ڈیڑھ جماعتی اتحاد کی طرف سے بالآخر وہ اعلان آ گیا جس کا انتظار تھا۔ اعلان ہوا ہے کہ مذاکرات تو کریں گے لیکن اب پالیسی مفاہمت نہیں، مزاحمت کی ہو گی۔ اس نظام اور فسطائی حکمرانوں کیخلاف مزاحمت کر کے اٹھائیں گے۔ معلوم ہوا کہ اب تک مفاہمت کی پالیسی چل رہی تھی، 9 مئی سے لے کر 26 نومبر تک کے سبھی واقعات مفاہماتی اقدامات تھے ، اب مزاحمت ہو گی۔
مزاحمت کا طریقہ کار اعلان میں واضح نہیں ہے۔ ایک پرانا لطیفہ ہے ، سن لیجئے ،امید ہے اس سے مزاحمت کی وضاحت ہو جائے گی۔ دو افراد لڑ پڑے۔ ایک نے دھمکی دی، میں اینٹ سے اینٹ بجا دوں گا۔ مرد کے بچے ہو تو اینٹ سے اینٹ بجا کر دکھائو، دوسرے شخص نے چیلنج کیا۔ پہلے شخص نے سڑک کنارے پڑی ہوئی دو اینٹیں اٹھائیں اور انہیں ایک دوسرے سے بجانے لگا، پھر بولا، یہ لو، بجا دیں۔
ڈیڑھ جماعتی اتحاد کے قومی کنونشن میں ایک تو پی ٹی آئی نے شرکت کی، پھر پی ٹی آئی کے صحافی، یوٹیوبرز بھی شریک ہوئے۔ پھر پی ٹی آئی کے وکیل بھی آئے۔ پی ٹی آئی کہتی ہے، اسے ڈیڑھ جماعتی اتحاد کہنا غلط ہے، یہ دیکھ لو، تین جماعتیں تو یہی ہو گئیں۔ چوتھی جماعت اچکزئی صاحب کی، پانچویں گلگت والے مولوی صاحب کی، چھٹی اختر مینگل کی۔ ماہرین ریاضیات سیاسی کا کہنا ہے کہ موخر الذکر تینوں جماعتیں مل کر ایک بٹہ دو جماعت بھی نہیں بنتیں اور دو والی الذکر تینوں جماعتیں مل کر ایک بٹہ دو جماعت بھی نہیں بنتیں دو والیاں الذکر تینوں تو پی آئی آئی ہی ہیں، مجموعہ ان جماعتوں کا ڈیڑھ ہی بنتا ہے، کسی طرف سے بھی گن لو۔
____
خیر، مزاحمت کے طریقے بھی بیان کئے۔ ایک طریقہ جاوید ہاشمی نے بتایا کہ جیلیں بھرو، گرفتاریاں پیش کرو، جیلیں بھرنے سے ہی تحریکیں کامیاب ہوتی ہیں۔
سادہ سی بات لیکن عمل کیسے ہو گا یہ عقدہ ہاشمی صاحب نے تو کھولا ہی نہیں۔ اس لئے کہ جن سے گرفتاریاں پیش کرو کی فرمائش کی جا رہی ہے، وہ تو سب پنجاب سے بھاگ کر صوبہ کے پی میں پناہ لے چکے ہیں۔ تو کیا جیل بھرو تحریک ساری کی ساری کے پی ہی میں چلے گی اور کیا انہیں کے پی پولیس گرفتار کرے گی۔
ہاشمی صاحب کو بتانا ہو گا کہ یہ لوگ اگر گرفتاریاں پیش کرنے کیلئے تیار ہوتے تو پنجاب سے ’’ہجرت‘‘ کر کے کے پی میں کیوں پناہ لیتے۔ سنا تو یہ بھی ہے کہ کے پی جا کر بھی یہ لوگ ڈرے ڈرے رہتے ہیں۔ بعض تو ایسے ہیں کہ باہر نکلتے ہی ہیں تو زنانہ بھیس میں، سولہ سنگھار کر کے۔ کسی دن ایک سنگھار کم رہ گیا تو خیر نہیں، پکڑے جائیں گے۔ نہ جانے کب کوئی خفیہ کمانڈو دستہ وفاق والوں کا آ جائے اور اٹھا لے جائے۔ اک اڑن کھٹولہ آئے گا، گلفاموں کو لے جائے گا۔
چنانچہ اسی ڈر سے یہ کے پی کے عافیت کدے میں بھی سامنے نہیں آتے، مکھڑا نہیں دکھاتے، مارکیٹ جانا ہو تو شناخت چھپا کر جاتے ہیں، زیادہ وقت رین بسیرے ہی میں گزارتے ہیں۔
ہاشمی صاحب ایک کمپنی بنائیں، ماہرین نفسیات کی اس میں شامل کریں، یہ کمپنی پناہ گزینوں سے مل کر ان کی ’’سائیکو تھراپی‘‘ کرے، ان کا ڈر دور کرے، انہیں بتائے کہ حقیقی آزادی حاصل کرنی ہے تو واپس پنجاب جائیں اور گرفتاریاں پیش کریں، پنجاب کی جیلیں بھریں۔
____
اسلام آباد جلوس لے کر آنے کا منصوبہ ڈیڑھ جماعتی اتحاد کی اس قومی کانفرنس نے ہمیشہ کیلئے داخل دفتر کر دیا۔ کہا کہ ایک تو لوگ کم آتے ہیں، دوسرے مار زیادہ پڑتی ہے۔ پولیس والے بالکل لحاظ نہیں کرتے کہ کم لوگ ہیں، کم مارو، اس کے بجائے وہ یہ کہتے ہیں کہ یہ لوگ اتنے کم کیوں ہیں، انہیں زیادہ مارو تاکہ اگلی بار زیادہ لے کر آئیں۔ اجلاس میں کہا گیا کہ علم ریاضی کے قاعدے کی یہ کھلی خلاف ورزی ہے۔ ریاضی کا فارمولا تو یہ ہے کہ زیادہ ہیں تو زیادہ مارو، کم ہیں تو کم مارو۔
اجلاس میں اس حقیقت کی نقاب کشائی بھی کی گئی کہ ہمشیرگان کے منگل میلے میں ہر بار ارکان اسمبلی سے اپیل کی جاتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگ ساتھ لائیں لیکن کسی بھی میلے میں گنتی چند سو سے زیادہ آگے نہیں جاتی، اکثر تو چالیس پچاس کے درمیان ہی گھومتی ہے۔
بہرحال، اب ڈیڑھ جماعتی اتحاد کے قائدین کسی مناسب صبح سرجوڑ کر بیٹھیں گے کہ مزاحمت کا فیصلہ تو کر لیا، مزاحمت کا کوئی قابل عمل طریقہ کیسے ڈھونڈیں۔
____
کرشنگ کے موسم میں حکومت نے 78 ہزار میٹرک ٹن چینی امپورٹ کر لی ہے۔
اسی کو ’’ترقی کا پہیہ‘‘ کہتے ہیں۔ ادھر ملوں سے چینی کی کھیپ باہر نکلے گی تو چینی سرپلس ہو جائے گی۔ یہ سرپلس چینی پھر سے برآمد کر دی جائے گی۔ جب یہ چینی برآمد ہو گی تو پاکستان میں کم پڑ جائے گی۔ چینی کم پڑ جائے گی تو قیمت بڑھ جائے گی یوں چینی کے ریٹ 300 روپے کلو کرنے کا سپنا پورا ہونے کا وقت اور نزدیک آ جائے گا۔
اس ’’سمارٹ‘‘ ترقیاتی پہیے کی ایجاد پر وفاقی حکومت کو سلام عرض۔
____
بنگلہ دیش میں بھارت سے نفرت کا سونامی بھارت کو بہت پریشان کر رہا ہے۔ را کے ہاتھوں طالب علم لیڈر عثمان بن ھادی کے قتل سے تو گویا سونامی کے اندر سے سونامی ابل پڑا۔
بنگلہ دیش کی کایا کلپ پر بھارت کو یقین نہیں آ رہا۔ بھارت کا شمال مشرقی کونہ بھارت سے الگ ہو جائے گا، اب تو یہ بات بھی کھلے عام کی جا رہی ہے۔ یہ کونہ سات ریاستوں پر مشتمل ہے اور ایک ننگ پٹی کے ذریعے باقی بھارت سے ملا ہوا ہے۔ چین کی اس پر نظر اب پڑی ہے اور ادھر سے بنگلہ دیش نے بھی اسی پر نظر جما لی ہے، بھارت کی پارلیمانی کمیٹی نے خبردار کیا ہے کہ بنگلہ دیش ہمارے لئے سنگین ترین ’’سٹریٹجک تھریٹ‘‘ بنتا جا رہا ہے۔ بھارتی رہنما جب بنگلہ دیش کے نقشے پر نظر ڈالتے ہیں تو انہیں اس نقشے کے بیچ پاکستان اور چین کا نقشہ بھی نظر آتا ہے اور وہ سہم جاتے ہیں۔
ماضی میں بھارت بنگلہ دیش کو گھڑے کی مچھلی سمجھتا تھا، اب یہ مچھلی جھیل کا مگرمچھ بن گیا ہے۔ شمال مشرقی ریاستوں کی علیحدگی کا خطرہ ماضی میں محض ایک شائبہ تھا، اب حقیقی خطرہ بننے کی طرف بات چل پڑی ہے۔ بات بہت بڑھ گئی ہے شریمان!
332