فرانس کے کاکروچ ۔۔۔ 0

فرانس کے کاکروچ ۔۔۔

فرانس میں انقلاب کا لوگ سنتے ہیں اور کانپتے بھی ہیں، 1787ء میں شروع ہونے والی بغاوت بالآخر 1804ء میں نیپولین بوناپارٹ کے حکمران بننے سے انجام پائی اور اس کے بعد فرانس کی ایک نئی تاریخ شروع ہوئی جبکہ 1789ء میں عوامی عدالت نے ملکہ کو سزائے موت سنائی اور انہیں موت کے گھاٹ اتار دیا گیا، آج پھر اکتوبر سے فرانس میں مظاہرے شروع ہیں جو طلباء وطالبات نے شروع کی تھی مگر اب سول سوسائٹی، تاجر برادری اور عام کاروباری لوگ بھی شامل ہو گئے، نہ فرانس اس وقت کمزور تھا نہ آج اتنا کمزور ہے لیکن اقتصادی حالت اور مہنگائی فرانس کے انقلاب کا باعث اس لئے بنی تھی کہ آزادی امریکہ کی جنگ میں فرانس کے خزانے خالی ہو چکے تھے اور ٹیکس عائد کر کے بادشاہ نے خزانے بھرنے کی کوشش کی، حالانکہ لوئی چہارم دہم سے عوام بہت خوش تھے، بہت وفاداری تھی مگر لوگ مستقبل سے پریشان تھے، بعض غیر مقبول سیاسی رہنما اہم ہو گئے تھے، کیوں وہ اس وقت عوام کے ساتھ کھڑے ہو گئے تھے، حالانکہ لوگ ان سے بھی خوش نہیں تھے، فرانس ایک مکمل تہذیب و تمدن اور مضبوط ملک تھا، مثالیں دینے کے قابل تھا لیکن وجہ کیا تھی،ماہرین اس بات سے متفق نہیں کہ فرانس اقتصادی طور پر کمزور تھا وہ یہ کہتے ہیں کہ فرانس میں انقلاب کی وجہ اگرچیکہ بظاہر اقتصادی حالت تھی لیکن فرانس اقتصادی طور پر بالکل کمزور نہیں تھا ہاں امریکہ کی آزادی کی جنگ نے اسے ٹیکسوں کی بھرمار اور نوجوانوں کا مستقبل خوفناک بنا دیا تھا، کیا اس وقت کی جنریشن زی مواصلات نظام سے اس طرح آگاہ تھی، بالکل نہیں، سب وسائل ذرائع ابلاغ محدود ہی نہیں بہت کم تھے، آج اگر سوشل میڈیا کو تنقید کا سامنا ہے تو اس وقت کیا چیز نوجوانوں کو مجبور کر رہی تھی، فرانس یورپ کا ایک طرح سے مرکز ہے، بڑے سیاہ دور، نسل پرستی، غربت اور پسماندگی سب کچھ یورپ نے دیکھا لیکن یورپ نے اس سیاہ دور سے روشنی کا دیا روشن کیا، اس سے سبق سیکھا، آج یورپ انسانی حقوق، انصاف اور ترقی کی بنیاد پر کھڑا ہے ۔
گزشتہ ماہ سے فرانس میں مظاہرے اتنے شدید، جلاؤ گھیراؤ اور یہاں تک تاریخی عمارات بھی جلا دی گئیں،صدر نے صرف مظاہرین کو پُرامن رہنے کی درخواست کی ہے، تب 1789ء میں بھی ایک جیل باستیل کے منہدم ہونے سے مظاہرین اور باغی زیادہ غمگین ہوئے، بادشاہ و ملکہ کی حفاظت بھی کی دوبارہ اقتدار بھی دیا مگر بات نہ بنی، آج کا نوجوان دنیا بھر میں انصاف، مہنگائی، روزگار اور بے جا محصولات سے پریشان ہے، چنگاری کی دیر ہوتی ہے، ہزاروں مظاہرین گرفتار ہو چکے ہیں توڑ پھوڑ بھی جاری ہے، مگر حکومت کا تحمّل قابل مثال بھی ہے، آنسو گیس سے اوپر نہیں گئی، کیا کسی نئے انقلاب کی طرف جا رہے ہیں دو صدیاں سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے ۔ دنیا جنگوں اور باہمی تنازعات کا شکار ہے، مشرق وسطی ہو یا روس و یوکرین کی جنگ، اسرائیل کی حمایت و مخالفت، دھشت گردی کی لہر، پریشان سب سے زیادہ نوجوان نسل ہے، جنہیں مستقبل محفوظ اور خوشحال نظر نہیں آتا اسی سے فرسٹریشن، مایوسی بڑھ رہی ہے امن و انصاف سب سے اہم راستہ ہے، فرانس کے انقلاب میں انسانی آزادی اور حقوق مرکزی نقطہ بن گیا تھا، مذہبی، سیاسی اور سماجی آزادی، اقتصادی اور معاشی ترقی، لوئیوں نے چھینا کچھ نہیں تھا، صرف محصولات اور نوجوان کا مستقبل مایوسی میں بدلا تھا۔ آج بھی ایک معمولی جرم میں نکولس سرکوزی جیل کاٹ رہے ہیں اور دوسری طرف ملک مظاہرین کی زد میں ہے جب فرانس کی معیشت کو کوئی خاص نقصان نہیں، قبل اس کے بنگلہ دیش،سری لنکا اور نیپال میں اس طرح کے مظاہرے ہو چکے ہیں وہاں معاشی ابتری تھی، یہاں ایسا نہیں ایک ترقی یافتہ ملک مگر نوجوانوں کو مستقبل غیر محفوظ لگ رہا ہے یہی نوجوان بھارت میں کاکروچ جنتا پارٹی کی صورت میں پہلے وزیر تعلیم کے خلاف نکلے اب چیف الیکشن کمشنر کے خلاف سڑکوں پر ہیں، بھارت میں دو باتوں نے نوجوانوں کو مجبور کر رکھا ہے ایک حکومتی انتہا پسندی اور جنتا پارٹی کی نسل پرستی نے اور دوسرا چند مخصوص طبقات کو نوازنے کی وجہ سے نوجوان اپنے مستقبل سے غیر محفوظ کر رہے ہیں، جہاں بھی ایسا ہو گا 
مشتاق یوسفی نے کہا تھا کہ ہم جارج اور لوئیوں کی تاریخ پڑھ پڑھ کے حافظہ گنوا بیٹھے ہیں، مگر آج لمحوں میں خبریں گھیر لیتی ہیں، لوئی دہم کے خلاف انقلاب آیا تھا تو آج بدلا ہؤا نوجوان پھر سڑکوں پر ہے، 143 سالہ تاریخی سٹی ہال جلا دیا گیا، لوٹ مار کی گئی،مظاہرے پورے ملک میں پھیل گئے، ابھی تک ہلاکتوں کی خبریں نہیں لیکن جلاؤ گھیراؤ اور نقصان بے تحاشا ہو چکا ہے تب لوگ تہ تیغ بھی ہوئے، ابلتے پانی میں بھی جلے آج ترقی یافتہ فرانس مگر بپھرے ہوئے نوجوان سفر کہاں جائے گا؟؟ البتہ یورپ نے سیاہ دور سے جو سبق سیکھا تھا ہم نہیں سیکھ سکے ہمارا مسئلہ اور ہے ہم نے ٹھان لی ہے کہ سبق نہیں سیکھنا، تاریخ کو نہیں بدلنا، ترقی کا راستہ نہیں چننا، امن کو وقت نہیں دینا، نوجوانو مستقبل آپ کے ہاتھ میں ہے، کوئی چاہے یا نہ چاہے آپ ہی سرمایہ ہیں

بشکریہ اردو کالمز