تعلیم کو چار دو‘ قصہ پارینہ.....

تعلیم کو چار دو کی مہم ایک عشرے تک جاری رہی‘ انجینئرنگ کالج پشاور کو غالباً 1980ء میں یونیورسٹی کا درجہ ملا تھا لیکن جامعہ پشاور کا یہ سابقہ کالج انجینئرنگ کالج سید امتیاز حسین گیلانی کے آنے تک ہر لحاظ سے کالج ہی رہا‘ سال 2004ء کے بعد یونیورسٹی بنانے کی ہمہ جہت کوششوں کے ساتھ ساتھ انجینئر گیلانی نے تعلیم کو چار دو کی مہم بھی شروع کر دی یعنی کل قومی بجٹ کا چار فیصد تعلیم کیلئے مختص کرنا مگر اس کے باوجود کہ یہ آواز ہر فورم پر اٹھائی گئی مگر کسی نے بھی نہیں سنی‘ یہ اس وقت کی بات ہے کہ صوبے میں یونیورسٹیاں بنانے کا ابتدائی مرحلہ تھا جبکہ انجینئرنگ یونیورسٹی میں ملازمین کو چھوڑ کر طلباء‘ اساتذہ اور شعبہ جات کی تعداد اس وقت کے نصف کے برابر تھی‘ پی ایچ ڈی ہولڈر فیکلٹی برائے نام تھی‘ جدید ٹیکنالوجی اور سمسٹر سسٹم شاید تصورات میں تھا‘ انجینئرنگ یونیورسٹی کا جلوزئی کیمپس بھی کاغذات میں موجود تھا‘ تعلیم کو چار دو مہم کے ساتھ ساتھ جلوزئی کیمپس کے قیام کا آغاز بھی ہوا اور لگ بھگ دو بلین روپے کے اس پراجیکٹ کے تحت درجنوں اساتذہ کو پی ایچ ڈی کیلئے ترقی یافتہ ممالک میں بھجوا دیا گیا اور یوں پی ایچ ڈی فیکلٹی کی تعداد ایک سو سے زائد ہو گئی جو کہ اس وقت اس سے بھی زیادہ ہے‘ دراصل انجینئر گیلانی کی مہم کو کامیاب بنانا ہی تعلیم کی حقیقی اور بنیادی ضرورت تھی مگر دوسری یونیورسٹیوں کے 
اساتذہ‘ نان ٹیچنگ سٹاف اور انتظامیہ نے اس جانب دھیان نہیں دیا اور یوں تعلیمی بجٹ نہ ہونے کے برابر یعنی وہی ایک اعشاریہ پانچ فیصد رہا‘ درحقیقت پیسوں کیلئے یہ موجودہ جھگڑا جس میں حال ہی میں خیبر پختونخوا اسمبلی کے بعد بلوچستان اسمبلی کے باہر بھی لاٹھیوں اور شیلنگ سے کام لیا گیا یہ خلفشار‘ انتشار‘ مایوسی اور دھینگا مشتی اس لئے ہے کہ تعلیم کا بجٹ نہیں ہے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ پشاور یونیورسٹی کے اساتذہ نے ملگری بابوگان کے ہمراہ تقریباً ایک عشرہ قبل اسی اسمبلی کے سامنے لاٹھیوں اور شیلنگ کی بارش کا سامنا کیا تھا بلکہ اس وقت کے صدر قاضی فضل ناصر نے تو اپنا خون تک بہا دیا تھا مگر نتیجہ تاحال صفر ہی رہا ہے‘ ایک بار پھر یونیورسٹی اساتذہ نے نان ٹیچنگ سٹاف کے ساتھ مل کر اتحاد تشکیل دیا ہے مگر غالب گمان یہ ہے کہ تعلیم اور تعلیمی اداروں سے منسلک لوگ محروم ہی رہ جائیں کیونکہ تعلیم ان خواص کا مسئلہ ہی نہیں جن سے ملازمین تعلیمی بجٹ‘ تنخواہیں‘ مراعات اور پنشن بڑھانے کا مطالبہ کر رہے ہیں‘ 
امید یا توقع پر کوئی قدغن نہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ پورے خطے میں پاکستان واحد ملک ہے جہاں پر تعلیم کا بجٹ نہ ہونے کے برابر جبکہ شرح خواندگی سب سے کم ہے‘ وقت کا تقاضا یہ ہے کہ ملازمین اپنی توجہ تعلیمی بجٹ میں اضافے پر مرکوز کر دیں اور انتظامیہ کفایت شعاری یعنی اپنے اخراجات میں ممکنہ حد تک کمی کو اپنے سٹرٹیجک پلان میں سرفہرست رکھیں‘ معاملہ فہم لوگوں کے نزدیک اس وقت جو اخراجات ہو رہے ہیں اس میں کمی کی کافی گنجائش پائی جاتی ہے‘ سبکدوش ملازمین بالخصوص کلیدی عہدوں پر فائز رہنے والے اور ایلومنائے کو بھی آگے آنا ہو گا کیونکہ ملک میں امن‘ معاشی آسودہ حالی‘ جمہوریت اور استحکام جیسے مسائل یا ضرورت کو تعلیمی ترقی کے بغیر پوری کرنا ممکن نہیں‘ اس مہم‘ مشن بلکہ اصلاحات اور قربانی میں خواص یا اشرافیہ کو بھی بری الذمہ نہیں سمجھا جا سکتا یعنی وہ لوگ جو اقتدار میں رہتے ہیں۔ حکومتی ساخت و سائز اور خواص کو حاصل مراعات اور اخراجات پر نظرثانی کر کے تعلیم کو بہت کچھ دیا جا سکتا ہے‘ سال 2025-26ء کے بجٹ میں تعلیمی بجٹ میں کتنا اضافہ کیا گیا؟ ملازمین کی تنخواہوں‘ پنشن اور الاؤنسز یا مراعات کتنی بڑھیں؟ جو اضافہ کیا گیا اس کی ادائیگی کیلئے یونیورسٹیوں کو حکومت کی طرف سے کتنی گرانٹ ملے گی؟ جو کچھ دیا جا رہا ہے اسکے حساب و کتاب اور احتساب کا کوئی نظام یا میکانزم بنایا گیا ہے یا نہیں؟ بلاشبہ یہ اس وقت کے جواب طلب بلکہ چبھنے والے سوالات ہیں۔ 

بشکریہ روزنامہ آج