تحریر : محمد فہد صدیقی
معروف کالم نگار مرحوم ارشاد احمد حقانی نے کہا تھا کہ "لوگ تو جماعت اسلامی سےنکل جاتے ہیں لیکن جماعت اسلامی ان میں سے نہیں نکلتی" جماعت اسلامی کے بغیر اس ملک کی سیاسی تاریخ نامکمل ہے۔۔ آپ جماعت سےاختلاف کریں یا اس کے حامی ہوں سب ایک بات مانتےہیں کہ یہ دیانت دار لوگ ہیں ۔۔لوگوں کو اصل مسئلہ جماعت کی شخصیات سے نہیں ان کی طرز سیاست سے ہے۔۔۔
عمران خان کے بارے میں بھی یہی کہا جاتا تھا کہ لوگ ان کو چندا تو دیتے ہیں لیکن ووٹ نہیں دیتے ہیں لیکن ایک طویل جدوجہد کے بعد پی ٹی آئی نے خود کو اس قابل بنایا ہے کہ لوگ اب چندے کے ساتھ انہیں ووٹ بھی دیتے ہیں۔۔ جماعت اسلامی کو بھی یہی مسئلہ درپیش تھا جو اب ایسا لگ رہا ہے کہ صرف ایک شخصت کی وجہ سے حل ہورہا ہے اور وہ شخص حافظ نعیم الرحمن ہیں۔۔
حافظ نعیم الرحمن نے جماعت اسلامی کو عوام کے سامنے اس طرح پیش کیا ہے جس کی لوگوں کو توقعات تھی۔۔کچھ لوگوں کو اعتراض ہے کہ حافظ نعیم الرحمن نے جماعت اسلامی کے اصل نظریے کو پیچھے چھوڑ دیا ہے اور ایک نئی جماعت اسلامی کو سامنے لے کر آگئے ہیں تو ان کی خدمت میں عرض یہ ہے کہ حافظ صاحب نے وقت کی نبض پر ہاتھ رکھا ہے اور جماعت اسلامی کو وہ عوامی رنگ دیا ہے جس کی اس کو ضرورت تھی۔۔
افسوسناک صورتحال یہ تھی کہ جماعت اسلامی کو صرف ایک مخصوص طبقے تک محدود کردیا گیا تھا۔ یہ ایک سیاسی جماعت سے زیادہ مبلغوں کی جماعت زیادہ بن گئی تھی جو عوام کوصرف نصیحت کرنے تک محدود تھے اور اسی وجہ سے عوام اس سے دور ہورہے تھے۔۔جماعت اسلامی جمود کا شکار تھی اور اسے ایک ایسے شخص کی ضرورت تھی جو اس میں دوبارہ تحرک پیدا کرے۔۔
حافظ نعیم الرحمن کے امیر جماعت اسلامی کراچی بننے کے بعد لوگوں نے محسوس کرنا شروع کیا کہ جماعت اسلامی نامی ایک جماعت بھی ہے جسے ہم بھولے بیٹھےہیں وہ بھی کبھی اس شہر کی اسٹیک ہولڈر رہی ہے۔۔ حافظ نعیم الرحمن نے جماعت اسلامی کو ادارہ نور حق کے اجلاسوں تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسےعوام کے سامنے ایک قابل قبول شکل میں سامنے لے کر آگئے۔
حافظ نعیم الرحمن نےجماعت اسلامی کے پلیٹ فارم سےکراچی کو اون کرنا شروع کیا۔۔ شہر کے ہر مسئلے پر وہ سب سے آگے آکر کھڑے ہوگئے۔۔"حق دو کراچی کو" تحریک شروع کردی گئی اور پھر لوگوں کو ہر طرف جماعت اسلامی ہی نظر آنے لگی۔۔یہ ایک نئی جماعت اسلامی تھی جو ہر طبقہ فکر کے لیے قابل قبول تھی۔۔آپ یوں کہہ لیں کہ حافظ نعیم الرحمن نے جماعت اسلامی کو اس کے خول سے باہر نکالا اور اسے عوام کے سامنے پیش کردیا۔۔یہ بدلی ہوئی جماعت اسلامی لوگوں کو سمجھ میں آنے لگی اور جب ایک عام آدمی بھی یہ بات کہنے لگا کہ کچھ بھی ہو جماعت اسلامی لوگوں کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے تو اسی دن سے سمجھ میں آنے لگا تھا کہ حافظ نعیم الرحمن کا طرز سیاست کراچی کے لوگوں کو بہاگیا ہے۔
کراچی کے بلدیاتی انتخابات میں جماعت اسلامی کی کامیابی کوئی معجزہ نہیں بلکہ ایک شخص اور اس کی ٹیم کی محنت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔۔یہ ایک بدلی ہوئی جماعت اسلامی ہے جو ترانے بھی بناتی ہے، کرکٹرز اور شوبز کے افراد سے بھی رابطے میں رہتی ہے اورسوشل میڈیا کے ذریعے نوجوانوں کو بھی راغب کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔۔جماعت اسلامی کو اس تبدیلی کی تلاش گزشتہ تیس سال سے تھی۔ حافظ نعیم الرحمن نے عملی طور پر بتایا ہے کہ زمانے کے انداز بدلے گئے ہیں اس لیے اب راگ بھی بدلنے ہوں گے۔۔اس وقت پوری جماعت اسلامی کو اسی طرز سیاست کی ضرورت ہے جس کی داغ بیل کراچی میں حافظ نعیم الرحمن نے ڈال دی ہے۔۔اس سے کسی کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔۔کسی کو اگر یہ خوف ہے کہ یہ کوئی "لبرل جماعت اسلامی" ہے تو وہ بلدیاتی الیکشن کی فتح کے بعد حافظ نعیم الرحمن کے "انقلاب انقلاب اسلامی انقلاب " کے نعرے سن لے۔۔
حافظ نعیم الرحمن کی جماعت اسلامی