722

ناراض بادشاہ کا دیا تحفہ اور پریشان وزیراعظم

اگر ایسی قیمتی گھڑی ہمیں مل جائے تو اس کی اور اپنی حفاظت کے خیال سے ہمارا جینا حرام ہو جائے گا۔ ہر شخص کے بارے میں شبہ ہو گا کہ وہ ہمیں مارنا چاہتا ہے۔ ہر دم یہی لگے گا کہ ہمارے ارد گرد پھرنے والے کسی ڈان کے یا مسٹر ایکس وائی زیڈ کے ایجنٹ ہیں جو ہر قیمت پر یہ گھڑی چھیننا چاہتے ہیں۔ چوری بھی کر سکتے ہیں، ڈاکا بھی ڈال سکتے ہیں اور قتل بھی کر سکتے ہیں۔ ایسے میں بندہ گھڑی نہ بیچے تو کیا کرے؟ جان ہے تو جہان ہے۔

کپتان کو قیمتی چیزوں یا روپے پیسے کی بھلا کیا پروا؟ شاہزیب خانزادہ کے پروگرام میں عمر ظہور اور فواد چودھری کی مبینہ چیٹ دیکھ کر ہمیں چودھری صاحب کے موقف سے اتفاق ہے کہ خان ایسا بندہ نہیں جو روپے پیسے کی پروا کرتا ہو۔ قیمتی چیز اپنے پاس دیکھ کر وہ بھی اپنے تحفظ کے لیے پریشان ہو گیا ہو گا، اس لیے گھڑی بیچ کر اپنی جان چھڑوا لی۔

ہمیں یہ بھی شبہ ہے کہ شہزادے نے کسی بات پر خفا ہو کر کپتان کو اتنی زیادہ قیمتی گھڑی دی تھی۔ پرانے زمانے میں بادشاہ جب کسی سے بہت تنگ آتے تھے تو اسے قیمتی تحفہ دے دیا کرتے تھے۔ ایسا ہی ایک واقعہ تاریخ کی موقر داستان ”تزک نادری عرف سیاحت نامہ ہند“ میں نادر شاہ درانی نے لکھا ہے کہ ملا فرقان اللہ نامی ایک شخص سے نادر شاہ درانی خفا ہوا تو بطور سزا اسے ایک قیمتی تحفہ دے دیا۔ اس کا حال آپ نادر شاہ درانی کے اپنے الفاظ میں ملاحظہ فرمائیں۔

”نوازنا ملا فرقان اللہ کو

ہمیں یقین ہو گیا کہ ہو نہ ہو یہ سب اسی ملا کی شرارت ہے۔ پہلے ہمیں خفا کر کے ایسی جلی بھنی تقریر کروانا۔ پھر سوال پوچھنے کا شوشہ جان بوجھ کر چھوڑنا۔ اگلے روز ہم نے اس کی مالی حالت کے متعلق معلومات بہم پہنچائیں۔ پتا چلا کہ ملائی کا نرا ڈھونگ ہے۔ خوب عیش و عشرت زندگی بسر کرتا ہے۔ چنانچہ ہم نے عزیزی محمد شاہ سے کہا کہ اس کی خدمات کے صلے میں اسے ایک ہاتھی انعام میں دیا جائے۔ کچھ عرصے کے بعد مخبر بھیج کر پتا کرایا تو معلوم ہوا کہ شاہی ہاتھی کے خورد و نوش پر نصف سے زیادہ اثاثہ نیلام ہو چکا ہے۔ ہم نے دوبارہ دربار میں بلا کر عزت افزائی کے بہانے ایک اور ہاتھی (جو سفید تھا) مرحمت فرمایا۔ ہفتے عشرے کے انتظار کے بعد خبر ملی کہ ملا فرقان اللہ نے خودکشی کر لی اور کیفر کردار کو پہنچا۔ ہمارے ساتھ کوئی جیسا کرے گا ویسا بھرے گا۔“

یہ تھا ایک گستاخ کو نادر شاہ کے ہاتھوں ملنے والے ایک قیمتی شاہی تحفے کا نتیجہ۔ عین ممکن ہے کہ شہزادے نے بھی اسی روایت کے تحت اتنی قیمتی گھڑی کا تحفہ دے دیا ہو کہ یہ عنایت درویش کپتان کو پریشانی میں مبتلا کرے گی لیکن دانشمند کپتان نے بروقت اسے بیچ کر اپنی جان بچا لی۔ جان تو بچ گئی لیکن کپتان کی عزت بچی یا نہیں اس کا فیصلہ مورخ ہی کر پائے گا۔

ویسے عمر ظہور اور فواد چودھری کی مبینہ چیٹ کا ذکر آیا، تو چودھری صاحب کی یہ بات بھی دل کو لگتی ہے کہ یہ وہ گھڑی نہیں جو شہزادے نے دی تھی۔ عمر ظہور جتنے اعتماد سے بات کر رہا ہے تو یہی لگتا ہے کہ اس کے پاس ثبوت موجود ہیں کہ محترمہ گوگی صاحبہ کی شکل کی کسی خاتون نے وہ گھڑی بیچی ہو گی۔ ہمارا خیال ہے کہ یہ عین ممکن ہے کہ مسٹر ایکس وائی زیڈ کی کوئی ایجنٹ، محترمہ گوگی صاحبہ کا ماسک چڑھا کر پشاور موڑ سے خریدی ہوئی فرسٹ کاپی گھڑی بچارے عمر ظہور کو دو ملین ڈالر میں ٹکا آئی ہو۔

عمران سیریز میں ایسا اکثر ہوتا تھا کہ سیکرٹ ایجنٹ پلاسٹک میک اپ کر کے کسی کا بھی روپ دھارتے اور اس کے قریبی بندے بھی فرق نہیں پہچان پاتے تھے۔ یوں اس ایجنٹ نے محترمہ گوگی صاحبہ کا روپ دھار کر سستی گھڑی کروڑوں میں بیچ کر اپنے اچھے پیسے بھی بنا لیے اور محترمہ گوگی صاحبہ اور کپتان کا نام بھی خراب کر دیا۔ اب عمر ظہور اگر لین دین کی ویڈیو بھی دکھا دے تو ہمیں تعجب نہیں ہو گا کیونکہ کیمرا پلاسٹک میک اپ تو نہیں پکڑ پائے گا۔

بشکریہ ہم سب