اقبال کا ایک شعر اور معرفت ۔2 9

اقبال کا ایک شعر اور معرفت ۔2

(گزشتہ سے پیوستہ۔ ) 
محمد خورشید اختر 
اقبال کے ساتھ سب سے بڑی بدقسمتی یہ ہوئی کہ وہ گایا گیا ، پڑھا گیا لیکن سمجھا نہیں گیا ، تفہیم اقبال کے لیے ضروری تھا کہ اقبال پہ لکھنے والے آسان زبان میں لوگوں تک بات پہنچاتے مگر انہوں نے بھی فلسفے کو مزید فلسفے ، روحانیت کو بھی فلسفے اور مشکل الفاظ و اصطلاحات کا لباس پہنا کر پیش کیا ، جس سے عام تو دور کی بات خواص کو بھی سمجھ نہیں آئی ، ھم اقبال کے تصور خودی کی بات کر رہے تھے ، اور 
خودی کا سرِ نہاں لا الہ الااللہ 
خودی ہے تیغ فساں لا الہ الااللہ 
کو شروع کیا تھا ، اگرچیکہ تصور خودی اقبال کی فکر کا مرکزی نقطہ ھے ، جس کی عام معانی میں تعریف کریں تو یہ کہا جائے گا ،کہ خودی کا خود غرضی ، تکبر ، غرور اور شخصی گھمنڈ اور آنا سے دور دور کا تعلق نہیں ھے ، یہ محض عرفان ذات ، خوداعتمادی اور تعمیر شخصیت کا نام ھے اسی سے عرفان الٰہی ، اللہ کی پہچان اور معرفت حاصل ھوتی ھے ، آپ اپنے اندر دیکھیں ہی نہ اور کہیں میں عرش پر پہنچ گیا ایسا ممکن نہیں ہے ، اقبال نے ایک اور نظم میں کہا ھے 
اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغ زندگی 
تو اگر میرا نہیں بنتا، نہ بن اپنا تو بن
راستے اور پھر منزل کا پتہ تمہیں اپنے اندر سے ملے گا ، آپ نے یہ حدیث سنی ھوگی کہ انسان اپنے اندر ایک پوری سلطنت رکھتا ھے جس کا وہ حکمران ھے، یہ حُکمرانی خود اعتمادی ، پہچان اور خود داری کے بغیر نہیں ھو سکتی ، ایسا شخص خود اپنا محتسب اور حکمران بھی ھوتا ھے ، اسی خودی سے وہ ظالم کے سامنے کھڑا ھو سکتا ھے ، بکنے جھکنے سے بچ سکتا ہے ، ورنہ ظاہری چمک اور دولت اسے زیر کر لیتی ہے ، ھمارے ہاں منصف ھو یا حکمران خودی کی پہچان نہیں رکھتا ، خود سے دور ھے ، ظاہر کا پجاری ھے ، 
.من کی دولت آتی ہے تو جاتی نہیں 
تن کی دولت چھاؤں ھے ، آتا ہے دھن جاتا ہے دھن
اپنے معاشرے میں آپ بخوبی ملاحظہ کر سکتے ہیں ، کہ شخصی کردار کی خرابی یا خود غرضی ، لالچ اور طمع کی وجہ سے بڑے بڑے عہدوں والے افراد ایسے چھوٹے چھوٹے کام کرتے ہیں کہ انسان حیران رہ جاتا ہے ، اس نے ذات کا عرفان حاصل نہیں کیا ، بس ظاہری اسباب کو سب کچھ سمجھتا ہے ، اور اندھا دھند وسائل اکٹھے کرتے کرتے وقت کا فرعون اور نمرود بن بیٹھتا ہے ، جس سے ظلم غالب اور انصاف مغلوب ہو جاتا ھے ، جس شخص میں اپنی ذات کا عرفان اور راز معلوم ھو وہ راز بے خودی کو بھی بخوبی جانتا ہے وہ قوم میں اترتا ہے تو رہبر و رہنما بن جاتا ہے ، دوسروں کے لیے مثال بن جاتا ہے ، دنیا کے کسی شعبے میں ھو امام ھوتا ھے ، 
جس کے لیے کہا گیا ہے کہ وہ مرد مؤمن کی بھی عملی مثال ھوتا ھے ، یعنی 
کوئی اندازہ کر سکتا ہے اس کے زور بازو کا 
نگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں ، 
خودی کی پہچان رکھنا والا دوسروں کی قسمت بدل دیتا ہے وہ ظاہری اور باطنی دونوں دنیا کا امام ھوتا ھے، 
خودی کی ایک صورت آگہی ھے ، جس کے ذریعے انسان ضمیر کا پاسبان اور حق کا طرف دار ھوتا ھے ، کیا خودی کی منزل حاصل کرنا نا ممکن ھے ، مشکل ہے اور غیر ضروری ہے ،؟ تو ایسا بالکل نہیں ہے کیوں کہ آپ نے معاشرے میں کئی لوگوں کو دیکھیں علم ، دولت ، مرتبے اور ہر چیز سے اللہ نے نوازا ھوتا ھے مگر عاجزی اتنی کہ حیرت ھوتی ھے اور جب کسی کی آزادی چھینی جائے تو مضبوط اتنا کہ پہاڑ مصیبتوں کے بھی اسے ھلا نہیں سکتے ، ظاہری طور پر کئی کمزور آدمی بھی ھو اس نے خودی کی طاقت سے وہ کچھ حاصل کیا ھوتا ھے کہ آپ اسے خرید نہیں سکتے ، آپ ہر روز کے صرف پانچ منٹ روز کہ رکھ لیں اپنی سلطنت اپنے اندر پر غور کریں ، اللہ کی عظمت کو جان لیں گے ، خود کو پہچان لیں گے ، اپنے من میں ڈوب جائیں گے ، زندگی کی بقا اور مقصد تخلیق مل جائے گا ، یہی ہے خودی کا سرِ نہاں لا الہ الااللہ 
یہی وہ راز ھے جس کو جاننے کے لیے اللہ نے انسان کو نیابت دی ، خلافت دی ، اس کے لیے خودی کا تیغ فساں کیا ھے وہ کردار ہے جس سے تلوار خودی تیز ھوتی رہتی ہے ، اس کا ایک ہی راز ہے کہ آپ کے اندر لا الہ الااللہ کی روشنی اور قوت اتر جائے ، غور اور تفکر پہلی شرط ہے ، رات کا آخری پہر ھو اور غور و فکر بھی ھو ، دیکھیے گا تلوار کس طرح تیز ھوتی ھے آپ کو ایسی خوشی ملے گی کہ آپ کے اندر دریا اور سمندر موجزن رہ کر آگے بڑھنے کے لیے موج رواں بن جائیں گے ،
(جاری ہے )

بشکریہ اردو کالمز

'.$config["ad_footer"].'