یادداشت میں پتہ نہیں کیا کیا موجود ہے ۔ابھی یونہی بے وجہ میری آنکھوں میں برطانیہ کے کئی منظر گھوم گئے ۔ سوچا چلو انہی کو کالم بنا لیتے ہیں ۔ابھی مجھے سابق برطانوی وزیر خارجہ رابن کک کی بڑبڑاہٹ سنائی دی تھی، وہ کہہ رہا تھا۔’’ مجھے تو سگریٹ کی راکھ کے گرنے کی آواز بھی سنائی دیتی ہے تو بھلاتم کیسے کہتے ہوبرطانیہ عراق سے بہت دور ہے سومجھے گرتے ہوئے بموں کی آوازنہیں سنائی دے گی ۔ نہیں نہیں ۔میں مرتے ہوئے معصوم بچوں کی ڈوبتی ہوئی چیخیںاور ہارتی ہوئی کراہیں نہیں سن سکتا۔ میں انسانی جسموں کے اُڑتے ہوئے لوتھڑے اپنی پلکوں میں نہیں پرو سکتا ۔ نہیں نہیں۔ مائی ڈئیر پرائم منسٹر (ٹونی بلیئر)میرے دِل میںساری عزتیں اور سارے احترام تمہارے لئے ہیں مگرمیں اِس سفر میں تمہاراہم رکاب نہیں ہوسکتا ، بہتر یہی ہے کہ میری وزارت کا قلمدان کسی اور میز پر رکھ دو‘‘۔
پھر میں نے دیکھا کہ کلیئر شارٹ کی آنکھیں سوج گئی ہیں۔وہ دو مئی1997سےاِنٹرنیشنل ڈویلپمنٹ کیلئے سیکریٹری آف اسٹیٹ کے عہدے پر فائز تھی۔ حقوقِ انسانی کی علمبردار اس عورت سے یہ برداشت نہیں ہورہا تھاکہ صرف تیل کے چند سوداگروں کی ایما پر تیل کی تلاش میں لہو کے سمندر کا سفر کیا جائے،وہ بہت چیخی ،بہت روئی ،اس نے ٹیلی وژن کو اپنی آنکھیں بنا لیا اور اخبار کو اپنا لباس ۔ پھر یوں ہوا کہ اُس کی آنکھوں میں مجبوریوں کی سِلائیاں پھیر دی گئیںاور اسکے لباس میں خاردار پیوند لگا دئیے گئے اور اس کے دفتر کی میز پر مایوسی فائل در فائل پھیلتی چلی گئی تو 12 مئی 2003 کے روز اس نے پائوں کی ٹھوکر سے وزارت کی کرسی کو ایک طرف کیااور ہمیشہ کیلئے اپنے ڈرائنگ روم کے صوفے پرآ کر بیٹھ گئی۔
پھر منظر بدلا اور مجھے خیال آیا کہ سابق برطانوی وزیر داخلہ ڈیوڈ بلیکنٹ کی جو آنکھیںبچپن سے دیکھ نہیں سکتی تھیںاُس پر طرفہ تماشا یہ کہ محبت کی روشنی نے انہیںکچھ اوربھی چندھیا دیا تھا ۔ مگر بصارت و بصیرت کی اندھی ساعتوں میں اس نے صرف یہی تو کیا تھا کہ اپنی محبوبہ کے بچوں کی ’’نینی‘‘کے ویزے کی رفتار ذراسی تیز کروادی تھی۔وہ کام جومہینوں میں ہونا تھا ہفتوں میں ہو گیا۔ ذرا سی بات تھی جِس پراس قدر شور اٹھا کہ ہوم آفس کی کنکریٹ سے بنی دیواروں میں شگاف پڑنے لگے۔عمارت ہلتی محسوس ہوئی تواس نے اپنی وزارت کے دفتر کی چابی اپنے آنکھوں والے دوست ٹونی بلیئر کو لوٹا دی اوراپنے کتے کی ڈوری تھام کر اپنے شہرشیفلیڈ آگیاجس کے کسی کونے میں چھُپ کرشاید اس نے اپنی محبت کا سوگ منانا تھا۔پھر مجھے یاد آیا کہ سابق برطانوی ہوم سیکرٹری چارلس کلارک نے اپنی نیندیںاپنے دفتر کی میز پر سجادی تھیںاوراپنے خواب دیواروں پرجگہ جگہ فریم کرا کے لگوا دئیے تھے۔ اس کا بھاری بھرکم بدن بھاگتی ہوئی برطانوی وزارتِ داخلہ کے ساتھ پوری تیز رفتاری سےدوڑتا رہااس کی آنکھیں سرحدوں پرلگائی گئے خار دار تاروںپرگھومتی ہوئی لائٹ کے ہمراہ برطانیہ کے اندر آتے اور یہاں سے باہر جاتے لوگوں کو دیکھتی رہیں۔ آنکھیں تو آخر آنکھیں ہی ہیں پلکیں تو جھپکتی ہی ہیں ، بس اِسی پلک جھپکنے میں کچھ سزایافتہ مجرموں نے اپنی رہائی کے بعد قانونی پیچیدگیوں کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے اپنے آپ کوبرطانیہ کی گلیوں میںبیس سے تیس میل فی گھنٹہ کی رفتار سے فراٹے بھرتی ہوئی زندگی میں چھپا لیا۔ ملک بدری کہاں ممکن تھی ۔ مجرم کون تھا اور سزا کِسے دی گئی۔ ہوم آفس کی اس ذرا سی کوتاہی پرہر برطانوی چارلس کلارک سے استعفیٰ طلب کر چکا تھا۔ٹونی بلیئرخود بھی تو ایک برطانوی شہری تھا آخر کہاں تک صبر سے کام لیتا۔ اُس نے چارلس کلارک کی میز کا قلمدان ا ُٹھا کرکسی اور کے سپرد کر دیا۔
پھر میری آنکھوں میں پیٹر مینڈلسن گھوم گیاسابق برطانوی وزیر تجارت پیٹرمینڈلسن کا شمارٹونی بلیئر کے بہت قریبی دوستوںمیںہوتا ہے ۔ وہی تو تھا کہ جس نے لیبر پارٹی کی سوئی ہوئی آنکھوں میںنیو لیبر کی حکمرانی کاخواب بھر دیاتھا۔ وہ خواب جِس کے گھر گھر بِک جانے سے ٹونی بلیئر کو رہائِش کے لئے 10ڈائوننگ اسٹریٹ کا مکان مِلا تھا۔ آخر پیٹر مینڈلسن کو بھی تو اپنی رہائِش کیلئے ایک مکان کی ضرورت تھی ۔اُسے بھی مکان تو خریدناہی تھا۔ایسا مکان جِس میں آسودگی کے بیڈ روم ہوں، جس کے لائونج میںزندگی کی رعنائیاں سجی ہوئی ہوں اور جو ہائوس آف کامنز کے قریب بھی ہو۔ اب ممبر آف پارلیمنٹ کو اتنی تنخواہ کہاں مِلتی ہے کہ اپنے خوابوں کی تعبیر خرید سکے۔ بس اُس نے بھی وہی کیا جو ایسے حالات میں عام آدمی کرتا ہے ۔ اُدھار مانگ لیا۔ اب اُدھار مانگ لینا کوئی جُرم تو نہیں ہے اور یہ بھی ہر شخص کی خواہش ہوتی ہے کہ کم سے کم یہاں تک کہ نہ ہونے کے برابر سودپربینک اُسے اُدھار کی رقم دے دے۔پیٹر ایک وزیر تھا اُس کے ایک لکھ پتی ایم پی نے بخوشی اُس کی مدد کر دی ،بغیر سود کے ادھاردے دیا۔ منظر کے پسِ منظر میں احسان مندی کے درختوں اور اُن پر حسبِ خواہِش ثمرآجانے کے باعث وزیروں کو مِلنے والا سود کے بغیر ادھار بحث طلب ہوتاہے ۔ اتنی تشہیرہوئی کہ پیٹر مینڈلسن کو اپنے مکان کے عوض اپنی وزارت سے ہاتھ دھونا پڑے ۔ دوست آخر دوست ہوتا ہے۔ ٹونی بلیئر نے بھی حقِ دوستی ادا کرتے ہوئے پیٹر کواگلے سال پھر ایک اور وزارت سے نواز دیا۔ ابھی سال ڈیڑھ ہی گزرا تھا کہ نرم مزاج اور رحم دِل پیٹر نے برطانوی شہریت کے کیس میں کسی کاروباری شخصیت کیلئے ہوم آفِس کوسفارشی ٹیلی فون کر دیا۔ اِتفاق کی بات تھی کہ وہ کاروباری شخصیت ہندوجا جیسے کروڑ پتی کنبے کی تھی جنہوں نے پیٹر ہی کے پروجیکٹ میلینئم ڈوم کے فیتھ زون میں کثیر کفالت کی ذمہ داری بھی اُٹھا رکھی تھی۔ اب بھلا پیٹر کو کیا معلوم تھا کہ اُس کے ذرا سے فون کو اِتنا بڑا جرم سمجھا جائے گا کہ جِس کیلئے خود اُس کا دوست ہی اُسے ملازمت سے فارغ کر دے گا۔سب مقدر کا کھیل ہے ۔ کیا کرسکتا ہے کوئی۔پھر میں نے خود ٹونی بلیئر کو ٹین ڈائون اسٹریٹ سے نکلتے ہوئے دیکھا۔یادداشت میں کئی اور منظر ابھرے مگر کالم میں اس سے زیادہ کی گنجائش نہیں ۔ پلیز ایسے واقعات کا پاکستان کے ساتھ موازنہ کرنے کی کوشش مت کیجئے گا۔ہم کسی اور دنیا کی مخلوق ہیں اور کسی اور زمانے میں رہتے ہیں ۔