خان صاحب! ایک یوٹرن اور سہی 206

خان صاحب! ایک یوٹرن اور سہی

کیا عمران خان ملک کی خاطر بھی ایک یو ٹرن لیں گے؟وطنِ عزیز گمبھیر سیاسی اداراتی بحران میں، آئین پاکستان اپنے اپنے مخصوص مفادات کیلئے زیر استعمال، مملکت انارکی کی زد میں ہے۔

پچھلے چند دنوں میں تین واقعات، قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف ریویو پٹیشن پر فیصلہ محفوظ، الیکشن کمیشن کے 14 مئی کے انتخابات پر حکومتی افسران کی طلبی اور سب سے بڑھ کر انتظامی امور پر بل جو ابھی نافذ العمل ہی نہیں ہوا اُس پر 8 رُکنی بینچ کی تشکیل، اللہ تعالیٰ سے گڑ گڑا کر دُعاکہ تینوں معاملات میں عزتِ مآب چیف جسٹس سرخرو رہیں تاکہ ہونی جلدی ہوکر رہے۔ سپریم کورٹ اندر دھینگا مُشتی، مقننہ اور ایگزیکٹو سے ٹکراوپر توہینِ عدالت اور پارلیمان کو صفحہ ہستی سے مٹانے کا عزم بربادی کو تیز کرے گا۔ ماورائے آئین اقدامات کیلئے راہ ہموار ہوچکی ہے۔ پاکستان میں طاقت کا آزمودہ سرچشمہ بذریعہ توپ و تفنگ، اگرکوئی غلط فہمی تو ماضی میں جھانکیں ۔پہلے مرحلے میں سپریم کورٹ پارلیمان اور حکومت ترنوالہ بنیں گے۔ سپریم کورٹ کا اپنا لقمہ اجل بننا مقدر بنے گا ۔ حیف! کیسا موڑ کہ بحران کا حل آئین میں نہ ماورائے آئین میں۔

اسٹیبلشمنٹ نے سپریم کورٹ کی مدد سے وطنی افراط و تفریط اور تصادم کو پروان چڑھایا۔ آج حصول انصاف سے الیکشن تک سب عمرانی پُر تشدد جتھوں کی زد میں ہیں۔ اداروں کی ساکھ متاثر اور متنازع ہو چکی ہے۔ سپریم کورٹ کے انتظامی معاملات پر ترمیمی بل کہ انتظامی اختیارات میں توازن آئے ، وجہ نزاع بن گیا ہے۔ کیا مذاق چیف جسٹس نے اپنی ذات کو فائدہ پہنچانے کیلئے اپنے پسندیدہ ججوں کا 8 رُکنی بینچ تشکیل دے ڈالا۔CONFLICT OF INTEREST پر ہچکچائے نہ شرمائے شاید خاموش پیغام دینا مقصد ہے۔ عمران خان مدت عدت میں شادی سے لیکر توڑ مرو، جھوٹ، مبالغہ یوٹرن سب کچھ بروئے کار لائے۔ وزیر اعظم بننے، وزیراعظم کی پوزیشن برقرار رکھنے اور دوبارہ وزیراعظم بننے کیلئے شعائر، اقدار، اُصول ضابطے سب پامال رکھے۔برملا اعتراف گناہ کیا۔ موصوف اللہ تعالیٰ کی ناراضی مول لینے سے نہ ہچکچائے۔ خان صاحب کی خوش قسمتی کہ جھوٹ ، یوٹرن ، اقدار کی پامالی پرعزت و وقار میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ۔پچھلے ایک سال میں مقبولیت میں دن دونی رات چوگنی ترقی کی ۔

عرصہ سے پاکستان کو ہچکولے کھاتا دیکھ رہا ہوں۔ باوجودیکہ عمران خان سے ذاتی پرخاش ،گِلے شِکوے سب بر طرف رکھے کہ پاکستان خطروں میں گِھرا دیکھا۔ 2019 کے شروع میں نواز شریف سے کوٹ لکھپت جیل 35\40 افراد کی موجودگی میں ملاقات ہوئی تو مختصراً عرض کی کہ ’’میاں صاحب !آج آپ جس جگہ بیٹھے ہیں دو سال بعد عمران خان نے یہیں آپکی جگہ موجود ہونا ہے۔ میری مودبانہ گزارش ، آپ نے عمران خان کی طرح اسٹیبلشمنٹ کا مہرہ بن کر عمران خان کیخلاف استعمال نہیں ہونا‘‘۔ اکتوبر 2020 میں گوجرانوالہ تقریر پر میاں صاحب نے بین یہی پالیسی دہرائی کہ ’’میری دُشمنی عمران خان سے نہیں کہ وہ فقط ایک مہرہ ِ ناچیز، میرا شکوہ شکایت جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید سے کہ آئین اور قانون کی دھجیاں اُڑا کر ریاست کو تباہ و بربادکر دیا ہے‘‘ ؟

ہوسِ اقتدار ، مفادات اور نالائقی نے عمران خان کو اندھا ، مجبوراور بے بس بنائے رکھا۔ عمران خان وقتی فائدہ کیلئے جنرل باجوہ اور جنرل فیض کی حمایت و خوشامد میں ہر حد ٹاپ گئے۔ وطنی شکست و ریخت اور گراوٹ کا سفرپوری شدومد سے ساتھ ساتھ جاری رہا۔سی پیک منصوبہ کے شیلف ہونے کے بعد ، پاکستان کو معاشی طور پر برباد کرنے کا عملی مظاہرہ ایسے وقت میں ہی توشروع ہوا۔ اگرچہ 2021 سے عمران خا ن کیخلاف اسٹیبلشمنٹ فیصلہ کر چُکی تھی کہ اگر’’ ملک بچانا ہے تو عمران خان سے جان چھڑوانا ہو گی‘‘۔

عمران خان کو وزیراعظم بنے ابھی 4 ہفتے گزرے تھے کہ آنے والے تباہ کُن حالات نےپریشان کر دیا۔ عمران خان کے قریبی ساتھی نعیم الحق(مرحوم) چیف آف اسٹاف سے فون پر وقت طے ہوا،اسلام آبادپہنچ کر عرض کی کہ’’عمران خان کو جائز ناجائز اقتدار مل چُکا ہے۔اس سے پہلے کہ ہاتھوں سے کھسک جائے، نوازشریف، زرداری ،فضل الرحمان سے معاملہ فہمی کرنا ہوگی۔ سیاسی جماعتیں ہی عمران خان سیاست کا حفاظتی پشتہ بنیں گی‘‘۔نعیم الحق تقریباً متفق ، شاید عمران خان تک بات پہنچانے سے قاصر رہے ۔

جنوری 2019 میں سیف اللہ نیازی کی عزت بحال ہوئی ، پلک جھپکتے چیف آرگنائزر بھی بنا دیا ۔ موقع غنیمت جانا، بجلی کی کوند ماند اسلام آباد پہنچا۔ سیف اللہ نیازی کیساتھ رات کا کھانا طے تھا۔ نعیم الحق سے ہونے والی گفتگو کا بتایا اور اپنی آمد کا مقصد دُہرایا کہ سیاسی جماعتوں سے معاملہ فہمی ضروری ہے ورنہ سب چُن چُن کر مار ڈالے جائیں گے۔ سیف اللہ نیازی کی سیاسی سمجھ بُوجھ جو عمران خان کا بھی آدھ، صلح کی بجائے جنگ وجدل میں دلچسپی رکھتا تھا۔ میری بات سُنی اَن سُنی کر دی۔ اقتدار کی غیر معمولی طلب نے عمران خان کو PARANOID DELUSIONS کا مریض بنا دیا تھا۔ ہر ہتھکنڈا بروئے کار لانے پر مصر تھے۔

10 اپریل2022کی قیامت خیز رات عمران خان کی طرف سے مجھ سے رائے لی گئی کہ کیا کیا جائے؟ عرض کیا اسپیکر اسد قیصر کو ووٹ کروانے دیں۔ استعفیٰ نہ دیں اور اسمبلی فلور پر عمران خان تاریخی تقریر کر کے اکتوبر 2023 کا الیکشن پلان کریں۔ چند دنوں بعد میرے بیٹے حسان خان نے مجھ سے پوچھا کہ ’’ میرے ماموں کی سیاست کہاں کھڑی ہے؟‘‘ بتا دیا کہ ’’پہلا رائونڈ جیت گیا ہے کہ اپنے نااہل، کرپٹ اور بد ترین دورحکومت سے توجہ ہٹوا کر‘‘ جھوٹے امریکی مراسلہ’’پر توجہ مبذول کروا دی ہے۔اسٹیبلشمنٹ کو آڑے ہاتھوں لے چُکا ہے‘‘۔ اس بیانیہ کا منفی منطقی نتیجہ ایک ہی کہ 6ماہ بعد اسٹیبلشمنٹ نہیں یا پھر عمران خان نہیں‘‘۔6ماہ تو نہیں البتہ 12 ماہ بعد آج مملکت ایسے موڑ پر جہاں عمران خان بمقابلہ اسٹیبلشمنٹ لڑائی اپنے منطقی انجام کے قریب پہنچ چُکی ہے اور مملکت منہ کے بل اوندھی پڑی ہے۔

عمران خان صاحب آپ نے آج تک سارے یوٹرن کے ذریعے اپنے مفادات کو پروان چڑھایا۔ پلیز ایک یوٹرن پاکستان بچانے کیلئے لے لیں۔ اِس یوٹرن سےآپکی مقبولیت میں تو شاید کچھ کمی آئے ، تاریخ کے صفحوں پراَنمٹ بڑا نام و مقام پائیں گے۔ اگر سیاسی جماعتیں فیِ الفور بلا تفریق مل نہیں بیٹھتیں تو پاکستان کے آنے والے کل کا اللہ ہی حافظ ہے۔

بشکریہ جنگ نیوزکالم