مہمان کالم - عشق، آنسو، صبر اور جرات کی شہزادی  مریم ارشد عشق، آنسو، صبر اور جرات کی شہزادی مریم ارشد

 مریم ارشد
 

یہ کہانی ہے اس جگہ کی جہاں کربلا کا ریگستان سْلگ رہا تھا۔ جہاں سورج کے نیچے سب سے مقدس قافلہ بْھوک، پیاس اور مصیبت کے آگے ڈتا تھا۔ زمین ظلم سے بوجھل ہو چکی تھی۔ جہاں تلواریں انصاف کی بجائے جھوٹی اناوں کے نغمے گا رہی تھیں۔ وہیں ایک خاتون کھڑی تھی۔ تاریخ میں وہ عشق، آنسو، صبر اور جرات کی شہزادی کہلائی۔ اس خاتون نے اپنے دو بیٹے قربان کیے مگر ان کی لاشوں پر آنسو نہ بہائے کیونکہ اسے حسینؑ سے عشق تھا اور حسینؑ کو خدا سے۔ اس کے ہاتھ میں کوئی تلوار نہ تھی مگر اس کا جَری لہجہ دشمن کے قلعے ہلا دیتا تھا۔ اس کی آنکھوں میں وہ چمک تھی جو صرف حق پر یقین رکھنے والوں کی آنکھوں میں چمکتی ہے۔ کربلا کا میدان خون سے رنگین تھا جب امام حسینؑ نے آخری وداع کیا تو زینبؓ کی آنکھوں میں آنسو تھے مگر زبان پر شکوہ نہ تھا۔ وہ علیؓ اور فاطمہؓ کی بیٹی اور حسینؑ کی ہم قدم ہم راز اور ہم سفر بہن تھیں۔ جب اہلِ بیت کو قیدی بنا کر کْوفہ اور شام کے بازاروں سے گزارا گیا تو جناب زینبؓ خاموش نہ رہیں۔ انہوں نے ظلم کے ایوانوں میں خطبہ دیتے ہوئے درو دیوار ہلا دیے۔ اور کہا: ’’اے یزید! تْو سمجھتا ہے کہ تْو نے ہمیں ذلیل کر دیا؟ نہیں! تْو نے جو ظلم کیا وہ تیرے ساتھ جائے گا حق زندہ رہے گا اور حسین ابنِ علیؓ کا نام تا قیامت گْونجے گا‘‘۔ اس دربار میں یزید تکبر کا تاج پہنے شان و شوکت کے ساتھ اپنے تخت پر غرور سے بیٹھا تھا۔ مگر اس کے سامنے کھڑی ایک قیدی عورت کی پْر اعتماد آواز نے تاریخ کو بدل کر رکھ دیا۔ وہ آواز قیامت تک ظالموں کو بے نقاب کرتی رہے گی۔ جناب زینبؓ نے دربار یزید میں اپنے خطبے کا آغاز کیا: ’’سب تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جو کائنات کا مالک ہے جس نے ہمیں علم و حکمت عطا کی اور ہمارے نبی ﷺ کو رحمت بنا کر بھیجا‘‘۔ سوچیے! کیا ایقان اورکیسی توقیر کا نور ہے؟ وہ قیدی عورت جس کے بھائی، بیٹے اور بھانجے سب شہید ہو چکے، جسے دْشمن شہر شہر گھما رہے تھے۔ یزید کو للکارتے ہوئے زینبؓ نے فرمایا: ’’اے یزید آج تْو سمجھتا ہے کہ تْو نے زمین کو ہم پر تنگ کر دیا؟ ہماری عزت خاک میں ملا دی؟ جان لے! تْو نے صرف ظاہری طاقت پائی ہے لیکن سچ کو کبھی شکست نہیں ہوتی‘‘۔ یزید کی آنکھوں میں پہلی بار شکست کا عکس تھا۔ جناب زینبؓ کا یہ انداز نہ صرف سیاسی بیانیہ تھا بلکہ دینی شعور کا اعلیٰ مظہر تھا۔ پھر گویا ہوئیں: ’’اے یزید! تْونے جو کیا وہ ظلم کی انتہا ہے مگر یاد رکھ نہ تْو ہمارے ذکر کو مٹا سکتا ہے اور نہ ہمارے چراغ بْجھا سکتا ہے‘‘۔ یزید کے درباری لرز اْٹھے۔ جب کربلا کی بیبیاں قیدی بنا کر یزید کے دربار میں لائی گئیں تو سب کی نگاہیں زینبؓ پر ٹہر گئیں۔ وہ گویا ہوئیں: ’’اے یزید! کیا تْو سمجھتا ہے کہ حْسینؑ کی شہادت نے ہمیں کمزور کر دیا؟ نہیں! حسینؑ زندہ ہے اور ہمیشہ زندہ رہے گا۔ اس کے لہو نے حق کے چراغ کو ایسا روشن کیا جو رہتی دنیا تک بْجھایا نہیں جا سکتا‘‘۔ آگے فرمانے لگیں: ’’یزید! تیرے دن گنے جا چکے ہیں۔ آج تْو ہنستا ہے، کل تْو روئے گا۔ آج تْو جشن مناتا ہے، کل تو بہ کی گلیوں میں گْم ہو گا کیونکہ اللہ عادل ہے اور ہم اس کی عدالت کے سپرد‘‘۔ جنابِ زینبؓ کی آواز لرز نہیں رہی تھی بلکہ ان کے لہجے میں آسمانوں کی گرج، علیؓ کی جرات فاطمہؓ کی غیرت اور حسینؓ کی قربانی کی خوشبو تھی۔ یزید اس وقت لاجواب ہو چکا تھا۔ جنابِ زینبؓ کے خطبے کے بعد دربار میں سکوت چھا گیا۔ کچھ درباری رو پڑے۔ یزید کو بھی اپنے کیے پر ندامت ہونے لگی۔ یہ تاریخ کا امر لمحہ تھا جب ایک قیدی عورت نے دْکھ، قید اور ظلم کے باوجود فتح کا پرچم لہرا دیا۔ یہ خطبہ تاریخ نہیں بلکہ ہماری اجتماعی اور انفرادی بیداری کا پیغام ہے۔ اگر ہم آج کی عورت کو جنابِ زینبؓ کی سیرت سے سیکھنے کی دعوت دیں تو پہلے یہ انکشاف ہوتا ہے کہ وہ وقت گزر چکا ہے جب عورت صرف دیواروں سے باتیں کرتی تھی۔ مگر اب وہ تحریریں لکھ کر اپنے نظریوں سے انقلاب اٹھاتی ہے۔ لیکن یہاں سوال اْٹھتا ہے عورت کو اپنے حقوق کیسے ملیں؟ تو جواب آتا ہے جنابِ زینبؓ کے کردار سے۔ ان کی زندگی ہمیں بتاتی ہے کہ عورت اگر علم سے روشن ہو، کردار سے معتبر ہو اور اپنے مقصد سے وابستہ ہو تو وہ انصاف کے لیے سچائی کا پرچم سر بلند کر سکتی ہے۔ آج کی عورت باہر تو نکل رہی ہے مگر اندر سے بکھر رہی ہے۔ آج اس کے پاس موبائل تو ہے مگر اپنے دل کی آواز نہیں۔ سمینارز میں بولتی تو ہے مگر جذبات سے عاری ہے۔ وہ قانون بھی جانتی ہے مگر خودی سے واقف نہیں۔ آج کی عورت کو چاہیئے کہ علمِ قرآن، علمِ تاریخ اور علمِ خودی حاصل کرے۔ علم ہی وہ ہتھیار ہے جو عورت کو غلامی کی ظلمتوں سے نکالے گا۔ ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ پردہ صرف لباس نہیں بلکہ ایک ایسا نظریہ ہے جو عورت کو معاشرے کے استحصال سے بچاتا ہے۔ حیا صرف شرم نہیں شعور اور دل کی پاکیزگی ہے۔ عورت کی اصل طاقت اس کی خودی ہے۔ ہمیں بی بی فاطمہؓ کے علم، امّاں خدیجہؓ کی حکمت اور حضرت مریمؑ کے وقار کے ساتھ جینا ہوگا۔ یاربّ ہم عورتوں کو جنابِ زینبؓ کا وقار، بی بی فاطمہؓ کی حیا، حضرت خدیجہؓ کی فراست، حضرت مریمؑ کی طہارت عطا فرما۔ آمین!

بشکریہ روزنامہ آج