کیا احتجاج ضروری ہوتا ہے؟

اگرچہ حکومت کی طرف سے پشاور یونیورسٹی انتظامیہ کو فیکلٹی کی ترقی اور اس کے نتیجے میں مزید خالی ہونے والی آسامیوں پر مستقل اور ایڈہاک ٹیچرز کی بھرتی اور تعیناتی کے لئے اجازت یا این او سی یعنی نو اوبجیکشن سرٹیفکیٹ مل گیا مگر اساتذہ قیادت کا دو ٹوک مؤقف یہ سامنے آیا کہ اصل مسئلہ تو ٹیچرز کی ترقی کا ہے جس کے لئے سلیکشن بورڈ کا اہتمام ایک قانونی تقاضا ہے لہٰذا وائس چانسلر جب تک سلیکشن بورڈ طلب نہیں کریں گے تب تک تدریسی عمل معطل رہے گا‘ ویسے اساتذہ کا یہ مطالبہ کوئی نئی بات یا ڈیمانڈ نہیں اور نہ ہی ٹیچرز نے پہلی مرتبہ کلاسز کا بائیکاٹ کیا ہے بلکہ اساتذہ تو گزشتہ آٹھ سال سے یہ مطالبہ دھراتے ہوئے احتجاج کر رہے ہیں لہٰذا قواعد و ضوابط اور ترمیمی ایکٹ 2016ء اور اس کے بعد ہونے والی ترامیم کی رو سے بغیر کسی احتجاج اور بائیکاٹ کے مسئلہ حل ہونا چاہئے تھا مگر نہ جانے معاملات کو طول کیوں دیا جا رہا ہے؟ اساتذہ کے احتجاج کے گزشتہ دو عشروں کی روداد کو دیکھتے ہوئے یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ ان لوگوں نے انتظامیہ اور حکومت پر اگر کوئی بات جزوی طور پر بھی منوا لی ہے تو اس کے لئے طلباء اور بعض احتجاجات میں دوسرے لوگوں کو بھی زحمت اور وقت کے ضیاع کا سامنا کرنا پڑا ہے‘ ماضی قریب کے 
احتجاج میں اگر پورے کیمپس کی سطح پر ملازمین ایکا کو دیکھا جائے تو جامعہ ایک سسٹر یونیورسٹی کے دو نمائندوں حاجی صلاح الدین احمد اور کلاس تھری کے افتخار احمد عرف ڈرون کا پلڑا کافی بھاری مانا جائے گا‘ اسی طرح ہمارے دانشور اور مصنف استاد پروفیسر یاسین اقبال بھی سبکدوش ہونے تک اس محاذ پر حد درجہ سرگرم رہے اور اس وجہ سے حکومت اور انتظامیہ دونوں کے لئے ناپسندیدہ لوگوں کے زمرے میں شامل رہے‘ توقع ہے کہ جامعہ کے وائس چانسلر پیوٹا بائیکاٹ کے ہاتھوں طلبہ کو مزید تعلیمی ضیاع سے دوچار کرنے کی بجائے اساتذہ کی ترقیوں کے آخری مرحلے یعنی سلیکشن بورڈ کو بلاتاخیر طلب کریں گے کیونکہ اس کے بغیر اب کوئی چارہ نہیں رہا۔ سنا ہے کہ فیکلٹی اتحاد کے احتجاج کے ثمرات سے جامعہ کے 222 ٹیچرز مستفید ہوں گے ان میں گریڈ 20 کے 48 ایسوسی ایٹ ٹیچرز گریڈ 21 کے پروفیسر 54 اسسٹنٹ پروفیسرز پروموٹ ہو کر گریڈ 20 کے 
ایسوسی ایٹ جبکہ 117 لیکچررز گریڈ 19 کے اسسٹنٹ پروفیسر بن جائیں گے۔ گزشتہ آٹھ سال سے متاثر ہونے والے ان اساتذہ میں 50 کے قریب خواتین بھی شامل ہیں جو پی ایچ ڈی ہولڈر ہوتے ہوئے بھی کوئی ڈیڑھ عشرہ اور کوئی ایک عشرہ سے لیکچرر کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اس مسئلے کے حل یا باالفاظ دیگر حکومت سے این او سی کے حصول میں اساتذہ کے دوسرے سرگرم فورم انٹولیکچول نے بھی اپنے اثر و رسوخ کو بروئے کار لا کر کلیدی کردار ادا کیا جن میں ممبر سنڈیکیٹ اور فورم کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر سلیمان خان کو کچھ زیادہ کریڈٹ دیا جاتا ہے۔ بہرکیف ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ احتجاج‘ بائیکاٹ اور طلبہ کے تعلیمی ضیاع کے بغیر مسئلہ اس سے پہلے حل ہوتا کیونکہ اساتذہ کی ملازمت اور ترقی کے کچھ قواعد و ضوابط تو ہوں گے جسے ارباب اختیار کے نظر انداز کرنے سے کلاسز بائیکاٹ کی نوبت آ گئی‘ کہتے ہیں کہ سرکار کی تشویش بلکہ ایک کڑا سوال یہ تھا کہ فیکلٹی کی ترقیوں کی صورت میں اخراجات میں جو اضافہ ہو گا تو اس کا کیا بنے گا؟ دوسری جانب فیکلٹی کا جواب ہے کہ اگر حکومت اعلیٰ تعلیم کے حوالے سے اپنی آئینی ذمہ داریاں نبھائے تو ترقیوں سے کوئی مالی مسئلہ جنم نہیں لے گا‘ دیکھتے ہیں کہ مسئلہ کب حل ہو گا اور آگے چل کر جامعہ ابتری کے کون سے درجے پر پہنچ جائے گی۔ 

 

بشکریہ روزنامہ آج