تحریر: جاوید انتظار 31 دسمبر کو اسلام آباد میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات عوامی امنگوں سے متصادم اسلام آباد بلدیاتی قانون ترمیمی بل کے ذریعے ملتوی کردیے گئے۔الیکشن کمیشن آف پاکستان کی طرف سے انتخابات کی تیاریاں مکمل ہو چکی تھیں۔ بلدیاتی امیدواران کے کاغذات نامزدگی منظور اور جمع ہو چکے تھے۔انتخابی نشان الاٹ ہو چکے تھے۔بیلٹ پیپر چھپ چکے تھے۔ پریذائڈنگ اور دیگر عملے کی ڈیوٹیوں اور ٹریننگ کا عمل مکمل ہو چکا تھا۔ بلدیاتی امیدواران نوے فیصد انتخابی مہم چلا چکے تھے۔الیکشن کمیشن بیلٹ پیپرز کی چھپائی اور دیگر انتخابی امور پر عوام کے خون پسینے کے کروڑوں روپے خرچ کر چکا تھا۔101 یونین کونسلز میں سیاسی جماعتوں کے نامزد، غریب اور متوسط طبقے کے آزاد امیدواران اپنے محدود مالی وسائل سے انتخابی مہم پر اپنے کام کاج چھوڑ کر اربوں روپے خرچ کرچکے تھے۔بلدیاتی انتخابات سے 11 دن پہلے قومی اسمبلی اور اگلے روز رات کے اندھیرے میں سینٹ سے اسلام آباد بلدیاتی قانون ترمیمی بل پاس کر دیا گیا۔ جس میں آبادی کے تناسب سے یونین کونسلز کی تعداد 101 سے بڑھا کر 125 کرنے اور مئیر اور ڈپٹی مئیر کے براہ راست انتخاب کی شق شامل کردی گئی۔اس سارے عمل میں صدر پاکستان کے پاس یکم جنوری 2023 تک دستخط کرنے کا وقت تھا۔ صدر پاکستان کے پاس بل کو نظر ثانی کے لیے واپس بھیجنے کی گنجائش موجود ہے۔ جس میں دس دن مزید مل سکتے ہیں۔اس سارے قانونی عمل میں عوام کے ذہنوں میں کئی سوالات نے جنم لیا۔ کیا الیکشن کمیشن غیر جانبدار ہوکر شیڈول کے مطابق انتخابات کروا سکتا تھا؟ حکومت اور پارلیمنٹ کو دوران انتخابات ترمیمی بل پاس کرنے کی کیا جلدی تھی؟کیا دو مہینے کے اندر اسلام آباد کی آبادی اتنی بڑھ چکی کہ یونین کونسلز کی تعداد میں اضافہ کیا جائے؟کیا یونین کونسلز کی تعداد سے ووٹرز کی تعداد کم یا زیادہ ہو جائے گی؟ ملک میں پارلیمانی نظام حکومت کی طرح چیئرمینوں کی اکثریتی رائے سے مئیر منتخب نہیں کیا جاسکتا؟ کیا لوئر مڈل، مڈل اور اپر مڈل کلاس مئیر کا انتخاب لڑ سکتی ہے؟ بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کے اصل محرکات کیاتھے؟ تحریک انصاف اپنے دور حکومت، اب ن لیگ بشمول پیپلر پارٹی اور دیگر جماعتوں کی اتحادی حکومت بلدیاتی انتخابات سے اجتناب کیوں کر رہی ہے؟ بلدیاتی انتخابات میں دو سال کی تاخیر کے بعد اب مذید تاخیر کا سبب کیا ہے؟ ان سوالات کے بارے میں اسلام آباد کی عوام کیا سوچتی ہے۔اس سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ 2015 میں سپریم کورٹ کے حکم پر ہونے والے انتخابات سے بننے والی مقامی حکومت میں بھی بلدیاتی نمائندوں کو اختیارات منتقل نہیں کیے گئے۔نہ کوئی تنخواہ نہ سہولیات اور نہ ہی فنڈز جاری کیے گئے۔ یہ سوالات،منطق،حقائق اور دلائل کرپٹ سیاسی کی نشاندہی کرتے ہیں۔ جس میں نوے فیصد اکثریتی غریب اور متوسط طبقہ کو جو ہر پارٹی اور ہر لیڈر کو بناتا ہے۔ انتخابی سیاست سے کان پکڑ کر باہر نکال دیا جاتا ہے۔ ایک منظم سازشی منصوبے کے تحت سیاست کو پیسے کی لونڈی بنا دیا گیا۔ گراس روٹ لیول کی مسائل زدہ اکثریتی اور حقیقی لیڈرشپ کا جمہوری اور سیاسی قتل کیا جارہا ہے۔ عوام کے خون پسینے سے پلنے والی اسٹیبلشمنٹ،بیوروکریسی اور مٹھی بھر جاگیردار سرمایہ دار طبقہ سنگھاسن اقتدار پر قابض ہیں۔ موجودہ اسلام آباد بلدیاتی قانون ترمیمی بل اسکی تازہ ترین روشن مثال ہے۔ جس کے ذریعے جمہوریت کی نرسری کی جڑوں میں گرم پانی ڈال کر بنجر کرنے کی سازش کی گئی۔ مقامی قیادت اور رائے عامہ کی تذلیل کی گئی۔ترمیم محض اس لیے کی گئی کہ حکومت کو سرویز اور ایجنسیز کی رپورٹس سے علم ہو چکا تھا وہ مقامی حکومت بنانے میں ناکام اور تحریک انصاف کامیاب ہو جائے گی۔جس سے آنے والے قومی انتخابات پر فرق پڑے گا۔ تاہم بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے اس حمام میں سارے ننگے ہیں۔ حکومت اور پارلیمنٹ کے وجود میں چھپے ہوئے ڈر اور خوف پر مبنی بنائے گئے بلدیاتی قانون ترمیمی بل کو وفاقی دارالحکومت کی عوام نے نفرت سے یکسر مسترد کردیا ہے۔یہاں تک کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے بلدیاتی امیدواروں نے بھی تسلیم نہیں کیا۔لیکن انہوں نے پارٹی رکنیت ختم ہونے کے ڈر سے مجرمانہ خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔عوام کو جمہوریت کے لبادے میں چھپے ہوئے آمریت کے نظام کے خلاف چپ کا روزہ توڑنا ہوگا۔اپنے جمہوری اور آئینی حقوق کے لئے سیاسی مصلحتوں سے بالاتر ہو کر زوردار آواز اٹھانی ہو گی۔اسلام آباد کا باشعور غالب اکثریتی طبقہ حق بات پر ڈٹ کر پورے ملک کے لیے قابل تقلید مثال قائم کر سکتا ہے۔اللہ تعالی ہم سب کا حامی و ناصر ہو آمین۔
بلدیاتی ترمیمی بل کالا قانون