یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ آج کی دنیا میں جو ممالک ہر سطح کی بالادستی تک پہنچ چکے ہیں یہ سب کچھ تعلیم و تحقیق اور عملی تربیت کی بدولت ہے‘تعلیم کی یہ اہمیت اسلامی تعلیمات میں بھی اظہر من الشمس ہے مگر شومئی قسمت کہ ہمارے ہاں تعلیم کو ریاستی ترجیحات سے ہی باہر رکھ دیا گیا‘ جس کا نتیجہ سب کے سامنے ہے‘بالخصوص دہشت گردی اور اس سے قبل افغان جنگ کے سبب ہر طرح سے متاثر ہونے والے صوبے پختونخوا میں تو تعلیم کی ابتری اب اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ ملک کی قدیم درسگاہ کا مستقبل تاریک ہوتا نظر آرہا ہے‘ شاید یہی وجہ ہے کہ جامعہ پشاور کے سینکڑوں اساتذہ پر مشتمل فیکلٹی نے مایوسی اور خدشات کے بھنور میں پھنس کر یہ مطالبہ کر دیا کہ پشاور یونیورسٹی کو اٹھارویں ترمیم سے نکال کر جامعہ کے مالیاتی انتظام و انصرام کو وفاق کے حوالے کیا جائے یہ مطالبہ کسی ایک فرد کا نہیں بلکہ اس وقت پانچ سو ٹیچرز پر مشتمل جنرل باڈی کی ایک باقاعدہ اور متفقہ قرارداد میں کیا‘جامعہ کی اس قدر ناگفتہ بہ حالت تک پہنچنے کی وجوہات ڈھکی چھپی نہیں‘ سب سے پہلے تو یہ کہ اب یہ بات یقینی ہی نہیں رہی کہ ملازمین کو تنخواہ اور پنشن مقررہ وقت پر ملے گی۔ساتھ ہی ریسرچ اور سکالر شپ کیلئے فنڈ کا فقدان جبکہ ترقیاتی فنڈ تو ماضی کا قصہ رہ گیا ہے جامعہ کے اساتذہ گزشتہ آٹھ سال سے قواعد و ضوابط کے برعکس ترقی کے قانونی حق سے محروم ہیں جبکہ بات بات پر سیاسی بنیادوں پر حکومتی مداخلت اب ایک معمول بن گیا ہے‘انتظامیہ مختلف وجوہات کی بناء پر حکومت کے سامنے بے بس ہے جبکہ اساتذہ اور غیرتدریسی ملازمین گزشتہ کئی سال سے احتجاج کے باوجود کوئی تبدیلی لانے سے قاصر ہوگئے ہیں‘جہاں تک تدریسی عمل کے بائیکات کا تعلق ہے تو یہ سوال بھی جواب طلب ہے کہ صوبے میں سب سے زیادہ مہنگی تعلیم دینے والی یونیورسٹی کے طلباء آخر کیونکر تعلیمی ضیاع سے دوچار ہو جائیں؟ دراصل یہ محرومی اور مایوسی کے احساسات و جذبات کا ہی نتیجہ ہے کہ حالت بیسک سٹیک ہولڈر یعنی اساتذہ کی طرف سے جامعہ کو وفاق کے حوالے کرنے کے مطالبے کی نہج پر پہنچ گئی ہے اساتذہ قیادت نے احتجاج کیساتھ ساتھ جامعہ کی دگرگوں حالت اور اپنے حقوق کا مقدمہ ذرائع ابلاغ کے سامنے بھی رکھ دیا ہے‘اساتذہ قیادت سے ایک صحافی کا یہ سوال اپنی جگہ اہمیت کا حامل ہوگا کہ یونیورسٹی کی انتظامیہ میں تو بیشتر نشستوں پر اساتذہ کام کررہے ہیں تو پھر انتظامیہ پر نکتہ چینی چہ معنی دارد؟ یہ بات بالکل درست سہی مگر سوال دراصل یہ ہے کہ ترامیم کی زد میں آکر مسخ شدہ ایکٹ کے تحت اگر انتظامی پوسٹوں سے اساتذہ کو ہٹا کر آفیسرز بھرتی کئے جائیں تو ان پر اٹھنے والے اخراجات کہاں سے آئیں گے؟ ٹیچر تو کلاس اور ریسرچ کیساتھ نہایت قلیل معاوضہ یا اعزازیہ لیکر انتظامی امور نمٹا رہے ہیں لیکن اس کے باؤجود بھی دوسری کئی طرح کی مالی دشواریوں اور محرومیوں کو چھوڑ کر محض تنخواہ بھی وقت پر نہیں ملتی تو انتظامیہ کی کم از کم تیس فی صد انتظامی پوسٹوں کو ایڈمن کیڈر سے پر کرنے کی صورت میں تو پھر جامعہ کو تالے لگانے کی نوبت آئے گی اگر کوئی اس بات سے متفق نہ ہو تو پھر وضاحت کرکے طریقہ بتا دیں؟ بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ تعلیم ہماری ریاست کی ترجیحات میں شامل نہیں اور جب تک یہی پالیسی رہے گی تب تک تعلیم اسی طرح دگرگوں بلکہ حالت نزع میں رہے گی‘اب بھی وقت ہے کہ اگر تعلیم کو آئینی ذمہ داریوں کے مطابق سنبھالا جائے تو جامعہ پشاور جیسی قدیم درسگاہوں کا مستقبل تاریک ہونے سے بچ سکے گا اورساتھ ہی ملازمین کے احتجاج بالخصوص اساتذہ کی طرح سے تدریسی عمل کے بائیکاٹ کی نوبت بھی نہیں آئے گی۔
Maps
اعلیٰ تعلیم‘ خدشات و تحفظات کا بھنور