جامعہ پشاور نے جون کی تنخواہ بالآخر 10جولائی کو ادا کردی مگر وہ بھی بیسک کی بجائے محض گریڈ16 تک کے ملازمین کو دی گئی کہتے ہیں کہ اس کے بعد اسی حساب سے پنشن بھی ادا ہوگی۔ یعنی گریڈ2 سے 16 تک (یونیورسٹیوں میں گریڈ ون نہیں ہوتا یعنی بھرتی گریڈ2 سے شروع ہوتی ہے) اس دوران ملازمین اتحاد کی نشتند گفتند اور برخاستند کا سلسلہ اور تندو تیز بیانات جبکہ انتظامیہ کی طرف سے حکومت سے رابطوں اور فریاد کا طریقہ بھی آزمایا جاتا رہا مگر لاحاصل رہے اور یوں یونیورسٹی نے اپنے تمام ذرائع آمدن یا جمع پونجی اکٹھا کرکے کلاس فور اور کلاس تھری کی دہائیوں سے چھٹکارہ حاصل کیا کیونکہ میڈیا میں خبریں آرہی تھیں کہ غریب ملازمین کے چولہے ٹھنڈے پڑ گئے ہیں۔ویسے کلاس تھری کا درجہ گریڈ16 پر ختم نہیں ہوتا بلکہ عرصہ ہوا کہ کلاس تھری ہی والا سپرنٹنڈنٹ گریڈ17 میں پہنچ چکا ہے بلکہ ان میں گریڈ18 والے بھی پائے جاتے ہیں یہ الگ بات ہے کہ یونیورسٹی افسر کا ابتدائی گریڈ17 ہوتا ہے۔ مطلب جامعات دفاتر میں یہ عجوبہ دیکھا جاسکتا ہے کہ کسی سیکشن کا اسسٹنٹ ڈائریکٹر رجسٹرار یا ٹریژرر تو گریڈ17 میں بیٹھا کام کرتا ہے اور ان کا ماتحت سپرنٹنڈنٹ گریڈ18میں ہوتا ہے؟ بہرکیف یہ بھی اسی نوعیت کی بات ہے جیسے یونیورسٹی سے باہر کالج کا لیکچر گریڈ17 اور پروفیسر گریڈ20 میں ہوتا ہے اور یونیورسٹی میں گریڈ18 میں بھرتی ہوکر گریڈ 21 میں پہنچ جاتا ہے؟ ہاں تو بات ہورہی تھی جامعہ کی لٹکی ہوئی تنخواہ کی جوکہ ایڑی چوٹی کا زور لگاکر بالآخر حکومتی گرانٹ کے بغیر دی گئی مگر پوری نہیں ادھوری۔ یہ حالت اس تلخ حقیقت کی نشاندہی کے لئے کافی ہے کہ صوبے کی پرانی جامعات کا مستقبل ایک سوالیہ نشان بنتا جارہا ہے کیونکہ جب جون کی تنخواہ اور وہ بھی جزوی طور پر 10جولائی کے بعد دی گئی تو 20تاریخ کے بعد تو اگلے مہینے کی تنخواہ سازی کی شروعات ہوتی ہیں۔ مطلب جولائی کا کیا بنے گا؟ یہ درست ہے کہ جولائی کے آخری ہفتے میں وفاقی گرانٹ کا ملنا متوقع ہے مگر وہ کتنی ہوگی؟ یہی تیس سے چالیس کروڑ تک اور جامعہ کے توخیر سے فی الوقت ماہانہ اخراجات 50کروڑ سے آگے نکل چکے ہیں۔لہٰذا کمی کہاں سے پوری ہوگی؟ دوسری جانب ملازمین اتحاد نے ابھی سے 10فیصد تنخواہ 7 فیصد پنشن اور 30 فیصد ڈسپیریٹی الاؤنس کو نئے سال کی تنخواہوں میں شامل کرنے کا مطالبہ کردیا ہے‘بلاشبہ کہ بجٹ اضافوں کا حصول ملازمین کا حق ہے مگر ادائیگی کے لئے جومالی وسائل درکار ہیں اس کا تو دور دور تک کوئی نام ونشان نظر نہیں آرہا۔ صرف یہ نہیں بجلی گیس تیل اور دفتری اخراجات کہاں سے پورے ہوں گے؟ لہٰذا گھوم پھر کر بات وہی آجاتی ہے کہ کم از کم خیبر پختونخوا کی حد تک پرانی یونیورسٹیوں کا مزید چلنا ناممکن ہوتا نظر آرہا ہے۔ ایسے میں صوبائی حکومت نے جامعات سے پانچ سالہ پلان کی تفصیلات بھی طلب کرلی ہیں جس کی تیاری خالی ہاتھ سے جاری ہے‘ اس سے قبل غالباً گزشتہ سال پنشن کی تفصیلات طلب کی گئی تھیں بعدازاں پنشن کے لئے خطیر فنڈ کا اعلان بھی کیاگیا مگر تاحال جامعات کو غالباً کوئی ٹکہ پیسہ نہیں ملا اور نہ ہی حکومت نے پنشنرز کو اپنی طرف طلب کیا اس لئے توریٹائرڈ ملازمین آئے روز جامعہ کے کمیونٹی سنٹر میں اکٹھے ہوکر اپنا مطالبہ دہراتے ہوئے تھکتے نہیں، یہ حالت بلاشبہ بغیر کسی منصوبہ بندی کے جامعات کو صوبوں کی جھولی میں ڈالنے کا نتیجہ ہے، اب ضرورت اس امر کی ہے کہ صوبہ یونیورسٹی کو سنبھالنے اور چلانے کیلئے آگے آئے یا کم ازکم متاثرین یہ معلوم کریں کہ جامعات مالی اورانتظامیہ دونوں لحاظ سے صوبوں کے حوالے کی گئی ہیں یا محض انتظام حوالے کرکے مالیات کو وفاق کے پاس رکھا گیاہے؟جامعات متاثرین کو اسی معلومات کی بناء پر اپنی کوششیں یا احتجاج ترتیب دینا چاہیے۔ معلوم ہونا چاہیے کہ صوبے کی پرانی جامعات کی ابتر حالت کس کی غفلت کا نتیجہ ہے؟
بالآخر اپنی مدد آپ....