ترکیہ کے عروس البلاد استنبول کے مرکز میںواقع استنبول یونیورسٹی کے تاریخی “آنر ہال” میں خزاں کی دھوپ ایک عجیب سکون کے ساتھ اتری ہوئی تھی۔ پتھروں کی ان بلند محرابوں میں ٹھہری ہوئی روشنی کے اندر کچھ نہ کچھ حرکت تھی ۔ شاید یہ ان قدموں کی لرزش تھی جن پر صدمے سے لرزتی ہوئی گواہیاں آ رہی تھیں، شاید یہ وہ نظریں تھیں جو ایک بے نام ہچکچاہٹ کے ساتھ ہال کی دیواروں پر چسپاں تصویروں سے بچنے کی کوشش کر رہی تھیں۔یا پھر شاید یہ تاریخ کی سانس تھی، جو، جانے کیوں، اس ہال میں محسوس ہو رہی تھی۔ فلسطین ویسے تو پچھلی آٹھ دہائیوں سے اسرائیلی جبر کے شکنجے میں کسمسا رہا ہے اور یہ سب کچھ ترقی یافتہ اور انسانی حقوق کے علمبردار مغرب کی آنکھوں کے سامنے ہوتا رہا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اس بار غزہ پر اسرائیل کی نسل کشی کی جنگ، جو دنیا کے ہر ڈرائنگ روم تک براہِ راست پہنچی، نے کہیں نہ کہیں مغربی سماج کا ضمیر جھنجھوڑ دیا ہے۔ حکومتیں تو ا ب بھی اپنے تزویراتی مفادات کے نفع و نقصان میں الجھی ہوئی ہیں، مگر ان ممالک کی عام آبادی بڑی حدتک اسرائیلی پروپیگنڈہ کے اثر سے باہر آچکی ہے۔ فریڈم فلوٹیلا سے لے کر عالمی غزہ ٹربیونل تک، جس نے حال ہی میں استنبول میں اپنی آخری سماعت کے بعد فیصلہ سنایا، یہ سب اشارہ کرتے ہیں کہ مغربی عوام کے ضمیر نے اپنی حکومتوں کے تزویراتی جواز قبول نہیں کئے ہیں۔ انہوں نے فلسطین کے حق میں کھڑے ہونے کو ہی سچ جانا اور اسی کا ساتھ دیا۔ اسی کڑی کی ایک شکل کے بطور حال ہی میں استنبول یونیورسٹی کے ہال میں ایک ہفتہ تک جاری غزہ ٹربیونل کی آخری سماعتیں تھیں۔ ایک ہفتہ تک یہ ہال کبھی عدالت بن جاتا، کبھی درسگاہ، کبھی تعزیتی چبوترہ اور کبھی ایک ایسی جگہ جہاں انسان اپنے ہی وجود سے سوال کرنے لگتا تھا۔ دراصل غزہ ٹربیونل کی استنبول نشست نہ صرف “اخلاقی فیصلے” کا موقع تھی بلکہ، زیادہ گہری بات یہ کہ ہر شخص کے دل میں ایک ہی بات تھی: غزہ کی کہانی کو بہرحال محفوظ رکھنا ہے۔ہال میں داخل ہوتے ہی پہلی چیز جو نظر آتی تھی، وہ کونے میں رکھا ہوا وہ بڑا سا بورڈ تھا جسے “وال آف ہوپ” کہا گیا۔ اس پر ہاتھ سے لکھے گئے پیغامات لگے تھے، جن میں غم بھی تھا، ضد بھی اور وعدے بھی۔ ایسے وعدے جو شاید زندگی کی تلخیوں میں ٹوٹ جائیں، لیکن دل کی دیوار پر ہمیشہ کے لیے درج ہو جائیں۔ وہاں کسی نے ترک زبان میں لکھا تھا:آوازیں دبائی نہیں جاتیں، وہ رخ بدل لیتی ہیں ۔‘‘ انگریزی میں ایک ننھے سے کاغذ پر لکھا تھا: سچ ملبے کی تہوں سے بھی سر اٹھا کر زندہ رہتا ہے۔‘‘اس ایک جملے میں غزہ کے ملبے سے اٹھتی ہوئی صدائیں سنی جا سکتی تھیں۔ ہال کے دوسرے حصے میں ’’دی لیونگ آرکائیو‘‘ کی نمائش تھی، جو بظاہر چند ٹوٹی پھوٹی اشیا پر مشتمل تھی مگر حقیقت میں وہ پورا شہر تھی۔بدقست غزہ کی پٹی۔ ایک جلا ہوا وائلن، ایک ٹوٹا ہوا کیمرہ، ایک ایسی نوٹ بک جس کے ورق آدھے راکھ بن چکے تھے، ایک بچے کا کھلونا جس کے رنگ بارود کی سیاہی سے ماند پڑ گئے تھے۔ یہ اشیاء کسی میوزیم کی طرح نہیں رکھی گئیں تھیں، بلکہ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے وہ ابھی بھی اپنے مالکوں کی سانسوں سے گرم ہوں، جیسے جنگ نے انہیں کسی لمحے میں اچانک روک دیا ہو۔ اسی دوران ٹربیونل کی جیوری نے آرڈر آرڈر کہہ کر سبھی کو خاموش کرادیا ۔ ایک کے بعد ایک گواہیاں شروع ہوگئیں۔ یہ وہ مقام تھا جہاں دل اور دماغ دونوں بیک وقت شکست قبول کرتے نظر آتے تھے۔غزہ کے خان یونس علاقہ سے آئے ایک ڈاکٹر نے بتایا کہ کیسے جنریٹر بند ہو جانے پر وہ بچوں کے اعضا بغیر بے ہوشی کے کاٹتے رہے۔ اس کی آواز میں وہ لرزش تھی جو صرف وہی محسوس کر سکتا ہے جس نے ظلم کو چھوا ہو۔ ایک استاد نے کہا کہ سکول پر حملے کے بعد بچے پنسل اٹھانے سے ڈر گئے ہیں۔ ان کی انگلیاں بھی کانپتی ہیں، جیسے پنسل نہیں، کوئی بارودی ڈنڈی ہاتھ میں تھمائی جا رہی ہو۔ ایک صحافی نے بتایا کہ کیسے اس کا نیوز روم پہلے پناہ گاہ بنا، پھر مردہ خانے میں بدل گیا۔ وہ کہہ رہا تھا، ’’میں خبر لکھتا رہا، مگر آخر میں خود خبر بن گیا۔‘‘ہر گواہی کے ساتھ ہال کے اندر سکوت کی تہیں گہری ہوتی جا رہی تھیں۔ لوگ اپنی سانسیں بھی آہستہ لیتے تھے۔ کہیں کہیں کسی کی ہچکی دب نہ پاتی، لیکن مجموعی ماحول میں سلیقہ اور شائستگی تھی۔ غزہ ٹربیونل اپنی بنیاد میں ایک شہری عدالت ہے، جس کی بنیاد لندن میں 2024 کے آخر میں ڈالی گئی۔ جب ریاستیں خاموش رہیں، جب عالمی عدالتیں بے بس ہو گئیں، جب سلامتی کونسل کی میز پر بار بار ایک ہی ملک کا ویٹو ظلم کی سیاہی کو تحفظ دیتا رہا، تو انسانوں نے خود فیصلہ کیا کہ ضمیر کی عدالت قائم کی جائے۔یہی وہ لمحہ تھا جب پروفیسر رچرڈ فالک، ہلال ایلور، راجی سورانی، پینی گرین، کریگ موخیبر، مائیکل لنک جیسے ماہرین جمع ہوگئے۔ ان سب نے ایک دوسرے کی آنکھوں میں وہ سوال دیکھا جو دنیا میں کروڑوں انسان پوچھ رہے تھے۔ اگر عالمی ادارے ناکام ہو جائیں تو انصاف کہاں جائے گا؟ جواب سادہ تھا: لوگوں کے پاس، ان کے ضمیر کے پاس۔ ٹربیونل اسی جواب کا عملی اظہار تھا۔اس کے تین بڑے چیمبرز تھے ۔بین الاقوامی قانون، عالمی نظام اور تاریخ و اخلاقیات۔ ان تینوں چیمبرز نے پورے ایک سال گواہیوں، تصاویر، عالمی قوانین، بین الاقوامی رپورٹوں، سیٹلائٹ کا ڈیٹا، پناہ گزینوں کے بیانات، ڈاکٹروں کے ریکارڈ، اور صحافیوں کی رپورٹس کو جمع کیا۔ پھر ایک ’’ضمیر کی جیوری‘‘ قائم کی گئی، جس میں دنیا بھر کی معتبر شخصیات شامل تھیں۔ اس جیوری نے لندن اور بوسنیا اور ہرزگونیا کے دارالحکومت سراجیوو میں ایک سال تک سماعتیں کیں۔ آخری سماعت ایک ہفتہ تک حال ہی میں استبول میں منعقد ہوئی۔ سماعت کے دوران جب جب اسرائیل کی طرف سے عائد جبری بھکمری پر گفتگو ہوئی تو ہال میں کچھ آنکھیں جیسے پتھر ہو گئیں۔ ایک گواہ نے بتایا کہ غزہ میں ایسے لوگ ہیں جو ایک ماہ تک صرف پانی اور آٹے کی دھول پر زندہ رہے۔ ایک ماہر نے شہادت دی کہ مٹی میں ایسے زہریلے کیمیکل پائے گئے جو آئندہ نسلوں کے لیے بھی موت کا پیغام ہیں۔ گھروں کی تباہی پر ایک فلسطینی نوجوان نے کہا: ہم گھر دوبارہ بنا لیں گے، مگر جن یادوں کا ملبہ بنا دیا گیا ہے، انہیں کون اٹھائے گا؟ ان گواہیوں کے بیچ میں Witness Eye نامی ایک صحافتی منصوبے نے بتایا کہ وہ کیسے میٹا ڈیٹا کو محفوظ رکھتے ہیں تاکہ ریکارڈ کسی ڈیجیٹل حملہ سے محفوظ رہے۔ ترک انسانی حقوق تنظیم MAZLUMDER مظلوم دیر نے اپنی فیلڈ رپورٹس پیش کیں اور یاد دلایا کہ ’’عینی شہادت مستقبل کی عدالت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔‘‘ یہ ٹربیونل اخلاقی ہی سہی ، مگر اس کے سامنے پیش کئی گئی شہادتیں چونکہ عدالتی کاروائی اور جانچ پڑتال کے عمل سے گذر گئیں، اس لئے ان کو مستقبل کی کسی فوجداری عدالت کیلئے محفوظ رکھا جائیگا۔ (جاری ہے)
93