دیکھنے والوں کے لیے سادہ پیغام ہے۔ اگر سفارت کاری واضح پیش رفت کے لمحے میں بھی ٹوٹ سکتی ہے تو مذاکرات پر اعتماد کیسے باقی رہے؟ امن کا پل زیرِ تعمیر تھا، بیچ دھار میں ٹوٹ گیا۔ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی سیاسی شناخت ’’ہمیشہ کی جنگوں‘‘ کی مخالفت پر استوار کی تھی۔ مگر اس بار ماضی کی امریکی مداخلتوں کو ہی اپنایا۔ انقرہ کے مالتپے میں میرِے گُولولو آخرکار ٹی وی کی آواز کو کم کر دیتے ہیں۔ سکرین پر تجزیہ کار اگلے اقدامات پر بحث کر رہے ہیں۔ ریٹائرڈ جرنیل نقشوں پر تیر کھینچ رہے ہیں۔ یاسمین چائے تیار کرتی ہیں۔ وہ دھیرے سے اپنی سلامتی پر گفتگو کرتے ہیں، اس اندیشے کے ساتھ کہ کہیں ان کا شہر بھی فہرست میں شامل نہ ہو جائے۔اب ہر شہر محاذ کے قریب محسوس ہوتا ہے۔ میدانِ جنگ اور گھریلو زندگی کے درمیان پرانی لکیر مدھم پڑ رہی ہے۔ میزائل فاصلے نہیں دیکھتے، ڈرون سرحدیں نہیں مانتے۔ انقرہ سے عمان، دوحہ سے بیروت تک سڑکوں پر یقین کے بجائے عدم تحفظ غالب ہے۔سوال اب سرگوشیوں میں نہیں پوچھا جا رہا کہ کیا خطہ بدلے گا۔ وہ بدل چکا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ لرزشیں کہاں تک جائیں گی اور کیاکوئی دارالحکومت اب بھی یہ گمان کر سکتا ہے کہ اگلے حملے کی قوس سے باہر کھڑا ہے۔ مولانا آزاد نے اپنی لاثانی تصنیف "غبارِ خاطر" میں پانچواں صلیبی حملہ، جو سینٹ لوئس شاہِ فرانس کے دور میں ہوا، میں شامل ایک فرانسیسی افسر ژوائین ویل کی یادداشت نقل کی ہے۔ صلیبی جہاد نے ازمنہِ وسطیٰ کے یورپ کو مشرقِ وسطیٰ کے دوش بدوش کھڑا کر دیا تھا۔ یورپ اس عہد کے مسیحی دماغ کی نمائندگی کرتا تھا، مشرقِ وسطیٰ مسلمانوں کے دماغ کی۔ دونوں کی مقابل حالت سے ان کی تضاد نوعیتیں آشکارا ہو گئی تھیں۔ یورپ مذہب کے مجنونانہ جوش کا علمبردار تھا، مسلمان علم و دانش کے علمبردار تھے۔ یورپ دعاؤں کے ہتھیار سے لڑنا چاہتا تھا، مسلمان لوہے اور آگ کے ہتھیاروں سے لڑتے تھے۔ یورپ کا اعتماد صرف خدا کی مدد پر تھا، مسلمانوں کا خدا کی مدد پر بھی تھا لیکن خدا کے پیدا کیے ہوئے سرو سامان پر بھی تھا۔ ایک صرف روحانی قوتوں کا معتقد تھا، دوسرا روحانی اور مادی دونوں کا۔ پہلے نے معجزوں کے ظہور کا انتظار کیا اور دوسرے نے نتائجِ عمل کے ظہور کا۔ معجزے ظاہر نہیں ہوئے، لیکن نتائجِ عمل نے ظاہر ہو کر فتح و شکست کا فیصلہ کر دیا۔ ژوائین ویل لکھتا ہے کہ جب مصری فوجوں نے منجنیقوں کے ذریعے آگ کے بان پھینکنے شروع کیے تو فرانسیسی جن کے پاس پرانے دستی ہتھیاروں کے سوا اور کچھ نہ تھا بالکل بے بس ہو گئے۔ ژوائین ویل اس سلسلے میں لکھتا ہے: ’’ایک رات جب ہم دریا کے راستے کی حفاظت کے لیے بنائی گئی برجیوں پر پہرہ دے رہے تھے تو اچانک کیا دیکھتے ہیں کہ مسلمانوں نے ایک انجن جسے منجنیق کہتے ہیں، لا کھڑا کیا اور اس سے ہم پر آگ پھینکنے لگے۔ یہ حال دیکھ کر لارڈ والٹرنے جو ایک اچھا نائٹ تھا ہمیں یوں مخاطب کیا۔ اس وقت ہماری زندگی کا سب سے بڑا خطرہ پیش آ گیا ہے کیونکہ اگر ہم نے ان برجیوں کو نہ چھوڑا اور مسلمانوں نے ان میں آگ لگا دی تو ہم بھی برجیوں کے ساتھ جل کر خاک ہو جائیں گے، لیکن اگر ہم برجیوں کو چھوڑ کر نکل جاتے ہیں تو پھر ہماری بے عزتی میں کوئی شبہ نہیں کیونکہ ہم ان کی حفاظت پر مامور کیے گئے تھے۔ ایسی حالت میں خدا کے سوا کوئی نہیں جو ہمارا بچاؤ کر سکے، میرا مشورہ آپ سب لوگوں کو یہ ہے کہ جوں ہی مسلمان آگ کے بان چلائیں، ہمیں چاہیے کہ گھٹنوں کے بل جھک جائیں اور اپنے نجات دہندہ خداوند سے دعا مانگیں کہ اس مصیبت میں ہماری مدد کرے۔ چنانچہ ہم سب نے ایسا ہی کیا۔ جیسے ہی مسلمانوں کا پہلا بان چلا، ہم گھٹنوں کے بل جھک گئے اور دعا میں مشغول ہو گئے۔ یہ بان اتنے بڑے ہوتے تھے جیسے شراب کے پیپے، اور آگ کا شعلہ جو ان سے نکلتا تھا، اس کی دم اتنی لمبی ہوتی تھی جیسے ایک بہت بڑا نیزہ۔ جب یہ آتا تو ایسی آواز نکلتی جیسے بادل گرج رہے ہوں۔ اس کی شکل ایسی دکھائی دیتی تھی جیسے ایک آتشیں اژدہا ہوا میں اڑ رہا ہے۔ اس کی روشنی نہایت تیز تھی، چھاؤنی کے تمام حصے اس طرح اجالے میں آ جاتے تھے جیسے دن نکل آیا ہو‘‘ اس کے بعد خود لوئس کی نسبت لکھتا ہے: ’’ہر مرتبہ جب بان چھوٹنے کی آواز ہمارا ولی صفت بادشاہ سنتا تھا تو بستر سے اٹھ کھڑا ہوتا تھا اور روتے ہوئے ہاتھ اٹھا اٹھا کر ہمارے نجات دہندہ سے التجائیں کرتا: 'مہربان مولیٰ! میرے آدمیوں کی حفاظت کر! میں یقین کرتا ہوں کہ ہمارے بادشاہ کی ان دعاؤں نے ہمیں ضرور فائدہ پہنچایا'۔‘‘لیکن فائدے کا یہ یقین خود اعتقادانہ وہم سے زیادہ نہ تھا، کیونکہ بالآخر کوئی دعا بھی سود مند نہ ہوئی اور آگ کے بانوں نے تمام برجیوں کو جلا کر خاکستر کر دیا۔ مولانا آزاد کے مطابق یہ حال تو تیرہویں صدی مسیحی کا تھا، لیکن چند صدیوں کے بعد جب پھر یورپ اور مشرق کا مقابلہ ہوا تو اب صورتحال یکسر الٹ چکی تھی۔ اب بھی دونوں جماعتوں کے متضاد خصائص اسی طرح نمایاں تھے جس طرح صلیبی جنگ کے عہد میں رہے تھے، لیکن اتنی تبدیلی کے ساتھ کہ جو دماغی جگہ پہلے یورپ کی تھی وہ اب مسلمانوں کی ہو گئی تھی اور جو جگہ مسلمانوں کی تھی اسے اب یورپ نے اختیار کر لیا تھا۔اسی طرح اٹھارہویں صدی کے اواخر میں جب نپولین نے مصر پر حملہ کیا تو مراد بک نے جامع ازہر کے علما کو جمع کر کے ان سے مشورہ کیا تھا کہ اب کیا کرنا چاہیے۔ علمائے ازہر نے بالاتفاق یہ رائے دی تھی کہ جامع ازہر میں صحیح بخاری کا ختم شروع کر دینا چاہیے کہ انجامِ مقاصد کے لیے تیر بہدف ہے چنانچہ ایسا ہی کیا گیا، لیکن ابھی صحیح بخاری کا ختم ختم نہیں ہوا تھا کہ اہرام کی لڑائی نے مصری حکومت کا خاتمہ کر دیا۔ شیخ عبدالرحمن الجبرتی نے اس عہد کے چشم دید حالات قلمبند کیے ہیں جو بڑے ہی عبرت انگیز ہیں۔ انیسویں صدی کے اوائل میں جب روسیوں نے بخارا کا محاصرہ کیا تھا تو امیرِ بخارا نے حکم دیا کہ تمام مدرسوں اور مسجدوں میں "ختم خواجگان" پڑھا جائے۔ ادھر روسیوں کی قلعہ شکن توپیں شہر کا حصار منہدم کر رہی تھیں ادھر لوگ ختم خواجگان کے حلقوں میں بیٹھے ’’یا مقلب القلوب یا محول الاحوال‘‘کے نعرے بلند کر رہے تھے۔ بالآخر وہی نتیجہ نکلا جو ایک ایسے مقابلے کا نکلنا تھا، جس میں ایک طرف گولہ بارود ہو دوسری طرف ختم خواجگان! نہ جانے وہ لوگ کہاں گئے، جو خدا کی مدد کے علاوہ خدا کے پیدا کیے ہوئے سرو سامان پر اور روحانی مادی قوتوں اور سائنسی بنیادوں پر یقین رکھ کر فتح و شکست کا فیصلہ کرتے تھے۔مشرق وسطیٰ میں اب ایک ایک کرکے سب کا نمبر آرہا ہے۔ شیعہ محور کے زوال کے بعد اب سنی ممالک کا نمبر آرہا ہے۔ اگر اب بھی اتحاد و اتفاق کے علاوہ سائنسی بنیادوں پر اپنے دفاع کا انتظام نہ کیا تو متحدہ امارات سے لیکر مصر تک کے شہر اگلے تہران اور غزہ ہونگے۔ پھر نہ کہنا کہ خبر نہ ہوئی۔
165