سوچنا
میڈیا کا سوئچ آن کریں- یا کسی نجی محفل میں ھوں-ایک جملہ زبان ضد و عام ھے-پاکستان کے لئے مشکل حالات ھیں-یہ بات ھمیں ملک کے صاحب اختیار بتا رھے ھیں- اور اس کے ساتھ پاکستان کی ماضی کی تاریخ دھراتے ہوئے - سابقہ حکومتوں کو موردالزام ٹھہراتے ہیں -جبکہ سابقہ ادوار میں بھی یہ ھی افراد مختلف اشکال میں صاحب اختیار اور اقتدار تھے-اب ملکی بقا کے لئے بےکس اور بےبس عوام سے قربانی مانگ رھے ھیں- اس عوام کے پاس ماسوائے زندگی کی سانس کے کچھ بچا ہی نہیں - وہ بھی ھوا کی صورت میں قدرت کی طرف سے مفت میں مل رھی ھے - عوام نے اپنا سب کچھ ان کے اقتدار کے دوام اور ان کی شاہ خرچیوں کے لئے ادا کر دیا ھے - اب وقتِ آ گیا ھے - پاکستان صاحب اقتدار اور اختیار سے قربانی مانگ رھا ھے - اس ملک نے ان کو نوازا ھے- یہ اپنی مراعات پروٹوکول کے اخراجات اپنی جیب سے ادا کریں--اور اقتدار اور اختیار کو رب سائیں کی نعمت سمجھ کر اس ملک کے لئے کام کریں- میں دعوے سے کہتا ہوں -ملکی حالات مہینوں کے بجائے دنوں میں تبدیل ھو جائیں گے - میرا ملک خودمختار ریاست بن جائے گا - لیکن اب قربانی کا وقت صاحب اختیار آور اقتدار حضرات کاھے- ان حضرات نے آگر اب بھی نہ سوچا تو پھر تاریخ کے تاریک لمحوں میں شامل ہونے میں دیر نہیں-
کمزور معیشت