صرف اسلام آباد سے ہر سال گریجویشن کرتے ہیں، نہ روزگار،نہ تحقیق، نہ تربیت اور وہ سارا برین ضائع ہوتا ہے، جن کے پاس سرمایہ ہے وہ ملک سے باہر چلے جاتے ہیں، بند نہ باندھیں مواقع دیں، سائنس، مصنوعی ذہانت، ادب، آرٹ اور دوسرے شعبوں میں یہ نوجوان ملک کو ترقی یافتہ بنا سکتے ہیں، ویسے بھی 65 فیصد سے زائد ابادی نوجوانوں پر مشتمل ہے، جنریشن وائی اور زی مل کر سب بدل سکتے ہیں، یہ کب ہو گا،نہ کوئی پل ہے اور نہ ہی سمت مقرر کی جاتی ہے، یہ صلاحیت یہ سرمایہ اور یہ لگن کہاں جائے گی؟
ڈاکٹر وقاص حیدر بنگیال نے یہ مثال قائم کر دی ہے، ایک پسماندہ علاقے سے اٹھ کر یہاں پہنچنا آسان سفر نہیں ہے، اسی لگن اور کوشش کو کارنامہ کہتے ہیں، ہمارے ہاں ایسے لوگوں کو ایوارڈ یا تمغے ملنے چائیے، وہ ایک استاد بھی ہیں اور ایک نوجوان بھی، پھر مقام پا کر دوسروں کو رغبت دی ہے، ایک سفر کو امید سے روشن کر دیا، اسی روشنی کو سفر کا ذریعہ بنائیں اور آگے بڑھیں کیونکہ ۔
"لیا جائے گا کام تجھ سے دنیا کی امامت کا "
وہ امامت کیا ہوتی ہے، ؟ آپ جس شعبے سے وابستہ ہوں، آپ جہاں ہوں اس کی نمایاں حیثیت میں شامل رہیں گے، ڈاکٹر وقاص حیدر بنگیال آپ کے لیے ایک واضح مثال ہیں
3