ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی مسلط کردہ جنگ نے آبنائے ہرمز کے راستے بحری مال برداری میں تعطل پیدا کردیا ہے۔پاس تعطل نے جنوبی ایشیائی ممالک خاص طور پر بھارت اور پاکستان کی توانائی کی سلامتی کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ پاکستان میں ایندھن کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ اور بھارت کے شہروں اور قصبوں میں ایل پی جی ڈسٹری بیوشن سینٹرز کے باہر لگی طویل قطاریںتوانائی کے بحران کی گواہی دے رہے ہیں۔ بھارتی دارالحکومت دہلی کے مکین اپنے سمارٹ فونز پر بار بار ڈیلیوری کے پیغامات کو اس امید میں ری فریش کر رہے ہیں کہ شاید اگلا ٹرک ان کے گھر کے چولہے جلانے کا سامان لے آئے۔ گیس ڈپوؤں کے باہر کا یہ منظر دراصل بھارت کے مجموعی توانائی کے ڈھانچے میں موجود اس گہری دراڑ کا خاموش نوحہ ہے جسے گزشتہ دو دہائیوں کی غلط ترجیحات نے جنم دیا ہے۔ آج بھارت اپنی ضرورت کا 85 فیصد سے زائد خام تیل اور قدرتی گیس کا ایک بہت بڑا حصہ درآمد کرنے پر مجبور ہے۔ اس گیس کا بڑا حصہ مائع حالت (LNG) میں قطر، آسٹریلیا اور اب تیزی سے امریکہ سے بحری راستوں کے ذریعے پہنچ رہا ہے، جو اکثر عالمی منڈی کی ان اتار چڑھاؤ والی قیمتوں پر خریدا جاتا ہے جو ہر جغرافیائی و سیاسی جھٹکے کے ساتھ بدلتی رہتی ہیں۔ اس معاشی اور تزویراتی بے یقینی سے بچنے کے لیے کبھی بھارت اور پاکستان کے پاس ایک نہایت معتبر، سستا اور پائیدار متبادل موجود تھا۔ نوے کی دہائی کے اوائل میں دونوں ملکوں کے ایوانوں میں ایک ایسی پائپ لائن کے نقشے زیرِ بحث تھے جو سرحدوں کی لکیروں کو مٹا کر توانائی کے رشتوں کو جوڑ سکتی تھی۔ ایران-پاکستان-انڈیا یعنی آئی پی آئی نامی یہ پائپ لائن ایک خواب تھا جو حقیقت بننے کے قریب تھا، لیکن اسے عالمی سیاست کی بھینٹ چڑھا دیا گیا۔ اس تزویراتی سفر کا آغاز 1989 میں ہوا تھا، جب ایران کے وزیر خارجہ علی اکبر ولایتی نے نئی دہلی کے دورے کے دوران طویل فاصلے کی ایک گیس پائپ لائن کی تجویز پیش کی تھی۔ یہ وہ دور تھا جب دنیا میں سرد جنگ اپنے اختتام کی طرف بڑھ رہی تھی اور ایشیا میں علاقائی تعاون کے نئے چراغ روشن ہو رہے تھے۔مگر اس پر باقاعدہ مذاکرات کا آغاز 1994 میں ہوا۔ مارچ 1994 کو جب بھارت کوجنیوا میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن میں اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کی طرف سے کشمیر پر انسانی حقوق کے حوالے سے ایک سخت مذمتی قرارداد کا سامنا تھا، تو وزیر اعظم نرسمہا راؤ نے اپنے شدید علیل وزیر خارجہ دنیش سنگھ کو ایک خصوصی طیارے میں، جس میں تمام طبی سہولیات موجود تھیں، ایک خفیہ مشن پر تہران بھیجاتھا۔ ایران نے اس وقت بھارت کی لاج رکھی اور قرارداد پر اتفاقِ رائے نہ ہونے دیا، جس سے بھارت عالمی سطح پر تنہا ہونے سے بچ گیا۔ اس کے بدلے میں ایران کو کئی یقین دہانیاں کرائی گئی تھیں جن میں کشمیر پر بامعنی مذاکرات کے علاوہ نرسمہا راؤ نے تہران سے گیس پائپ لائن میں سرمایہ کاری اور تعاون کا پکا وعدہ کیا تھا۔ نئی دہلی میں دی انرجی انسٹیٹیوٹ کے ڈاکٹرراجندر پچوری کو اس کے خد و خال طے کرنے کیلئے کہا گیا۔ چونکہ یہ پائپ لائن بھارت۔پاکستان اور ایران کی مشترکہ کاوش تھی، اس لئے مبصرین نے اس کو امن پائپ لائن کا خوبصورت نام دیا۔ ان کا فلسفہ یہ تھا کہ جب دو ایٹمی پڑوسی، بھارت اور پاکستان، ایک ہی پائپ لائن سے توانائی حاصل کریں گے، تو ان کے معاشی مفادات اس قدر ایک دوسرے میں پیوست ہو جائیں گے کہ جنگ کا تصور ہی محال ہو جائے گا۔اس کے ایک سال بعد یعنی 1995 میں ایک بڑی پیش رفت کے طور پر ایران اور پاکستان کے درمیان ساؤتھ پارس فیلڈ سے کراچی تک گیس پہنچانے کا ابتدائی معاہدہ طے پایا۔ ایران نے اس منصوبے کو بھارت تک وسعت دینے کی تجویز دی، کیونکہ بھارت کی بڑی منڈی کے بغیر یہ منصوبہ تجارتی طور پر اتنا پرکشش نہیں ہوسکتا تھا۔ 1999 میں بھارت نے اس منصوبے میں باقاعدہ شمولیت کا اعلان کیا اور تہران کے ساتھ ایک ابتدائی یادداشت پر دستخط کیے۔ 2000 کے سال سے ایران، پاکستان اور بھارت کے درمیان قیمتوں، فزیبلٹی اور پائپ لائن کے راستے پر سہ فریقی مذاکرات شروع ہوئے جنہیں عالمی میڈیا میں جنوبی ایشیا کی تقدیر بدلنے والے مذاکرات کہا گیا۔ یہ وہ دور تھا جب بھارت کی معیشت سالانہ آٹھ سے نو فیصد کی شرح سے نمو پا رہی تھی۔ اس لئے اس پائپ لائن کی اہمیت تزویراتی سے بڑھ کر بقا کا مسئلہ بن گئی تھی۔ تکنیکی ماہرین کے مطابق یہ پائپ لائن بھارت کی صنعتوں اور بجلی گھروں کو روزانہ 60 ملین سٹینڈرڈ کیوبک میٹر گیس فراہم کر سکتی تھی۔ اس مقصد کے لیے ایک سہ فریقی "جوائنٹ ورکنگ گروپ" بنایا گیا جس نے قیمتوں اور ٹرانزٹ فیس جیسے پیچیدہ مسائل پر دن رات کام کیا۔ اس منصوبے کے سب سے بڑے علمبردار منی شنکر ایر تھے، جو 2004 سے 2006 کے درمیان بھارت کے وزیرِ پٹرولیم کے طور پر کام کر رہے تھے۔ ان کا نظریہ تھا کہ اقتصادی باہمی انحصار دہلی اور اسلام آباد کے درمیان تعلقات کی برف کوپگھلا سکتا ہے۔ وہ اکثر کہا کرتے تھے: ’’پائپ لائن محض گیس لے جانے والی سٹیل کی نالی نہیں، بلکہ یہ تعاون کی ایک ایسی شاہراہ ہے جس پر امن کا قافلہ چلے گا‘‘۔ دریاوں کا پانی بھارت سے پاکستان کی طرف جاتا ہے، گیس کی ترسیل چونکہ پاکستان سے بھارت کی طرف ہونی تھی، اس لئے بتایا گیا کہ اس سے وسائل کی ترسیل میں بھی ایک توزن قائم ہوجائیگا۔ سفارت کار تلمیذ احمد، جو اس دور میں مذاکرات کی میز پر بھارت کی نمائندگی کر رہے تھے، بتاتے ہیں کہ قدرتی گیس کا حصول اس وقت بھارت کی سفارت کاری کے لیے اہم حیثیت رکھتا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ گیس پر مبنی معیشت کوئلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ سستی اور ماحول دوست ہوتی ہے۔ فروری 2007 میں اس وقت ایک تاریخی کامیابی ملی جب بھارت اور پاکستان گیس کی قیمت تقریباً 4.93 ڈالر فی BTU ملین پر اصولی طور پر متفق ہو گئے۔ ایک اور پائپ لائن ترکمنستان، افغانستان، پاکستان بھارت پر بھی گفت شنید شروع ہوگئی۔ بتایا جاتا تھا کہ ملتان کے پاس دونوں پائپ لائن کا ایک گرڈ بن جائیگا، جہاں سے یہ گیس پاکستان کے دیگر علاقوں اور سرحد پار بھارت کو مہیا کی جائیگی۔ لیکن بدقسمتی سے، جہاں خطے میں امن کی امیدیں روشن ہو رہی تھیں، وہیں واشنگٹن کے ایوانوں میں اس منصوبے کے خلاف سازشیں تیار ہونا شروع ہو گئی تھیں۔ جس وقت جنوبی ایشیا کے پالیسی ساز "امن پائپ لائن" کے خواب کو آخری شکل دے رہے تھے، اسی وقت نئی دہلی اور واشنگٹن کے درمیان ایک ایسا سودا طے پا رہا تھا جس نے بھارت کی ترجیحات کو یکسر بدل دیا۔ 18 جولائی 2005 کو وزیر اعظم منموہن سنگھ اور امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے واشنگٹن میں ایک ’’سول نیوکلیئر معاہدے‘‘ کا اعلان کیا۔ (جاری ہے)
35