چلا ھوں ایک مجرم کی طرح جانب طیبہ۔
نظر شرمندہ شرمندہ ، بدن لرزیدہ لرزیدہ ،
جب میں مکہ سے مدینہ کے لیے عازم سفر ھوا تو اس شعر کی عملی تصویر نمایاں تھی، جہاں نظر شرمندہ اور جسم لرزیدہ ھوتا ھے دو سال ھو گئے مکہ سے آگے کا سفر لکھنے کی ھمت نہیں ھو رہی ، لیکن ایک کسک ہے جو بڑھتی جا رہی ہے ، سو لکھنے کی جسارت کر رہا ہوں ، میں جب بھی عمرے یا حج کا سوچتا تھا ، یہ خیال اور احساس میرے جسم و روح کو جکڑا دیتا تھا کہ مجھ جیسا گنہگار شخص اتنی عظمت اور فضیلت والے شہروں میں قدم کیسے رکھے گا ؟کیا وہ حاضری ھوگی کہ طلبی ؟ پھر رہ رہ کر خیال آتا کہ کاش جسم و روح وہیں کہیں مٹی میں تحلیل ھو جائیں ، ریزہ ریزہ ھو جاؤں اور وہیں سے اٹھایا جاؤں ، یہ ممکن نہیں ھوا اس لئے کہ میری مٹی اس قابل نہیں کہ مدینہ کی مٹی میں گھل مل جائے ،دوسری سوچ غالب رہتی ہے کہ اللہ تعالیٰ سے رو دھو کر معافی مانگی جا سکتی ھے ، لیکن اللہ تعالیٰ نے ایک اور زمہ داری اور قانون پاس کیا ھوا ھے کہ اطاعتِ رسول اللہ ہی دراصل اطاعت خداوندی ھے ، اگرچیکہ کے اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کے لیے پوری کائنات سجا دی ، پھر بھی اس راستے سے آنے کی مہر لگا دی ھے ، اب اتنی بڑی ذات ، اتنے بڑے حسن و جمال ، اتنے بڑے خلق و محبت ، اتنی بڑی سیرت و کردار ، اتنے بڑے خصائل و شمائل کے سامنے کیسے یہ گنہگار آنکھیں ، پراگندہ جسم ، اور میلی روح لے کر حاضری دی جائے ، یااللہ طلبی ھے یا حاضری ، پھر جب یہ یاد آیا کہ آپ تو رحمت اللعالمین ہیں ، جہاں جن و انس ، غرض کائنات کی ہر چیز کو رحمت اور محبت سے نوازا گیا ہے ، وہاں ھماری بھی کوئی صورت نکل آئے گی ،
سو مکہ سے اسی خوف اور خوشی کے ساتھ روانگی کا آغاز کیا ، بس کا سفر تھا اگرچیکہ کے اب ٹرین بھی چلتی ہے ،مگر بس کے سفر میں انتظار کی ایک اور بے تابیِ اور کیفیت ھوتی ھے ، راستے میں مدینہ کی سوچ کے علاؤہ کچھ نہیں آتا ، سڑک ویران راستوں میں اور سفر رواں دواں ھوتا ، چلا ھوا مجرم کی طرح ، یہی احساس ، یہی سوچ اور یہی خیال دامن گیر رہتا ہے۔
مدینہ جانے والی البراق کمپنی کی بس ایک ھوٹل پہ رکی ، ھوٹل اس قدر خستہ حال تھا کہ کوئی چیز کھانے کا دل نہیں کیا البتہ ساتھ فروٹ کی دکان پر پاکستانی کینو دیکھ کر بہت خوشی ہوئی اور لوگ زیادہ تر پاکستانی کینو ہی پسند کر ریے تھے ، یہ دوسری بڑی خوشی تھی ، سعودیہ میں پاکستانی پھلوں میں آم اور کینو بہت پسند کیا جاتا ہے اور آتے ہی مارکیٹ سے غائب ہو جاتا ہے ، دکانوں میں زیادہ تر انڈین پراڈکٹ نظر آتی ہیں ، یہ ھماری بدبختی ھے یا کمزوری کی ھم ان کی خواہش کے مطابق صاف ستھری چیزیں برآمد نہیں کر سکے ، چاول سمیت دیگر کئی اجناس میں پاکستان کا نام چلتا تھا لیکن اب آم اور کینو کی ڈیمانڈ بھی پوری نہیں کر سکتے ، خیر یہ مادی باتیں ھوتی رہتی ہیں ، روح اور دل کے رشتے کے ساتھ ، آج یہ مجرم سوئے طیبہ تھا ، چار پانچ گھنٹوں کے طویل سفر کے بعد ھم مدینہ کی حدود میں تھے ، منظر ھجرت مدینہ کا تازہ ھوگیا ، وہ سواری رسول صلی اللہ علیہ وسلم آنکھوں میں گھوم رہی تھی ، آج بھی وہ بچیاں طلع البدر علینا ، کی صداؤں اور مدینے کے لوگ محبت بھری اداؤں کے ساتھ روح میں نمایاں ھو رہے تھے، حال میں جلد ہی مدینہ کی فضا اور تر و تازہ ھوا احساس ٹھنڈک اور سکون دے رہی تھی ، دور مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مینار ابھرتے نظر آئے ، زباں پر درود شریف کی تسبیح تھی ہی ، یہ کلام بھی جاری ھوگیا کہ ،
جب مسجد نبوی کے مینار نظر آئے
اللہ کی رحمت کے آثار نظر آئے ،
اور اپنے استاد عظیم شاعر کا یہ کلام کہ
کچھ نہیں مانگتا شاہوں سے یہ شیدا تیرا
اس کی دولت ہے فقط نقشِ پا تیرا
پورے قد سے جو کھڑا ھوں تو یہ ہے کرم تیرا
مجھ کو جھکنے نہیں دیتا ہے سہارا تیرا ،
میں یہی سوچتا ہوں کہ ھم جیسوں کے لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم ایسا سہارا ہیں کہ باوجود کوتاہیوں کے یہ گمان پختہ ریتا ھے کہ ھماری بھی امت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے وابستگی ھے۔
"نال شفاعت سرور عالم ،چھٹسی عالم سارا ھو " یہ خیر ھماری پہنچ سے باہر کی بات ہے ، سیدھے سادے اس سے لوگ ہیں ، نیکی کی تلاش میں رہتے ہیں ، توفیق مانگتے رہتے ہیں ، کر کچھ نہیں اس سکتے ، صرف اس کی توفیق سے جو مل جائے ،جیسے ہی مدینہ کی سر زمین پر قدم رکھا جسم و روح پسینہ پسینہ ھوگئی ،پھر کوئی خبر نہیں کہاں ہیں ، ہر گلی سے کوئی جھانک رہا تھا جس سے نور پھوٹ رہا تھا ، جس کا سحر اتنا تھا کہ مجرم سب کچھ بھول چکا تھا کہاں ھوں اور کہاں جانا ہے ،۔۔۔جاری۔۔
227