دور ابراہیم اور صنم کدہ کا آپس میں ایک رشتہ ھے اور وہ رشتہ تمام اصنام ظاہری اور باطنی کو نیست و نابود کر کے توحید برحق سے انسانیت کو جوڑنا ہے ، حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانے میں ایک نمرود تھا اور باقی اس کی طاقت اور وحشت کو سلام اور سجدہ کرنے والے اس خدا اس سمجھ بیٹھے تھے ، ارد گرد خود حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد آذر بت بنانے والے اور بت فروش بھی تھے ان کا پرچار کرتے اور آن کے سامنے سجدہ کرتے گویا ہر طرف توحید باری تعالیٰ کا مذاق اڑایا جاتا ، حضرت ابراہیم علیہ السلام اس ماحول میں واحد بت شکن اور ایسے قائد بن کر ابھرے کے گھر اور معاشرے کی سختیاں ورثے میں ملیں اپ نے ان سختیوں کا صبر و استقامت اور عشق الٰہی کے جذبے سے مقابلہ کیا ، اسی لئے کہا گیا تھا کہ
بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق
عقل ہے محو تماشائے لب بام ابھی
اور خودی کی پہچان اور تربیت کے بعد اعلان کیا کہ آج کا دور بھی مطالبہ کرتا ہے کہ ایک ایسا قائد ھو جو اپنی ذاتی مفادات ، گروہی اور فرقہ وارانہ سوچ سے نکل کر قوم اور ملت کی رہنمائی کرے ، علامہ اقبال نے کھل کر اعلان کیا کہ سارا جہاں اس وقت پھر صنم کدہ بن چکا ہے ، لوگ طاقت ، ظالم اور جابر نظام کے آگے سجدہ ریز ہیں ، ڈر و خوف سے بھی اور طاقت و دولت کو سب کچھ سمجھ کر سر جھکائے کھڑے ہیں ، ایسے میں عشق الٰہی سے معمور اور توحید ورسالت کے پیروکار بڑے لیڈر کی ضرورت ہے ،
یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے
صنم کدہ ہے، جہاں لا الہ الااللہ
عصر حاضر میں دیکھیں مسلمانوں کی اجتماعی حالت اور بطور پاکستانی قوم سب کا یہی حال ہے ھم صرف طاقت کے آگے سجدہ کرتے ہیں ، دولت کو سلام پیش کرتے ہیں ، آج بیت المقدس ، سمیت مسلم ریاستیں نہ عوام کی ہیں اور نہ ہی واحدانیت کے راستے پر ہیں ، کیونکر حالات بہتر ھو سکتے ہیں ، غداری ، بداخلاقی اور جہالت ھمارا اوڑھنا بچھونا ھے ، آج بھی کوئی جادو دیکھا دے ھم اس کو دل و جان سے سجدہ کر بیٹھتے ہیں ، اللہ تعالیٰ نے قوموں کی تباہی کے سیکنڑوں واقعات بیان کیے ، مگر ھم کسی قسم کی تاریخ اور احکام الٰہی سے فایدہ نہیں اٹھاتے آپ زیادہ دور نہ جائیں برصغیر کی تاریخ ہی پڑھ لیں جان لیں ، کس نے کیا کیا ؟ اپنے اپنے دائرے میں کن رہنماؤں کا کیا کردار تھا اور آج ھم کہاں کھڑے ہیں ؟ آپ کو اقبال کے اس شعر کی سمجھ آ جائے گی ، قیادت بے لوث تب ھوتی ھے کہ جب قومی ضرورت اور مفاد اولین ترجیح ھو یہ اسی صورت ھوتا ھے جب اپنی ذات کی پہچان ہو ، مقصد تخلیق پتہ ھو اور کردار پختہ ہو ، یہ محض الفاظ نہیں ہیں بلکہ مراحل ہیں جن سے گزر کر انسان اپنی اعلیٰ صلاحیتوں اور نیابت یعنی قومی ذمہ داری سے آگاہ ہوتا ہے اس کا نفس خود ہی محتسب بن جاتا ھے ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جو ابتدائی جماعت تیار کی وہ ایک نمونہ ہے کہ دنیا کی کوئی لالچ اسے خرید نہیں سکتی ، مخالف یہ کہے کہ میں آپ کے دائیں ھاتھ پر سورج ، بائیں ہاتھ پر چاند رکھتا ہوں ، حسن و جمال قدموں میں اور زمین تمھارے لئے رکھتا ہوں تم بس یہ پیغام حق چھوڑ دو ، ذرا اپنے اندر کو ٹٹولیں کوئی شخص کیسے اس کو ٹھکرا سکتا ہے ؟ مگر اس دور کا وہ قائد جو حاضر و موجود سے بیزار ہو ، جس کی نظر یعنی وژن دور کا ہو ، جو بات کرے تو دل میں اتر جائے ، جو سخت کوش ھو ، جس کا اخلاق اور سچائی قابلِ مثال ھو ، جس کے اندر وہ آئینہ فٹ ہو جس میں وہ اپنے کو روز دیکھ سکے ،
آپ دور نہ جائیں اپنے ملک و قوم میں ایسے قائد کو پیدا ھوتا دیکھیں پراشوب حالات بدل جائیں گے ، ایک انسان ذات سے معاشرے تک تبدیلی کا سفر جاری رکھے تو قائد بن جاتا ہے ، یا معاشرہ قائد کو تلاش کر لیتا ہے پھر جتنے نمردو آئیں ، شداد و فرعون سد راہ بنیں وہ قائد مقابلہ کرے گا ، اسے اگلی صفوں میں تلاش کریں گے جو ھمیشہ سینہ سپر رہے گا ،
وہ وقت دور نہیں جب تخت و تاج گرا دئیے جائیں گے اور دار و رسن کا خوف مٹ جائے گا ،صنم کدہ ، روشنی اور بصیرت کا
مرکز بن جائے گا جہاں فتح مبین آپ کی منزل بن جائے گی کیونکہ ۔
یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے
صنم کدہ ہے جہاں لا الہ الااللہ ،
لا الہ الااللہ کی طاقت بندہ مؤمن کا ھاتھ بن جائے گی
10