مغرب کی گستاخیاں، سوچا سمجھا منصوبہ 248

مغرب کی گستاخیاں، سوچا سمجھا منصوبہ

مغرب چالیں چل رہاہے۔ مسلمانوں کو اشتعال دلارہا ہے۔ آزادئ اظہار کے نام پر طنز کے حوالے سے۔ اب سویڈن کے ایک شہر میں ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت اللہ تعالیٰ کی آخری الہامی کتاب اوردنیا کی دو ارب سے زیادہ آبادی مسلمانوں کیلئے ہدایت کے منبع قرآن پاک کی آتش زنی کی کوشش کی گئی ہے۔ اور اسے قانونی جواز بھی فراہم کیا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ مغرب خاص طور پر یورپ کے ملکوں میں ایسی گستاخیاں بار بار کیوں ہوتی ہیں۔ ان کا کچھ نہ کچھ منصوبہ تو ہوگا۔ کیونکہ یہ ترقی یافتہ قومیں کوئی حرکت بھی مقصد کے بغیر نہیں کرتی ہیں۔ مسلمان متحد نہیں ہیں۔حکمران کچھ اور سوچتے ہیں۔ عوام کے جذبات کچھ اور ہیں۔ مغرب اپنے ایک مخصوص معاشرے اور نظام کی تشکیل میں مسلمانوں کی اپنے مذہب اور شعائر سے پختہ وابستگی کو سب سے بڑی رکاوٹ سمجھ رہا ہے۔ اس لیے وہ ان کی اپنےنبی ﷺ سے محبت۔ دین سے وابستگی کو کمزور کرنا چاہتا ہے۔مغرب اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان ان گستاخیوں کو برداشت نہیں کریں گے۔ لیکن مسلمانوں کے حکمران اپنے عوام کی آواز دباتے ہیں۔ سارے حکمران مغرب کے غلام ہیں۔ مسلمانوں کا آپس میں کوئی سیاسی اتحاد ہے نہ سماجی۔ اقتصادی شراکت داری ہے نہ علمی اشتراک۔ یہودیوں نے اپنے لیے تو ’ہولو کاسٹ‘ کا عالمی قانون بنالیا۔ اس کیلئے فلمیں بنائی گئیں۔ نہ جانے کتنی ریاستیں۔ کتنے افراد ’ہولو کاسٹ‘ کے نام پر تباہ و برباد کردیے گئے۔

یورپ والے یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ آزادیٔ رائے یورپی ثقافت کی بنیادی قدر ہے۔ جو طویل جدو جہد کے بعد حاصل ہوئی ہے۔ اسلام ان کی اس قدر کیلئے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ وہاں یہ تنقید بھی بار بار کی جاتی ہے کہ یورپ میں آباد ہونے والی مسلم اقلیتیں یورپ کی ثقافت میں ضم ہونا نہیں چاہتی ہیں۔ ان کا اپنی مذہبی اور علیحدہ شناخت پر اصرار۔ یورپ اور پوری دنیا کے امن کو خطرے میں ڈالے رکھے گا۔

یورپ والے یہ بھی ادراک رکھتے ہیں کہ مسلمان حکمران امیر ہیں۔ انکے سرمائے اوراثاثے یورپ میں ہیں۔ یہ حکمران کبھی یورپ کے خلاف اس حد تک نہیں جائیں گے کہ ان کے بینک بیلنس اور املاک کو خطرہ لاحق ہوجائے۔ او آئی سی ایک دو جذباتی قرار دادیں منظور کرکے ٹھنڈی ہوجائے گی ۔ مسلمان حاکم دولتمند ہیں۔ لیکن مسلمان ملک اور مسلمان عوام غریب ہیں۔ انہیں اپنے ملکوں میں میرٹ پر آگے بڑھنے کے مواقع میسرنہیں ہیں۔عوام اپنے گھریلو حالات بہتر کرنے کیلئےاپنی جان پر کھیل کر یورپ کے کسی ملک میں آباد ہونا چاہتے ہیں۔ اس کیلئے سینکڑوں جوان۔ بحیرہ روم کی ظالم موجوں کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔

مغرب کو جب بھی مسلمان عوام اور مسلمان حکام کے درمیان آگ بھڑکانا ہوتی ہے۔ وہ اس قسم کے جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں۔یہ سلسلہ کب سے جاری ہے۔ ایسی حرکتوں کے خلاف جذباتی مظاہرے۔ پاکستان، بنگلہ دیش، مصر، ترکی، تیونس اور افریقی ممالک میں ہوتے ہیں۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، اومان، قطر میں نہیں ہوتے۔ او آئی سی نے کبھی ایسے گستاخ ملک کا اقصادی بائیکاٹ نہیں کیا اور نہ ہی اسلامی ملکوں کی اس تنظیم نے یہ سوچا کہ مسلمان ملکوں میں معیشت ، تمدن، زراعت، تجارت، مواصلات کو مستحکم کیا جائے۔ مسلمان ملکوں کے مغرور حکمران یورپ میں ہی جاکر پناہ لیتے ہیں۔ یورپ مسلم ملکوں کا سرکاری خزانہ لوٹنے والوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرتا۔ مسلمان آپس میں بٹے ہوئے ہیں۔ اور جب سے دنیا دو بلاکوں میں تقسیم ہوئی ہے۔ مسلم ممالک ان میں سب سے کمزور رہے ہیں۔ کمیونسٹ بلاک تھا یا سرمایہ دار بلاک۔دونوں میں مسلم ممالک کی کوئی اقتصادی حیثیت نہیں تھی۔ اور جب 1974 میں مسلمانوں نے لاہور میں اسلامی سربراہی کانفرنس منعقد کرکے اپنے تیل کو ایک معاشی اور جنگی ہتھیار بنانا چاہا تو اس کانفرنس کے انعقاد کی جرأت کرنے والوں کو مغرب نے اپنے اپنے ملک میں وہاں کی فوج اور وہاں کے لوگوں کے ذریعے مروایا۔شاہ فیصل سے شروع ہونے والا یہ سلسلہ شیخ مجیب الرحمن، ذوالفقار علی بھٹو سے ہوتا ہوا اکیسویں صدی میں لیبیا کے معمر قذافی کی المناک موت پر ختم ہوا۔ آزاد حکمرانوں کے خلاف سازشیں اب بھی جاری ہیں۔ بھارت میں مسلمان بڑی تعداد میں ہیں لیکن اب سیاسی طاقت میں توازن ان کے ہاتھ میں نہیں رہا ہے۔ یہی حال عالمی سیاست میں مسلم ملکوں کا کردیا گیا ہے۔ ہم سمجھنے کی کوشش کریں۔

تمام تر قدرتی وسائل اللہ کی طرف سے دیے جانے کے باوجود پاکستان جیسے ممالک آئی ایم ایف کے محتاج ہیں۔ مصر کا بھی یہی حال ہے۔مسلمان ملکوں میں مغرب کی ان چالوں کو سمجھنے کیلئے کوئی تحقیقی ادارہ کام نہیں کررہا ہے۔ بلکہ مسلمانوں پر نسل در نسل یہ احساس غالب کردیا گیا ہے کہ جدید سائنس، جدید علوم، اب ڈیجیٹل علوم بھی امریکہ اور یورپ کے ہاتھوں میں ہیں۔ یہاں گئے بغیر ان کی یونیورسٹیوں میں پڑھے بغیر مسلمان آگے نہیں بڑھ سکتے۔ سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات اور مصر میں ایسی اعلیٰ علمی درسگاہیں کیوں نہیں ہیں۔ایک اور چال بھی یورپ چلتا ہے کہ جب ایسی کوئی گستاخانہ حرکت ہوتی ہے تو اس کے کارندے مسلمانوں کا اضطراب اور غصّہ اپنے ہی ملکوں کی املاک کی توڑ پھوڑ اور آتشزنی میں نکلوادیتے ہیں۔ افراد اور جماعتیں ایک دوسرے کو طعنہ دیتی ہیں کہ تمہارے منہ سے ایک لفظ نہیں نکلا مذمت کیلئے۔کوئی جماعت باہر کیوں نہیں نکلی۔ مسلمان ملکوں کی اپنی املاک کی تباہی سے سویڈن،ڈنمارک کو کیا فرق پڑتا ہے۔

ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات۔ پاکستان کی مثال سامنے رکھیں اس وقت آئی ایم ایف سے 3ارب ڈالر کا قرضہ منظور کیے جانے پر جشن منایا جارہا ہے۔ یہ قرضہ سود کے ساتھ ملے گا۔ جسے اللہ کے خلاف جنگ قرار دیا گیا ہے۔ سود کی ممانعت قرآن مجید میں بار بار کی گئی ہے۔ ہم اقتصادی طور پر مغرب کے اداروں کے محتاج کیوں ہیں۔ چین نے ساری دنیا سے الگ تھلک رہ کر معاشی کامیابی حاصل کرلی تھی۔ اللہ نے ہمیں اتنے وسائل عطا کیے ہیں۔ ہماری وزارت خزانہ اور اقتصادی ماہرین کو ریکوڈک کیوں نظر نہیں آتا۔ اپنی زرعی زمینیں کیوں دکھائی نہیں دیتی ہیں۔ پاکستان ہو یا دوسرے اسلامی ممالک جب تک وہاں ملک کے اصل مالک یعنی عوام کو اپنی مرضی سے ایسے نمائندے چننے کا حق نہیں دیا جائے گا۔ جو امریکہ اور مغرب کی غلامی سے انکار کرتے ہوں۔ اور جب تک ملک لوٹنے والی اشرافیہ سے لوٹی ہوئی دولت واپس نہیں لی جاتی۔ مسلمان ممالک اقتصادی طور پر مستحکم نہیں ہوتے۔ اس وقت تک یورپ اور امریکہ میں ایسی گستاخیاں ہوتی رہیں گی۔ مسلمان معاشی طور پر طاقت ور ہوکر ’ہولو کاسٹ‘ جیسا قانون اسلام ، قرآن اور رسول اللہ ﷺکیلئے بنوائیں۔ مذمتوں اور مظاہروں سے کچھ نہیں ہوگا۔

مغرب چالیں چل رہاہے۔ مسلمانوں کو اشتعال دلارہا ہے۔ آزادئ اظہار کے نام پر طنز کے حوالے سے۔ اب سویڈن کے ایک شہر میں ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت اللہ تعالیٰ کی آخری الہامی کتاب اوردنیا کی دو ارب سے زیادہ آبادی مسلمانوں کیلئے ہدایت کے منبع قرآن پاک کی آتش زنی کی کوشش کی گئی ہے۔ اور اسے قانونی جواز بھی فراہم کیا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ مغرب خاص طور پر یورپ کے ملکوں میں ایسی گستاخیاں بار بار کیوں ہوتی ہیں۔ ان کا کچھ نہ کچھ منصوبہ تو ہوگا۔ کیونکہ یہ ترقی یافتہ قومیں کوئی حرکت بھی مقصد کے بغیر نہیں کرتی ہیں۔ مسلمان متحد نہیں ہیں۔حکمران کچھ اور سوچتے ہیں۔ عوام کے جذبات کچھ اور ہیں۔ مغرب اپنے ایک مخصوص معاشرے اور نظام کی تشکیل میں مسلمانوں کی اپنے مذہب اور شعائر سے پختہ وابستگی کو سب سے بڑی رکاوٹ سمجھ رہا ہے۔ اس لیے وہ ان کی اپنےنبی ﷺ سے محبت۔ دین سے وابستگی کو کمزور کرنا چاہتا ہے۔مغرب اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان ان گستاخیوں کو برداشت نہیں کریں گے۔ لیکن مسلمانوں کے حکمران اپنے عوام کی آواز دباتے ہیں۔ سارے حکمران مغرب کے غلام ہیں۔ مسلمانوں کا آپس میں کوئی سیاسی اتحاد ہے نہ سماجی۔ اقتصادی شراکت داری ہے نہ علمی اشتراک۔ یہودیوں نے اپنے لیے تو ’ہولو کاسٹ‘ کا عالمی قانون بنالیا۔ اس کیلئے فلمیں بنائی گئیں۔ نہ جانے کتنی ریاستیں۔ کتنے افراد ’ہولو کاسٹ‘ کے نام پر تباہ و برباد کردیے گئے۔

یورپ والے یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ آزادیٔ رائے یورپی ثقافت کی بنیادی قدر ہے۔ جو طویل جدو جہد کے بعد حاصل ہوئی ہے۔ اسلام ان کی اس قدر کیلئے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ وہاں یہ تنقید بھی بار بار کی جاتی ہے کہ یورپ میں آباد ہونے والی مسلم اقلیتیں یورپ کی ثقافت میں ضم ہونا نہیں چاہتی ہیں۔ ان کا اپنی مذہبی اور علیحدہ شناخت پر اصرار۔ یورپ اور پوری دنیا کے امن کو خطرے میں ڈالے رکھے گا۔

یورپ والے یہ بھی ادراک رکھتے ہیں کہ مسلمان حکمران امیر ہیں۔ انکے سرمائے اوراثاثے یورپ میں ہیں۔ یہ حکمران کبھی یورپ کے خلاف اس حد تک نہیں جائیں گے کہ ان کے بینک بیلنس اور املاک کو خطرہ لاحق ہوجائے۔ او آئی سی ایک دو جذباتی قرار دادیں منظور کرکے ٹھنڈی ہوجائے گی ۔ مسلمان حاکم دولتمند ہیں۔ لیکن مسلمان ملک اور مسلمان عوام غریب ہیں۔ انہیں اپنے ملکوں میں میرٹ پر آگے بڑھنے کے مواقع میسرنہیں ہیں۔عوام اپنے گھریلو حالات بہتر کرنے کیلئےاپنی جان پر کھیل کر یورپ کے کسی ملک میں آباد ہونا چاہتے ہیں۔ اس کیلئے سینکڑوں جوان۔ بحیرہ روم کی ظالم موجوں کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔

مغرب کو جب بھی مسلمان عوام اور مسلمان حکام کے درمیان آگ بھڑکانا ہوتی ہے۔ وہ اس قسم کے جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں۔یہ سلسلہ کب سے جاری ہے۔ ایسی حرکتوں کے خلاف جذباتی مظاہرے۔ پاکستان، بنگلہ دیش، مصر، ترکی، تیونس اور افریقی ممالک میں ہوتے ہیں۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، اومان، قطر میں نہیں ہوتے۔ او آئی سی نے کبھی ایسے گستاخ ملک کا اقصادی بائیکاٹ نہیں کیا اور نہ ہی اسلامی ملکوں کی اس تنظیم نے یہ سوچا کہ مسلمان ملکوں میں معیشت ، تمدن، زراعت، تجارت، مواصلات کو مستحکم کیا جائے۔ مسلمان ملکوں کے مغرور حکمران یورپ میں ہی جاکر پناہ لیتے ہیں۔ یورپ مسلم ملکوں کا سرکاری خزانہ لوٹنے والوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرتا۔ مسلمان آپس میں بٹے ہوئے ہیں۔ اور جب سے دنیا دو بلاکوں میں تقسیم ہوئی ہے۔ مسلم ممالک ان میں سب سے کمزور رہے ہیں۔ کمیونسٹ بلاک تھا یا سرمایہ دار بلاک۔دونوں میں مسلم ممالک کی کوئی اقتصادی حیثیت نہیں تھی۔ اور جب 1974 میں مسلمانوں نے لاہور میں اسلامی سربراہی کانفرنس منعقد کرکے اپنے تیل کو ایک معاشی اور جنگی ہتھیار بنانا چاہا تو اس کانفرنس کے انعقاد کی جرأت کرنے والوں کو مغرب نے اپنے اپنے ملک میں وہاں کی فوج اور وہاں کے لوگوں کے ذریعے مروایا۔شاہ فیصل سے شروع ہونے والا یہ سلسلہ شیخ مجیب الرحمن، ذوالفقار علی بھٹو سے ہوتا ہوا اکیسویں صدی میں لیبیا کے معمر قذافی کی المناک موت پر ختم ہوا۔ آزاد حکمرانوں کے خلاف سازشیں اب بھی جاری ہیں۔ بھارت میں مسلمان بڑی تعداد میں ہیں لیکن اب سیاسی طاقت میں توازن ان کے ہاتھ میں نہیں رہا ہے۔ یہی حال عالمی سیاست میں مسلم ملکوں کا کردیا گیا ہے۔ ہم سمجھنے کی کوشش کریں۔

تمام تر قدرتی وسائل اللہ کی طرف سے دیے جانے کے باوجود پاکستان جیسے ممالک آئی ایم ایف کے محتاج ہیں۔ مصر کا بھی یہی حال ہے۔مسلمان ملکوں میں مغرب کی ان چالوں کو سمجھنے کیلئے کوئی تحقیقی ادارہ کام نہیں کررہا ہے۔ بلکہ مسلمانوں پر نسل در نسل یہ احساس غالب کردیا گیا ہے کہ جدید سائنس، جدید علوم، اب ڈیجیٹل علوم بھی امریکہ اور یورپ کے ہاتھوں میں ہیں۔ یہاں گئے بغیر ان کی یونیورسٹیوں میں پڑھے بغیر مسلمان آگے نہیں بڑھ سکتے۔ سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات اور مصر میں ایسی اعلیٰ علمی درسگاہیں کیوں نہیں ہیں۔ایک اور چال بھی یورپ چلتا ہے کہ جب ایسی کوئی گستاخانہ حرکت ہوتی ہے تو اس کے کارندے مسلمانوں کا اضطراب اور غصّہ اپنے ہی ملکوں کی املاک کی توڑ پھوڑ اور آتشزنی میں نکلوادیتے ہیں۔ افراد اور جماعتیں ایک دوسرے کو طعنہ دیتی ہیں کہ تمہارے منہ سے ایک لفظ نہیں نکلا مذمت کیلئے۔کوئی جماعت باہر کیوں نہیں نکلی۔ مسلمان ملکوں کی اپنی املاک کی تباہی سے سویڈن،ڈنمارک کو کیا فرق پڑتا ہے۔

ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات۔ پاکستان کی مثال سامنے رکھیں اس وقت آئی ایم ایف سے 3ارب ڈالر کا قرضہ منظور کیے جانے پر جشن منایا جارہا ہے۔ یہ قرضہ سود کے ساتھ ملے گا۔ جسے اللہ کے خلاف جنگ قرار دیا گیا ہے۔ سود کی ممانعت قرآن مجید میں بار بار کی گئی ہے۔ ہم اقتصادی طور پر مغرب کے اداروں کے محتاج کیوں ہیں۔ چین نے ساری دنیا سے الگ تھلک رہ کر معاشی کامیابی حاصل کرلی تھی۔ اللہ نے ہمیں اتنے وسائل عطا کیے ہیں۔ ہماری وزارت خزانہ اور اقتصادی ماہرین کو ریکوڈک کیوں نظر نہیں آتا۔ اپنی زرعی زمینیں کیوں دکھائی نہیں دیتی ہیں۔ پاکستان ہو یا دوسرے اسلامی ممالک جب تک وہاں ملک کے اصل مالک یعنی عوام کو اپنی مرضی سے ایسے نمائندے چننے کا حق نہیں دیا جائے گا۔ جو امریکہ اور مغرب کی غلامی سے انکار کرتے ہوں۔ اور جب تک ملک لوٹنے والی اشرافیہ سے لوٹی ہوئی دولت واپس نہیں لی جاتی۔ مسلمان ممالک اقتصادی طور پر مستحکم نہیں ہوتے۔ اس وقت تک یورپ اور امریکہ میں ایسی گستاخیاں ہوتی رہیں گی۔ مسلمان معاشی طور پر طاقت ور ہوکر ’ہولو کاسٹ‘ جیسا قانون اسلام ، قرآن اور رسول اللہ ﷺکیلئے بنوائیں۔ مذمتوں اور مظاہروں سے کچھ نہیں ہوگا۔

مغرب چالیں چل رہاہے۔ مسلمانوں کو اشتعال دلارہا ہے۔ آزادئ اظہار کے نام پر طنز کے حوالے سے۔ اب سویڈن کے ایک شہر میں ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت اللہ تعالیٰ کی آخری الہامی کتاب اوردنیا کی دو ارب سے زیادہ آبادی مسلمانوں کیلئے ہدایت کے منبع قرآن پاک کی آتش زنی کی کوشش کی گئی ہے۔ اور اسے قانونی جواز بھی فراہم کیا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ مغرب خاص طور پر یورپ کے ملکوں میں ایسی گستاخیاں بار بار کیوں ہوتی ہیں۔ ان کا کچھ نہ کچھ منصوبہ تو ہوگا۔ کیونکہ یہ ترقی یافتہ قومیں کوئی حرکت بھی مقصد کے بغیر نہیں کرتی ہیں۔ مسلمان متحد نہیں ہیں۔حکمران کچھ اور سوچتے ہیں۔ عوام کے جذبات کچھ اور ہیں۔ مغرب اپنے ایک مخصوص معاشرے اور نظام کی تشکیل میں مسلمانوں کی اپنے مذہب اور شعائر سے پختہ وابستگی کو سب سے بڑی رکاوٹ سمجھ رہا ہے۔ اس لیے وہ ان کی اپنےنبی ﷺ سے محبت۔ دین سے وابستگی کو کمزور کرنا چاہتا ہے۔مغرب اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان ان گستاخیوں کو برداشت نہیں کریں گے۔ لیکن مسلمانوں کے حکمران اپنے عوام کی آواز دباتے ہیں۔ سارے حکمران مغرب کے غلام ہیں۔ مسلمانوں کا آپس میں کوئی سیاسی اتحاد ہے نہ سماجی۔ اقتصادی شراکت داری ہے نہ علمی اشتراک۔ یہودیوں نے اپنے لیے تو ’ہولو کاسٹ‘ کا عالمی قانون بنالیا۔ اس کیلئے فلمیں بنائی گئیں۔ نہ جانے کتنی ریاستیں۔ کتنے افراد ’ہولو کاسٹ‘ کے نام پر تباہ و برباد کردیے گئے۔

یورپ والے یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ آزادیٔ رائے یورپی ثقافت کی بنیادی قدر ہے۔ جو طویل جدو جہد کے بعد حاصل ہوئی ہے۔ اسلام ان کی اس قدر کیلئے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ وہاں یہ تنقید بھی بار بار کی جاتی ہے کہ یورپ میں آباد ہونے والی مسلم اقلیتیں یورپ کی ثقافت میں ضم ہونا نہیں چاہتی ہیں۔ ان کا اپنی مذہبی اور علیحدہ شناخت پر اصرار۔ یورپ اور پوری دنیا کے امن کو خطرے میں ڈالے رکھے گا۔

یورپ والے یہ بھی ادراک رکھتے ہیں کہ مسلمان حکمران امیر ہیں۔ انکے سرمائے اوراثاثے یورپ میں ہیں۔ یہ حکمران کبھی یورپ کے خلاف اس حد تک نہیں جائیں گے کہ ان کے بینک بیلنس اور املاک کو خطرہ لاحق ہوجائے۔ او آئی سی ایک دو جذباتی قرار دادیں منظور کرکے ٹھنڈی ہوجائے گی ۔ مسلمان حاکم دولتمند ہیں۔ لیکن مسلمان ملک اور مسلمان عوام غریب ہیں۔ انہیں اپنے ملکوں میں میرٹ پر آگے بڑھنے کے مواقع میسرنہیں ہیں۔عوام اپنے گھریلو حالات بہتر کرنے کیلئےاپنی جان پر کھیل کر یورپ کے کسی ملک میں آباد ہونا چاہتے ہیں۔ اس کیلئے سینکڑوں جوان۔ بحیرہ روم کی ظالم موجوں کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔

مغرب کو جب بھی مسلمان عوام اور مسلمان حکام کے درمیان آگ بھڑکانا ہوتی ہے۔ وہ اس قسم کے جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں۔یہ سلسلہ کب سے جاری ہے۔ ایسی حرکتوں کے خلاف جذباتی مظاہرے۔ پاکستان، بنگلہ دیش، مصر، ترکی، تیونس اور افریقی ممالک میں ہوتے ہیں۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، اومان، قطر میں نہیں ہوتے۔ او آئی سی نے کبھی ایسے گستاخ ملک کا اقصادی بائیکاٹ نہیں کیا اور نہ ہی اسلامی ملکوں کی اس تنظیم نے یہ سوچا کہ مسلمان ملکوں میں معیشت ، تمدن، زراعت، تجارت، مواصلات کو مستحکم کیا جائے۔ مسلمان ملکوں کے مغرور حکمران یورپ میں ہی جاکر پناہ لیتے ہیں۔ یورپ مسلم ملکوں کا سرکاری خزانہ لوٹنے والوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرتا۔ مسلمان آپس میں بٹے ہوئے ہیں۔ اور جب سے دنیا دو بلاکوں میں تقسیم ہوئی ہے۔ مسلم ممالک ان میں سب سے کمزور رہے ہیں۔ کمیونسٹ بلاک تھا یا سرمایہ دار بلاک۔دونوں میں مسلم ممالک کی کوئی اقتصادی حیثیت نہیں تھی۔ اور جب 1974 میں مسلمانوں نے لاہور میں اسلامی سربراہی کانفرنس منعقد کرکے اپنے تیل کو ایک معاشی اور جنگی ہتھیار بنانا چاہا تو اس کانفرنس کے انعقاد کی جرأت کرنے والوں کو مغرب نے اپنے اپنے ملک میں وہاں کی فوج اور وہاں کے لوگوں کے ذریعے مروایا۔شاہ فیصل سے شروع ہونے والا یہ سلسلہ شیخ مجیب الرحمن، ذوالفقار علی بھٹو سے ہوتا ہوا اکیسویں صدی میں لیبیا کے معمر قذافی کی المناک موت پر ختم ہوا۔ آزاد حکمرانوں کے خلاف سازشیں اب بھی جاری ہیں۔ بھارت میں مسلمان بڑی تعداد میں ہیں لیکن اب سیاسی طاقت میں توازن ان کے ہاتھ میں نہیں رہا ہے۔ یہی حال عالمی سیاست میں مسلم ملکوں کا کردیا گیا ہے۔ ہم سمجھنے کی کوشش کریں۔

تمام تر قدرتی وسائل اللہ کی طرف سے دیے جانے کے باوجود پاکستان جیسے ممالک آئی ایم ایف کے محتاج ہیں۔ مصر کا بھی یہی حال ہے۔مسلمان ملکوں میں مغرب کی ان چالوں کو سمجھنے کیلئے کوئی تحقیقی ادارہ کام نہیں کررہا ہے۔ بلکہ مسلمانوں پر نسل در نسل یہ احساس غالب کردیا گیا ہے کہ جدید سائنس، جدید علوم، اب ڈیجیٹل علوم بھی امریکہ اور یورپ کے ہاتھوں میں ہیں۔ یہاں گئے بغیر ان کی یونیورسٹیوں میں پڑھے بغیر مسلمان آگے نہیں بڑھ سکتے۔ سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات اور مصر میں ایسی اعلیٰ علمی درسگاہیں کیوں نہیں ہیں۔ایک اور چال بھی یورپ چلتا ہے کہ جب ایسی کوئی گستاخانہ حرکت ہوتی ہے تو اس کے کارندے مسلمانوں کا اضطراب اور غصّہ اپنے ہی ملکوں کی املاک کی توڑ پھوڑ اور آتشزنی میں نکلوادیتے ہیں۔ افراد اور جماعتیں ایک دوسرے کو طعنہ دیتی ہیں کہ تمہارے منہ سے ایک لفظ نہیں نکلا مذمت کیلئے۔کوئی جماعت باہر کیوں نہیں نکلی۔ مسلمان ملکوں کی اپنی املاک کی تباہی سے سویڈن،ڈنمارک کو کیا فرق پڑتا ہے۔

ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات۔ پاکستان کی مثال سامنے رکھیں اس وقت آئی ایم ایف سے 3ارب ڈالر کا قرضہ منظور کیے جانے پر جشن منایا جارہا ہے۔ یہ قرضہ سود کے ساتھ ملے گا۔ جسے اللہ کے خلاف جنگ قرار دیا گیا ہے۔ سود کی ممانعت قرآن مجید میں بار بار کی گئی ہے۔ ہم اقتصادی طور پر مغرب کے اداروں کے محتاج کیوں ہیں۔ چین نے ساری دنیا سے الگ تھلک رہ کر معاشی کامیابی حاصل کرلی تھی۔ اللہ نے ہمیں اتنے وسائل عطا کیے ہیں۔ ہماری وزارت خزانہ اور اقتصادی ماہرین کو ریکوڈک کیوں نظر نہیں آتا۔ اپنی زرعی زمینیں کیوں دکھائی نہیں دیتی ہیں۔ پاکستان ہو یا دوسرے اسلامی ممالک جب تک وہاں ملک کے اصل مالک یعنی عوام کو اپنی مرضی سے ایسے نمائندے چننے کا حق نہیں دیا جائے گا۔ جو امریکہ اور مغرب کی غلامی سے انکار کرتے ہوں۔ اور جب تک ملک لوٹنے والی اشرافیہ سے لوٹی ہوئی دولت واپس نہیں لی جاتی۔ مسلمان ممالک اقتصادی طور پر مستحکم نہیں ہوتے۔ اس وقت تک یورپ اور امریکہ میں ایسی گستاخیاں ہوتی رہیں گی۔ مسلمان معاشی طور پر طاقت ور ہوکر ’ہولو کاسٹ‘ جیسا قانون اسلام ، قرآن اور رسول اللہ ﷺکیلئے بنوائیں۔ مذمتوں اور مظاہروں سے کچھ نہیں ہوگا۔

مغرب چالیں چل رہاہے۔ مسلمانوں کو اشتعال دلارہا ہے۔ آزادئ اظہار کے نام پر طنز کے حوالے سے۔ اب سویڈن کے ایک شہر میں ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت اللہ تعالیٰ کی آخری الہامی کتاب اوردنیا کی دو ارب سے زیادہ آبادی مسلمانوں کیلئے ہدایت کے منبع قرآن پاک کی آتش زنی کی کوشش کی گئی ہے۔ اور اسے قانونی جواز بھی فراہم کیا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ مغرب خاص طور پر یورپ کے ملکوں میں ایسی گستاخیاں بار بار کیوں ہوتی ہیں۔ ان کا کچھ نہ کچھ منصوبہ تو ہوگا۔ کیونکہ یہ ترقی یافتہ قومیں کوئی حرکت بھی مقصد کے بغیر نہیں کرتی ہیں۔ مسلمان متحد نہیں ہیں۔حکمران کچھ اور سوچتے ہیں۔ عوام کے جذبات کچھ اور ہیں۔ مغرب اپنے ایک مخصوص معاشرے اور نظام کی تشکیل میں مسلمانوں کی اپنے مذہب اور شعائر سے پختہ وابستگی کو سب سے بڑی رکاوٹ سمجھ رہا ہے۔ اس لیے وہ ان کی اپنےنبی ﷺ سے محبت۔ دین سے وابستگی کو کمزور کرنا چاہتا ہے۔مغرب اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان ان گستاخیوں کو برداشت نہیں کریں گے۔ لیکن مسلمانوں کے حکمران اپنے عوام کی آواز دباتے ہیں۔ سارے حکمران مغرب کے غلام ہیں۔ مسلمانوں کا آپس میں کوئی سیاسی اتحاد ہے نہ سماجی۔ اقتصادی شراکت داری ہے نہ علمی اشتراک۔ یہودیوں نے اپنے لیے تو ’ہولو کاسٹ‘ کا عالمی قانون بنالیا۔ اس کیلئے فلمیں بنائی گئیں۔ نہ جانے کتنی ریاستیں۔ کتنے افراد ’ہولو کاسٹ‘ کے نام پر تباہ و برباد کردیے گئے۔

یورپ والے یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ آزادیٔ رائے یورپی ثقافت کی بنیادی قدر ہے۔ جو طویل جدو جہد کے بعد حاصل ہوئی ہے۔ اسلام ان کی اس قدر کیلئے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ وہاں یہ تنقید بھی بار بار کی جاتی ہے کہ یورپ میں آباد ہونے والی مسلم اقلیتیں یورپ کی ثقافت میں ضم ہونا نہیں چاہتی ہیں۔ ان کا اپنی مذہبی اور علیحدہ شناخت پر اصرار۔ یورپ اور پوری دنیا کے امن کو خطرے میں ڈالے رکھے گا۔

یورپ والے یہ بھی ادراک رکھتے ہیں کہ مسلمان حکمران امیر ہیں۔ انکے سرمائے اوراثاثے یورپ میں ہیں۔ یہ حکمران کبھی یورپ کے خلاف اس حد تک نہیں جائیں گے کہ ان کے بینک بیلنس اور املاک کو خطرہ لاحق ہوجائے۔ او آئی سی ایک دو جذباتی قرار دادیں منظور کرکے ٹھنڈی ہوجائے گی ۔ مسلمان حاکم دولتمند ہیں۔ لیکن مسلمان ملک اور مسلمان عوام غریب ہیں۔ انہیں اپنے ملکوں میں میرٹ پر آگے بڑھنے کے مواقع میسرنہیں ہیں۔عوام اپنے گھریلو حالات بہتر کرنے کیلئےاپنی جان پر کھیل کر یورپ کے کسی ملک میں آباد ہونا چاہتے ہیں۔ اس کیلئے سینکڑوں جوان۔ بحیرہ روم کی ظالم موجوں کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔

مغرب کو جب بھی مسلمان عوام اور مسلمان حکام کے درمیان آگ بھڑکانا ہوتی ہے۔ وہ اس قسم کے جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں۔یہ سلسلہ کب سے جاری ہے۔ ایسی حرکتوں کے خلاف جذباتی مظاہرے۔ پاکستان، بنگلہ دیش، مصر، ترکی، تیونس اور افریقی ممالک میں ہوتے ہیں۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، اومان، قطر میں نہیں ہوتے۔ او آئی سی نے کبھی ایسے گستاخ ملک کا اقصادی بائیکاٹ نہیں کیا اور نہ ہی اسلامی ملکوں کی اس تنظیم نے یہ سوچا کہ مسلمان ملکوں میں معیشت ، تمدن، زراعت، تجارت، مواصلات کو مستحکم کیا جائے۔ مسلمان ملکوں کے مغرور حکمران یورپ میں ہی جاکر پناہ لیتے ہیں۔ یورپ مسلم ملکوں کا سرکاری خزانہ لوٹنے والوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرتا۔ مسلمان آپس میں بٹے ہوئے ہیں۔ اور جب سے دنیا دو بلاکوں میں تقسیم ہوئی ہے۔ مسلم ممالک ان میں سب سے کمزور رہے ہیں۔ کمیونسٹ بلاک تھا یا سرمایہ دار بلاک۔دونوں میں مسلم ممالک کی کوئی اقتصادی حیثیت نہیں تھی۔ اور جب 1974 میں مسلمانوں نے لاہور میں اسلامی سربراہی کانفرنس منعقد کرکے اپنے تیل کو ایک معاشی اور جنگی ہتھیار بنانا چاہا تو اس کانفرنس کے انعقاد کی جرأت کرنے والوں کو مغرب نے اپنے اپنے ملک میں وہاں کی فوج اور وہاں کے لوگوں کے ذریعے مروایا۔شاہ فیصل سے شروع ہونے والا یہ سلسلہ شیخ مجیب الرحمن، ذوالفقار علی بھٹو سے ہوتا ہوا اکیسویں صدی میں لیبیا کے معمر قذافی کی المناک موت پر ختم ہوا۔ آزاد حکمرانوں کے خلاف سازشیں اب بھی جاری ہیں۔ بھارت میں مسلمان بڑی تعداد میں ہیں لیکن اب سیاسی طاقت میں توازن ان کے ہاتھ میں نہیں رہا ہے۔ یہی حال عالمی سیاست میں مسلم ملکوں کا کردیا گیا ہے۔ ہم سمجھنے کی کوشش کریں۔

تمام تر قدرتی وسائل اللہ کی طرف سے دیے جانے کے باوجود پاکستان جیسے ممالک آئی ایم ایف کے محتاج ہیں۔ مصر کا بھی یہی حال ہے۔مسلمان ملکوں میں مغرب کی ان چالوں کو سمجھنے کیلئے کوئی تحقیقی ادارہ کام نہیں کررہا ہے۔ بلکہ مسلمانوں پر نسل در نسل یہ احساس غالب کردیا گیا ہے کہ جدید سائنس، جدید علوم، اب ڈیجیٹل علوم بھی امریکہ اور یورپ کے ہاتھوں میں ہیں۔ یہاں گئے بغیر ان کی یونیورسٹیوں میں پڑھے بغیر مسلمان آگے نہیں بڑھ سکتے۔ سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات اور مصر میں ایسی اعلیٰ علمی درسگاہیں کیوں نہیں ہیں۔ایک اور چال بھی یورپ چلتا ہے کہ جب ایسی کوئی گستاخانہ حرکت ہوتی ہے تو اس کے کارندے مسلمانوں کا اضطراب اور غصّہ اپنے ہی ملکوں کی املاک کی توڑ پھوڑ اور آتشزنی میں نکلوادیتے ہیں۔ افراد اور جماعتیں ایک دوسرے کو طعنہ دیتی ہیں کہ تمہارے منہ سے ایک لفظ نہیں نکلا مذمت کیلئے۔کوئی جماعت باہر کیوں نہیں نکلی۔ مسلمان ملکوں کی اپنی املاک کی تباہی سے سویڈن،ڈنمارک کو کیا فرق پڑتا ہے۔

ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات۔ پاکستان کی مثال سامنے رکھیں اس وقت آئی ایم ایف سے 3ارب ڈالر کا قرضہ منظور کیے جانے پر جشن منایا جارہا ہے۔ یہ قرضہ سود کے ساتھ ملے گا۔ جسے اللہ کے خلاف جنگ قرار دیا گیا ہے۔ سود کی ممانعت قرآن مجید میں بار بار کی گئی ہے۔ ہم اقتصادی طور پر مغرب کے اداروں کے محتاج کیوں ہیں۔ چین نے ساری دنیا سے الگ تھلک رہ کر معاشی کامیابی حاصل کرلی تھی۔ اللہ نے ہمیں اتنے وسائل عطا کیے ہیں۔ ہماری وزارت خزانہ اور اقتصادی ماہرین کو ریکوڈک کیوں نظر نہیں آتا۔ اپنی زرعی زمینیں کیوں دکھائی نہیں دیتی ہیں۔ پاکستان ہو یا دوسرے اسلامی ممالک جب تک وہاں ملک کے اصل مالک یعنی عوام کو اپنی مرضی سے ایسے نمائندے چننے کا حق نہیں دیا جائے گا۔ جو امریکہ اور مغرب کی غلامی سے انکار کرتے ہوں۔ اور جب تک ملک لوٹنے والی اشرافیہ سے لوٹی ہوئی دولت واپس نہیں لی جاتی۔ مسلمان ممالک اقتصادی طور پر مستحکم نہیں ہوتے۔ اس وقت تک یورپ اور امریکہ میں ایسی گستاخیاں ہوتی رہیں گی۔ مسلمان معاشی طور پر طاقت ور ہوکر ’ہولو کاسٹ‘ جیسا قانون اسلام ، قرآن اور رسول اللہ ﷺکیلئے بنوائیں۔ مذمتوں اور مظاہروں سے کچھ نہیں ہوگا۔

بشکریہ انڈپینڈنٹ نیوز