. الوداع پروفیسر شعیب ھاشمی 283

. الوداع پروفیسر شعیب ھاشمی

3. یہ 2003ء کی بات ہے ، پی ٹی وی لاھور سے ایک پروگرام چلتا تھا جس کا نام "خواتین ٹائم" تھا یہ پروگرام دن دس بجے چلا کرتا تھا اور کافی مقبول پروگرام تھا ھم اسے اسلام آباد میں ریکارڈ کرتے اور کچھ حصہ اور کمرشل نکال کر دو بجے دوبارہ چلاتے تھے ، اس سلسلے میں میڈم منزہ ہاشمی سے ٹیلی فون پر بات ھوتی ریتی تھی ، پروگرام کے بارے میں ھدایات دیتیں وہ اس وقت لاھور سینٹر میں پروگرام مینجر کے فرائض انجام دے رہی تھیں، مجھے اتنا معلوم تھا کہ وہ ممتاز و معروف شاعر فیض احمد فیض کی بیٹی ہیں ، اگرچیکہ میں پروفیسر شعیب ھاشمی صاحب کے ڈراموں اور طنز و مزاح کے خوبصورت جملوں سے واقف تھا لیکن یہ معلوم نہ تھا کہ وہ فیض احمد فیض کے داماد ہیں یہ عقدہ اس وقت کھلا جب جب میڈم منزہ ہاشمی ڈائریکٹر پروگرام بن کر اسلام آباد آئیں انہوں دنوں آزاد کشمیر میں اے جے کے ٹی وی چینل بن رہا تھا، جن کے لئے کیے گئے انٹرویوز میں، میں بھی شامل تھا، میڈم منزہ ہاشمی صاحب نے میرا انٹرویو بھی کیا یوں دیگر ضروری ھدایات کے لیے وہاں جانا ھوتا تھا بس وہیں ایک موچھوں والی خوبصورت اور ھنس مکھ شخصیت کو دیکھ کر دنگ رہ گیا کہ ان کو تو ھم نے پی ٹی وی پہ دیکھا ھوا ھے یہ تھے جناب پروفیسر شعیب ھاشمی جو فیض احمد فیض کے داماد اور سلیمہ ہاشمی کے شوہر تھے، اکڑ بکڑ، گپ شپ، دیکھا تھا اور ٹال مٹول پڑھا تھا، ایک مرنجان مرنج شخصیت کے مالک پروفیسر شعیب ھاشمی اب دنیا سے رخصت ہوئے، 
• وہ جولائی 1938 ء میں پیدا ہوئے، لندن سکول آف اکنامکس سے اکنامکس میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی اور گورنمنٹ کالج لاہور میں درس و تدریس کا سلسلہ شروع کیا، ایسی ھمہ جہت شخصیت کے تھیٹر، ڈرامہ نگار، ادکار، صحافی، مزاح نگار اور استاد اور سب کچھ تھے، یہی رمق ان کے طلباء میں تھی ان کے طلباء میں اکثریت نے ٹی وی کا رخ کیا پروفیسر شعیب ھاشمی جیسے لوگوں کی وجہ سے ہی پی ٹی وی نے عروج پایا کراچی اور لاھور پی ٹی وی کا اصل گھر تھا جہاں فن بھی تھا اور فنکار اور مزاح نگار، ڈرامہ نگار اور ھدایت کار بھی، شعیب ھاشمی نے مزاح سے سکرین کو چار چاند لگائے ، دوسری بڑی خوبی فیض احمد فیض کے گھرانے سے تعلق اور ترقی پسند ذھین نے آزاد اور بہترین مکالمے تخلیق کرنے میں مدد دی، ھم تو سامنے ایک جھلک دیکھنے کے بعد اور زیادہ مداح ھو گئے اکثر و بیشتر ٹی وی ایوارڈ شو میں شعیب ھاشمی موجود ہوتے اور خوبصورت جملوں سے محفل کشت و زعفران بن جاتی دل کرتا انہیں سنتے رہیں، موچھوں کا خوبصورت سٹائل اور علاقائی ثقافت اور تہذیب کا رنگ نمایاں تھا اکڑ بکڑ کا نام بھی انہی روایات کا حصہ ہے جو لندن سکول آف اکنامکس میں پڑھنے والا بڑی خوشی سے استعمال کرتا ہے یہی خصوصیات احمد ندیم قاسمی میں موجود تھیں جہاں آپ کو ٹوبہ ٹیک سنگھ بھی ملے گا، ممتا کا پیار اور محبت کی جھلک بھی نمایاں نظر آئے گی، فیض احمد فیض اور احمد ندیم قاسمی جیسے لوگوں کی محفل جن لوگوں کو ملی ھو وہ کہتے ہیں نا کہ آپ خوشبو والے کے پاس چلے جائیں بے شک خوشبو نہ خریدیں مگر پھر بھی تھوڑی بہت خوشبو لے ہی آئیں گے یہ تو ایسے گلستان میں رہے ہیں جہاں چاروں طرف علم و ادب اور تہذیب وثقافت کی خوشبو نافے کھولے بیٹھی تھی جس نے یہ خوشبو شاگردوں اور پورے پاکستان میں اپنے لوگوں میں بانٹ دی، 
• پروفیسر شعیب ھاشمی 84 سال کی عمر میں 15 مئی 2023ء کو چل بسے انہیں حسن کارکردگی ایورڈ کے ساتھ ساتھ تمغے امتیاز بھی ملا وہ گزشتہ پندرہ سال سے فالج کی وجہ سے بستر پر تھے مگر موجود تھے تو خوشبو کا احساس تھا اگرچیکہ ان کے لگائے ہوئے پودے موجود ہیں مگر اب وہ کمنٹمنٹ موجود نہیں ہے صرف کمرشل ازم اور خود غرضی نے انسان سے علم و ادب کی چاشنی چھین لی ہے، 
• گلوں میں رنگ بھرے بادِ نو بہار چلے
• چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے
• الوداع شعیب ھاشمی ،

بشکریہ اردو کالمز