تین دہائیوں پر محیط اپنی صحافتی زندگی میں اگر کسی چیز نے مجھے بھارت کو سب سے زیادہ سمجھنے میں مدد دی ہے تو وہ ریل کے سیکنڈ کلاس ڈبے میں کئے گئے طویل سفر ہیں۔ نئی دہلی سے جنوبی بھارت کی طرف جانے والی ٹرین محض مسافروں کو ایک مقام سے دوسرے مقام تک نہیں لے جاتی ہے، بلکہ وہ تہذیبوں، رویّوں اور ریاستی نظم و نسق کے ایک فرق کو بھی واضح کرتی ہے۔ دہلی سے جنوبی بھارت کے انتہائی مقامات یعنی تامل ناڈو کے چینئی، کنیا کماری یا کیرالا کے تھیرووننت پورم تک تویہ سفرکا دورانیہ مسلسل تین دن تک بھی پھیل جاتا ہے۔ پلیٹ فارم کی بے ہنگم بھیڑ، اور کوچ کے اندر آنے جانے والوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ،ریزرویشن کے باوجود نشستوں پر قبضہ کرنے والے، دروازوں سے لٹکے مسافر، اور ہر اسٹیشن پر بغیر اجازت کوچ میں گھس آنے والے خوانچہ فروش اس بات کا احساس دلاتے ہیں کہ آپ شمالی بھارت میں ہیں، جہاں قانون اور نظم و ضبط محض کتابی الفاظ ہیں۔جوں ہی ٹرین وندھیاچل کے پہاڑی سلسلے کو عبور کر کے جنوبی بھارت میں داخل ہوجاتی ہے، تو فضا میں ایک واضح تبدیلی محسوس ہوتی ہے۔ اسٹیشن صاف نظر آتے ہیں، پلیٹ فارم پر بے ہنگم بھیڑ کم ہو جاتی ہے، اور کوچ کے اندر ایک نظم و ضبط قائم ہو جاتا ہے۔ اسی طرح مجھے یاد ہے کہ کئی بار دہلی سے کولکتہ جاتے ہوئے جب تک ٹرین اتر پردیش اور بہارکے میدانوں سے گذر تی تھی، تو برتھ پر کئی لوگ قابض ہوتے تھے ۔ بتایا جاتا تھا کہ یہ تو عام بات ہے۔ کسی سے شکایت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں تھا کیونکہ کوئی سننے والا تھا ہی نہیں۔جونہی ٹرین بہار کا جمال پور یا بھاگلپور کا اسٹیشن کراس کرتی تھی، فضا بدل جاتی تھی۔ وہی کوچ جو ابھی تک شور اور بدنظمی کا شکار تھی، اب نظم وضبط کی علامت لگنے لگتی ہے۔ غیر متعلقہ مسافر اور برتھ کے قابضین غائب ہونے لگتے ہیں۔ ایک ہلکی سی تازگی کا احساس جنم لیتا ہے۔ اسی دوران آپ کے برابر بیٹھا ہوا کوئی شخص، جو اب تک ایک عام مسافر لگ رہا تھا، اپنا بیگ کھول کر وردی نکالتا ہے، اسے پہنتا ہے، تب معلوم ہوتا ہے کہ یہی صاحب دراصل ٹکٹ چیکر تھے، جو اب تک غائب تھے۔جب آپ اس سے شکوہ کرتے ہیں کہ وہ پچھلے اٹھارہ گھنٹوں سے کہاں تھا، تو وہ نہایت کڑک انداز میں جواب دیتا ہے:’’وہ شمالی بھارت تھا، اب بنگال آنے والا ہے، یہاں قانون چلتا ہے۔‘‘ یہ پس منظر بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ فی الحال جنوبی بھارت کی د و ریاستیں کیرالا اور تامل ناڈو، مرکزی زیر انتظام والے علاقہ پڈوچری اور شمال مشرق میں مغربی بنگال اور آسام میں اسی ماہ میں صوبائی اسمبلی کے انتخابات کا انعقاد ہو رہا ہے۔ آسام، کیرالہ اور پڈوچیری میں 9 اپریل کو ووٹنگ ہوگی، تامل ناڈو میں 23 اپریل کو، جبکہ مغربی بنگال میں دو مرحلوں میں 23 اور 29 اپریل کو ووٹ ڈالے جائیں گے۔ ان تمام ریاستوں کے ووٹوں کی گنتی اور نتائج کا اعلان 4 مئی کو کیا جائیگا۔ ان میں آسام کے بغیر باقی صوبوں میں ابھی تک وزیر اعظم نریندر مودی کی ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی(بی جے پی) کی دال نہیں گل رہی ہے۔ اب وہ ان ریاستوں میں اپنے اثر و رسوخ کو بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔ آسام میں وہ پچھلے دس سالوں سے اقتدار میں ہے اور یہ صوبہ گجرات اور اتر پردیش کے بعد ہندوتوا سیاست کی سب سے بڑی تجربہ گاہ بن چکا ہے۔یہاں پارٹی نے قبائلی، لسانی اور مذہبی خدشات کو ایک وسیع سیاسی بیانیے میں ڈھال کر ایک ایسا ووٹ بینک تشکیل دیا ہے جو خود کو خطرے میں محسوس کرتا ہے اور اسی خوف کے تحت ووٹ دیتا ہے۔اس ریاست میں مسلمانوں کا تناسب 34فیصد ہے اور ان کا ووٹ تقریبا 30سیٹوں پر اثر انداز ہوتا تھا۔ نئی حد بندی کے بعد ا ب مسلم اکثریتی سیٹیں سمٹ کر 18سے 21 تک رہ گئی ہیں۔ ریاست کے وزیر اعلیٰ ہمنت بسوا سرما ، مسلمانوں کو کنارے لگانے اور ان کے خلاف بیان بازی کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے ہیں۔ مقامی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نئی حد بندی کی وجہ سے آسام کے پشتینی باشندوں یعنی آہوم قبیلہ کو بھی اس طرح بانٹ دیا گیا ہے کہ ان کا اثر و رسوخ ، جو 40 سے 50سیٹوں پر محیط تھا اب سکڑ کر 15سے 20سیٹوں تک رہ گیا ہے۔ کیونکہ ان کو خدشہ تھا کہ کانگریس کی طرف سے گورو گوگوئی کو وزیر اعلیٰ کے امیدوار کے بطور پیش کرنے سے یہ پورا قبیلہ کانگریس کے ساتھ جاسکتا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ آسام کے اوپری علاقے میںبی جے پی اچھی کارکردگی نہیں دکھا پا رہی ہے، اس لئے اس کی نظریں براک وادی میں بنگالی ہندو ووٹروں پر لگی ہوئی ہیں۔ نشیبی آسام میں چونکہ مسلمانوں کی تعداد اچھی خاصی ہے، اس لئے وہاں سے اس کو ووٹ ملنا مشکل ہے۔ اس خطے میں اس کی واضح اسٹریٹجی مسلم ووٹوں کو تقسیم کرنے کی ہے۔ بدرالدین اجمل کی جماعت، آل انڈیا یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ، مسلمانوں کی نمائندگی کا دعویٰ کرتی ہے، مگر اس کی موجودگی اکثر کانگریس کے ساتھ ووٹ تقسیم کر کے بی جے پی کو فائدہ پہنچاتی ہے۔کانگریس بھی ہندو ووٹوں کو لبھانے کیلئے مسلمانوں کیلئے انتخابی گنجائش پیدا کر نے سے گریز کرتی ہے۔ اگر کانگریس اس خطے میں بدرالدین اجمل کے ساتھ ملکر میدان میں اترتی، تو انتخابی نقشہ مختلف ہوتا۔ پولارائزیشن کے علاوہ پچھلے کئی برسوں سے بی جے پی نے اقتدار میں رہنے کا ایک نیا فارمولا ڈھونڈ نکالا ہے، وہ یہ ہے کہ خواتین پر توجہ مرکوز کرکے انتخابات سے قبل ان کے بینک اکاونٹ میں کچھ رقم جمع کی جائے۔ یہ حکمت عملی بہار، مدھیہ پردیش، مہا راشٹراسمیت کئی صوبوں میں کامیاب ہو گئی ہے۔ آسام میں ایک اسکیم کے تحت گھریلو خواتین کو ماہانہ ایک ہزار سے بارہ سو روپے دئے جاتے ہیں۔ انتخابی عمل کے اعلان سے ذرا قبل وزیر اعلیٰ نے چار ماہ کا ایڈوانس بونس یعنی نو ہزار روپے 40لاکھ خواتین کو دینے کا اعلان کیا۔ یہ ایک طرح سے کھلی انتخابی رشوت ہے، مگر انکو امید ہے کہ خواتین کی ایک بڑی تعداد بی جے پی کو ووٹ دے گی۔ اسی طرح دس خواتین پر مشتمل سیلف ہیلپ گروپ کو ایک لاکھ روپیہ دیا گیا ہے، یعنی دس ہزار روپیہ فی خاتون۔ مغربی بنگال میں صورتحال مختلف ہے۔ یہاں سیاست ہمیشہ سے نظریات، ثقافت اور زبان کے گرد گھومتی رہی ہے۔ ممتا بنرجی کی قیادت میں ترنمول کانگریس ایک مضبوط قوت کے طور پر موجود ہے، مگر بی جے پی نے بھی گزشتہ برسوں میں اپنی جگہ بنائی ہے۔یہاں بھی پولرائزیشن کی سیاست جاری ہے۔ 1977 سے 2011 تک بائیں بازو اتحاد کی 34 سالہ حکومت نے یہاں ایک خاص سیاسی شعور پیدا کیا، جس میں طبقاتی سیاست، مزدور حقوق اور سیکولرزم مرکزی حیثیت رکھتے تھے۔ مگر وقت کے ساتھ یہ بیانیہ کمزور پڑ گیا اور ممتا بنرجی نے بھی اسی بیانیہ کو لیکر ایک نئی سیاسی جگہ پیدا کی۔آج بنگال میں اصل مقابلہ علاقائی پارٹی ترنمول کانگریس اور بی جے پی کے درمیان ہے۔ کانگریس اور بائیں بازو کی جماعتیں تقریباً غیر مؤثر ہو چکی ہیں۔ (جاری ہے)
62