سات اور آٹھ اپریل کی درمیانی شب، جب امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کی خبر سے خلیجی ممالک اور اس کے اطراف میں سکون کا احساس پیدا ہوگیا، سینکڑوں میل دور لبنان کے دارالحکومت بیروت میں امن کی امید اسی تیزی سے ٹوٹ گئی جس تیزی سے وہ پیدا ہوئی تھی۔سوشل میڈیا پر پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف کی طرف سے جنگ بندی کے اعلان کے فوراً بعد ہی پینتیس سالہ فادی زیدان، جو سمندر کے کنارے اپنے معمر والدین کے ساتھ پناہ لیے ہوئے تھا، اپنے آبائی شہر نبطیہ روانہ ہوا۔ مگر وہ کبھی وہاں نہ پہنچ سکا۔ چند ہی گھنٹوں میں اسرائیلی بمباری دوبارہ شروع ہو گئی، جس میں وہ اور اس کے والدین زخمی ہو گئے۔پورے لبنان میں اس دن صرف دس منٹ کی بمباری میں تین سو سے زائد افراد ہلاک اور ایک ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے۔ اس کے بعد سے ہلاکتوں کی تعداد دو ہزار سے تجاوز کر چکی ہے، جن میں اکثریت عام شہریوں کی ہے۔جبکہ دس لاکھ سے زائد بے گھر ہو چکے ہیں۔ 16 اپریل کو جب یہ خبر آئی کہ لبنان کو بھی امریکہ-ایران عارضی جنگ بندی میں شامل کیا گیا ہے، تو اس کے اگلے روز میں نے بیروت میں اپنے صحافی دوست روان سعید کو فون کیا۔ اس نے کہا، ’’کئی ہفتوں میں پہلی بار بیروت کا آسمان خاموش ہے۔ کل رات کوئی جنگی طیارہ موت کا پیامبر بن کر نہیں آیا۔‘‘ وہ کہہ رہی تھی کہ ’’ہم نے ٹی وی پر غزہ کی بربادی دیکھی ہے اور بے بسی کے ساتھ ہم صرف انتظار کر رہے تھے کہ یہاں بھی اس کو دوہرایا جائیگا۔‘‘ اسرائیلی بمباری میں غیر یقینی وقفہ لبنان کے لئے ایک عارضی راحت تو لے آیا ہے، مگر اس نے اس ملک کی وہ حقیقت بھی عیاں کر دی ہے جو برسوں سے دوسروں کی جنگوں کے سائے میں زندہ ہے۔بحیرہ روم کے کنارے واقع یہ خوبصورت ملک کئی دہائیوں سے عدم استحکا م سے دوچار ہے۔ اس ملک میں پہاڑ اچانک ساحل کے پیچھے نمودار ہو جاتے ہیں، جن کی برف پوش چوٹیاں دھوپ میں چمکتے سمندر کے ساتھ نظر آتی ہیں۔ بیروت، جسے کبھی ’’مشرقِ وسطیٰ کا پیرس‘‘ کہا جاتا تھا، آج زخمی حالت میں پھڑپھڑا رہا ہے۔ محض 3800 مربع میل کے اس چھوٹے سے ملک میں تقریباً 60 لاکھ افراد آباد ہیں، مگر اس کے اندر جغرافیہ، تاریخ اور ثقافت کی حیران کن تنوع موجود ہے۔لبنان کے علاوہ کوئی اور عرب ملک اتنا کثیرجہتی اور رنگا رنگ ثقافت کا حامل نہیں ہے۔ ایک وقت ایسا تھا جب اسے نہایت جدید اور بہت مستحکم ملک سمجھا جاتا تھا۔ بیروت کی امریکن یونیورسٹی خطے کا ایک بڑا تعلیمی مرکز تھی۔تقریباً 53 فیصد آبادی مسلمان ہے، جو تقریباً برابر سنی اور شیعہ میں تقسیم ہے۔ 41 فیصد عیسائی ہیں، جن میں مارونی کیتھولک سب سے بڑا گروہ ہیں، جبکہ دروز برادری تقریباً 5 فیصد ہے۔یہ تنوع صرف سماجی نہیں بلکہ ریاستی ڈھانچے میں بھی پیوست ہے۔ صدر مارونی عیسائی، وزیر اعظم سنی مسلمان، سپیکر شیعہ مسلمان، اور دیگر عہدے بھی فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم کئے گئے ہیں، تاکہ کسی بھی فرقہ کو بے اختیاری یا نظام سے باہر رہنے کی شکایت نہ پیدا ہو۔ یہ نظام توازن برقرار رکھنے کے لیے بنایا گیا تھا، مگر اس نے تقسیم کو مستقل شکل دے دی ہے۔ ہر فیصلہ ایک سودے بازی بن جاتا ہے، اور ہر بیرونی جھٹکا اندرونی بحران میں تبدیل ہو جاتا ہے۔موجودہ دور میں شاید ہی کوئی اور ملک ہو جو اتنی بار علاقائی تنازعات کا میدان بناہو۔1948 کے بعد فلسطینی مسلح موجودگی، 1975 سے 1990 تک خانہ جنگی، شامی فوجی غلبہ، بار بار اسرائیلی حملے، 1980 کی دہائی میں حزب اللہ کا ابھرنا اور ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگی میدان ، اور 2011 کے بعد شام کی جنگ کے اثرات ،ہر مرحلہ اس ملک کو مزید پیچیدہ بناتا گیا۔صبرا اور شتیلا کے کیمپ آج بھی اس تاریخ کی سب سے گہری علامت ہیں۔ 1982 کا قتل عام آج بھی اجتماعی یادداشت کا حصہ ہے ۔ جنوبی بیروت میں یہ کیمپ صرف یادگار نہیں رہے، بلکہ زندہ بستیاں ہیں، جہاں فلسطینی مہاجرین اور شامی پناہ گزین انتہائی مشکل حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔ تنگ گلیاں، الجھی ہوئی تاریں، عارضی گھر،یہ سب ایک ایسی زندگی کی تصویر ہیں جو نہ عارضی ہے نہ محفوظ اور بار بار ، جنگ ان کے دروازے تک پہنچ جاتی ہے۔ لبنان نے پہلے بھی جنگیں دیکھی ہیں، مگر روان سعید کا کہنا تھا اس بار یہ جنگ مختلف ہے۔اسرائیل کے منہ کو خون لگ گیا ہے، اور وہ عالمی دباو کو درکنار کرکے لبنان کو غازہ کی طرح برباد کرنے پر تلا ہوا ہے۔ مارچ کے آغاز سے اسرائیلی افواج نے فضائی اور زمینی کارروائیوں کا ایک مشترکہ سلسلہ شروع کردیا تھا، جس کا نشانہ صرف جنوبی لبنان نہیں بلکہ بیروت، صور اور بقاع وادی جیسے علاقے بھی بنے۔جنوبی لبنان کے بہت سے خاندانوں کے لیے بے گھر ہونا اب ایک وقتی سانحہ نہیں، بلکہ ایک بار بار دہرایا جانے والا چکر بن چکا ہے۔ عالیہ، چار بچوں کی ماں، جو اپنے بوڑھے والدین کی دیکھ بھال بھی کر رہی ہے، ایک ایسی زندگی بیان کرتی ہے جس میں وقار باقی نہیں رہا۔ نہ کپڑے بدلنے کی کوئی نجی جگہ، نہ خاندانوں کے درمیان کوئی حد، نہ کوئی ذاتی دائرہ۔یہ خوف ایک وسیع تر نفسیاتی بحران کا حصہ ہے۔ اس جنگ سے پہلے بھی لبنان کی تقریباً نصف آبادی ڈپریشن، بے چینی یا صدماتی دباؤ کا شکار تھی اوربے گھر افراد میں یہ شرح اور زیادہ بتائی جاتی ہے۔ سوال ہے کہ کیا لبنان کو 8اپریل کی جنگ بندی میں شامل کیا گیا تھا؟ ایران، پاکستان اور کئی بیرونی مبصرین نے علانیہ یہ موقف اختیار کیا کہ لبنان امریکہ-ایران جنگ بندی میں شامل تھا۔ لیکن اسرائیل کے اصرار پر بعد میں امریکہ نے لبنان کو ایک الگ محاذ کے طور پر تسلیم کیا، اور اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے صاف الفاظ میں کہا کہ لبنان میں کوئی جنگ بندی نہیں ہے۔گو کہ کوئی ایسا حتمی اور عوامی طور پر تسلیم شدہ متن موجود نہیں جو یہ غیر مبہم طور پر ثابت کرے کہ لبنان اس جنگ بندی میں شامل تھا، مگر اس بات کے مضبوط شواہد ضرور ہیں کہ وہ کم از کم اس مفاہمت کا حصہ تھا۔ اس کے بعد اسرائیل نے یکطرفہ طور پر اس کے بالکل برعکس تشریح پر عمل کیا۔ اسرائیل نے خاص طور پر بنت جبیل کو، زمینی کارروائیوں کا مرکز بنادیا، جبکہ بیروت، صور، بقاع وادی اور دوسرے ایسے علاقوں کو بھی نشانہ بنایا۔مارچ میں ہی اسرائیل نے سرحد کے نزدیک اپنی فوجی تعداد دوگنے سے بھی زیادہ کر دی تھی۔گو کہ حزب اللہ نے یہ ضرور دکھایا ہے کہ وہ خاص طور پر بنت جبیل جیسے دشوار، شہری سرحدی علاقوں میں اسرائیل کی زمینی پیش قدمی کو سست کر سکتی ہے لیکن یہ کہنا کہ اس نے اسرائیلی فوج کو بہت بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا یا، مبالغہ ہوگا۔مصیبت صرف جنوب تک محدود نہیں۔ (جاری ہے)
37