محمد خورشید اختر
وہ پردیس چلا گیا تھا،یہ 1981ء ہے جب اس نے داؤ میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کیا اور پھر برطانیہ چلا گیا، برطانیہ کے عام سے شہر نیوکیسل فری ہسپتال میں کام شروع کیا ساتھ ھارٹ سرجری کی تربیت بھی حاصل کی، اپنی ملازمت کے دوران اس نے تقریباً 35 سال میں 4 ہزار سے زائد بچوں کی اوپن ھارٹ سرجری اور ھارٹ ٹرانسپلانٹ یعنی پیوند کاری کی، وہ بچے شدید بیمار تھے آج خوش گوار زندگی گزار رہے ہیں، جس کے پیچھے اللہ تعالیٰ نے ڈاکٹر آصف حسن کو وسیلہ بنایا، آج وہ ریٹائرمنٹ لے رہے تھے انہی بچوں میں سے 19 بچے موجود تھے جنہوں نے ڈاکٹر آصف حسن کے ساتھ اسٹیج پر آکر قدر دانی کا اظہار کیا، تصویر کھنچوائی اور انہیں نم ناک آنکھوں کے ساتھ رخصت کیا 70 سالہ آصف حسن کی آنکھوں میں آنسوں اور حال تالیوں سے گونج رہا تھا ۔ آصف حسن پاکستانی نژاد برطانوی شہری ہیں انہیں" پرائیڈ آف برطانیہ" لائف ٹائم اچیومینٹ ایوارڈ سے نوازا گیا اس منظر کو کوئی بھی بھول نہیں سکتا
ہمارے ہاں صلاحیت کی کمی نہیں قدر دانی کی کمی بہت زیادہ ہے۔ فلاح انسانیت کے لیے عبد الستار ایدھی صاحب کا کوئی متبادل نہیں، ڈاکٹر ادیب رضوی صاحب آج بھی موجود ہیں ان کا متبادل نہیں ہے، ڈاکٹر روتھ فاؤ کا نعم البدل نہیں، اسی طرح طب و حکمت کے شعبے ہوں یا تعلیم اور تربیت کے بے مثال لوگ ہیں، آج پاکستان بھر میں غلام رسول پاکستانی، ٹیچر عثمان اور سید عابد گیلانی صاحب جیسے لوگ موجود ہیں جنہوں نے دس لاکھ سے زائد درخت لگائے، درجنوں نرسریاں قائم کیں، کنوئیں کھودے اور ماحول کو بہتر بنانے کیلئے کام جاری رکھے ہوئے ہیں ۔اصل کام یہی ہیں جو دوسروں کو روشنی اور راستہ فراہم کرتے ہیں معاشرہ زندہ رہتا ہے،قومیں مضبوط ہوتی ہیں۔ میں اکثر طلباء وطالبات پڑھاتے ہوئے بات چیت کا موقع ملا ہمیشہ یہی کہا ان کو کہ آپ گھر سے نکل جائیں تو گھر و خاندان کے ترجمان بھی اور عزت بھی ہیں، اسی طرح گلی محلے سے نکل کر باہر جائیں تو اس محلے کی پہچان ہیں، شہر سے نکلیں تو شہر کے اور ملک سے باہر جائیں تو ملک کے سفیر ہیں اچھا کام کریں گے اپنی بھی، خاندان کی بھی اور ملک کی سفارت کاری کریں گے ۔ یورپ میں بے شمار یہاں کے لوگ ہیں جنہوں نے کاروبار، سیاست، سماج اور طب کے شعبے میں نام پیدا کیا، ڈاکٹر حسنات، ڈاکٹر آصف حسن اور کئی ڈاکٹرز ہیں جنہوں نے ملک و قوم کا سر فخر سے بلند کیا، ملک کے اندر بھی ہزاروں ایسے ڈاکٹرز،استاد اور کاروباری شخصیات ہیں یہ قدریں یہاں تیزی سے زوال پذیر ہو رہی ہیں۔
آپ ڈاکٹر ادیب الحسن رضوی کو لے لیں پاکستان کا سب سے بڑا نام اور کام ہے، وہ سندھ انسٹیوٹ آف یورولوجی کے سربراہ ہیں، اس ادارے کو گورنمنٹ کی معاونت حاصل ہے چھ منزلہ یہ ہوسپٹل ایک ٹرسٹ بھی ہے اور پاکستان میں گردے کے امراض میں مبتلا لاکھوں بچوں اور بڑوں کا علاج کر چکے ہیں، ڈاکٹر ادیب رضوی صاحب جب سرکاری ہسپتال میں ملازم ہوئے تو گردے کے امراض میں مبتلا لوگوں کے لیے صرف آٹھ بستر تھے، وہاں انہوں نے نوجوان ڈاکٹرز کی ٹیم بنائی اور اس انسٹیٹیوٹ پہ کام شروع کیا، زمین حکومت سندھ نے دی اور آج مخیر حضرات کی ڈونیشن سے یہ دنیا کا بہترین انسٹیوٹ بن چکا ہے، ایس آئی یو ٹی میں ہر سال گردے کی پیوندکاری کے 544 آپریشن ہوئے اور گزشتہ سال 30 لاکھ گردے کے مریضوں کا مفت علاج ہؤا اس انسٹیوٹ میں گردے کی جدید ترین مشینری کے ذریعے گردے کی پتھری بھی ختم کر دی جاتی ہے، ڈاکٹر ادیب رضوی صاحب کی ٹیم نے سکھر سندھ میں بھی اسی کی دوسری شاخ قائم کر لی، لوگ یورپ جانے کی بجائے اسی انسٹیوٹ کو ترجیح دیتے ہیں، مفت علاج، ڈائیلاسز کی سینکڑوں مشینیں اور ڈاکٹر صاحب کا خود بھی مریضوں کو دیکھنا کیا یہ عظیم انسانی کام نہیں ہے،؟ ڈاکٹر ادیب رضوی صاحب نے 2005،ء کے زلزلے میں آزاد کشمیر آ کر خود ہزاروں لوگوں کا علاج کیا، خود کام کیا اب یہ بڑے ٹرسٹ کی شکل اختیار کر چکا ہے، ایسے لوگوں کا نعم البدل کوئی نہیں ہوتا ۔یہ امام انسانیت ہوتے ہیں، ڈاکٹر آصف حسن نے جن سیکنڑوں بچوں کو ھارٹ سرجری کے بعد ایک زندگی دی ان کا کام کتنا بڑا ہو گا؟ بڑے لوگ انعام کے طور پر ملتے اور سزا کے طور پر اٹھا لیے جاتے ہیں،جب ان کی ناقدری ہو تو سزا شروع، قدر دانی کریں گے تو انعام کی بارش ہوتی رہتی ہے ۔ پاکستان میں لاکھوں لوگ ایسے ہیں جو تعلیم، روزگار اور صحت کے لیے بہت کچھ کر سکتے ہیں مگر توفیق نہیں ہے، بس لالچ، طاقت اور دولت کے لیے جمع کرتے رہتے ہیں تقسیم نہیں کرتے، یہاں تک کہ علم و عبادت میں بھی متکبر ہو چکے ہیں، پہلی ترجیح انسانیت عاجزی ہے، ڈاکٹر ادیب رضوی ہوں یا ڈاکٹر آصف حسن اس عاجزی کا محور ہیں، آج بھی آپ چلے جائیں کہیں ہٹو بچو نہیں آپ ڈاکٹر ادیب رضوی صاحب سے خود چیک اپ کروا سکتے ہیں، اسی طرح آغا خان، شوکت خانم کینسر ہسپتال ایسے ادارے ہیں کہ مریض کو کسی رشتہ دار ساتھ رہنے والے کی کم ضرورت پڑتی ہے خدمت کا معیار اخلاق، سچائی ، کوشش اور استقامت سے شروع ہوتا ہے یہی اللہ کے ولی لوگ ہیں، آپ نے بیعت کرنی ہے یا دعا، یہ دوا دینے والے اصل بابے ہیں، ہمارے ملک میں ایسے اور بھی لوگ مل جائیں گے آپ اور ہم اندر نہیں ڈھونڈتے، جھانکتے نہیں، قریب نہیں دیکھتے ۔ واہ انسانی بابیو، کمال لوگ ہیں آپ، کہاں سے یہ درس انسانیت سیکھا ہم سلام پیش کرتے ہیں ۔ ایک چھوٹا سا کام ماحول کے لیے ٹیچر عثمان نے، سید عابد گیلانی نے شروع کیا جو آج لاکھوں تک پہنچ گیا، کتنے لوگوں نے قدر دانی کی ۔ ٹیچر عثمان پانی اور ماحول کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے بلکہ ناممکن کو ممکن بنا رہا ہے ،ڈیم، دریا، کنوئیں اور گلی محلے کو بھی صاف کیا، لاکھوں درخت اگا دئیے، کسی شہرت کے لیے نہیں پیشن ہے، صلاحیت ہے، ولایت ہے ان لوگوں میں تو انعام سمجھ کر قدر کیجیئے گا
78