فاصلاتی نظام تعلیم‘ نیا دور؟

    سنا ہے کہ جامعہ پشاور میں فاصلاتی نظام تعلیم یا ڈسٹنس ایجوکیشن کا نظام جدید خطوط پر استوار کر کے طویل بریک یا وقفے کے بعد ازسرنو شروع کرنے کی تیاریاں ہو رہی ہیں‘ یونیورسٹی کی اکیڈمک کونسل نے اعلیٰ تعلیمی کمیشن کی گائیڈ لائن کے مطابق نظام میں جدیدیت لانے کی منظوری دی ہے جبکہ اصلاح یا نظرثانی کی ذمہ داری شعبہ علوم ماحولیات کے استاد ڈاکٹر محمد نفیس خان کو سونپ دی گئی ہے‘ ہرچند کہ شعبہ انوائرمنٹل سائنسز کے معلم کے کہنہ مشق پن میں کوئی شک  و شبہ نہیں لیکن اس وقت ماحولیات کے علوم کی تدریس و تحقیق اور تربیت کی جتنی ضرورت ہے شاید اس سے قبل کبھی نہیں تھی کیونکہ پہلے تو باغات‘کھیتی باڑی‘ ہریالی‘ صاف پانی‘ مٹی اورکثافت  سے پاک ہوا کا دور تھا اور اب پورے ملک کا‘کیا کہئے وادیئ پشاور کے سرسبز صحت افزاء مقام یونیورسٹی کیمپس میں بھی سانس لینا دشوار ہوگیا ہے بہرکیف کہا جاتا ہے کہ فاصلاتی نظام تعلیم کو جدید خطوط پر استوار کرنے کا کام تقریباً مکمل ہو چکا ہے بس اب داخلہ شیڈول کے اجراء کا انتظار
 ہے معلوم نہیں کہ یہ نظام پہلے کی طرح اب بھی نادار طلباء بالخصوص معمولی سی ملازمت بلکہ نوکری کرنے والے غریبوں کیلئے فائدہ مند یعنی آگے بڑھنے کا ایک موقع ہوگا یا لیپ ٹاپ اور روزانہ آن لائن کلاس کی پابندی ہوگی؟ ویسے پرائیویٹ بی اے اور ایم اے کے خاتمے کے ساتھ تو غرباء و مساکین کیلئے حصول تعلیم کے دروازے بند ہوگئے ہیں مگر اب یہ دیکھنا ہے کہ جدید طرز کے فاصلاتی نظام تعلیم میں نادار طلباء کے لئے آگے بڑھنے کا موقع ہوگا یا نہیں؟ داخلہ اور ٹیوشن فیس کے بارے میں بھی ابھی کچھ نہیں کہا جاسکتا کیونکہ موجودہ تعلیمی ابتری میں یونیورسٹی کے پاس فیس اور دیگر چارجز یا واجبات بڑھانے کے سوا شاید کوئی دوسرا چارہ نہ ہو‘ یہ بات اپنی جگہ کہ یونیورسٹی انتظامیہ کے متعلقہ لوگوں کے بقول یونیورسٹی نے گزشتہ کئی سال سے اس کے باوجود  فیسوں میں اضافہ نہیں کیا ہے کہ ہر سال10فیصد اضافہ یونیورسٹی سنڈیکیٹ کافیصلہ ہے لیکن غور طلب امر یہ بھی ہے کہ اگر یہ بات درست یا سچی ہے تو پھرطلباء آئے روز احتجاج کیوں کر رہے ہیں؟ جبکہ بہت سے سکالر شپ کے کیونکر منتظر اور بعض تعلیم کو الوداع کہنے پر کیوں مجبور ہو رہے ہیں؟ بہتر ہوگا کہ فاصلاتی نظام تعلیم کا شروع ہونے والا نیا دور غریب طلباء کے لئے آگے بڑھنے کا راستہ کھول دے‘ ہاں وہ لوگ جس کے لئے مملکت خداداد کے بہت سے حکمران سیاسی بڑوں نے کئی بار کہا تھا کہ مزدور یا ورکر کی تنخواہ ایک تولہ سونے کی قیمت کے مساوی ہوگی مگر خواب و خیال کے یہ
 سبز باغ اب بھی اپنی جگہ قائم ہیں ممکن ہے کہ ترامیم کے اس دور میں اب کوئی خواص ماضی کے وعدے یا نعرے پر نظرثانی کرکے یہ کہہ دیں کہ ورکر کے ایک سال کی تنخواہ ایک تولہ سونے کی مالیت کے برابر ہوگی۔چلئے دیکھتے ہیں کہ ڈسٹنس ایجوکیشن کے نئے سیشن کی شروعات نادار طلباء کے لئے کیا خوشخبری لے کرآتی ہیں؟  کیونکہ پرائیویٹ بیچلر یا بی اے کی تو بساط لپیٹ  دی گئی جبکہ ایم اے کا امسال ہونے والا محض ایک امتحان باقی ہے جس میں ناکام ہونے والے طلباء کے لئے اگر فاصلاتی نظام تعلیم کا ذریعہ رہ جائے تو بہتر ہوگا ورنہ قصہ کوتاہ‘ اگرچہ یونیورسٹی میں جدید ڈسپلن متعارف ہونے کیساتھ نئے تجربات بھی ہو رہے ہیں جیسے شعبہ امتحانات کے 75سالہ ریکارڈ کو کمپیوٹرائز کرکے محفوظ بنانا اور ساتھ ہی ملحقہ پرائیویٹ کالجز کے بی ایڈ امتحان سے ای مارکنگ سسٹم کا اجراء اس سلسلے کی اہم کڑیاں ہیں لیکن بہتری تب مانی جائے گی کہ یہ تجربات کامیاب ہوں اور نتائج زوال پذیر تعلیم کے حق میں نکل آئیں۔
 

بشکریہ روزنامہ آج