471

  کشمیر میں اردو کو خطرہ ہے

 

کشمیر میں لاکھوں مسائل اور ہزاروں پریشانیاں ہیں۔ان میں سے  بعض مسئلوں  کے ذمے دار ہم خود ہیں۔اہل علم باخبر ہے کہ یہاں بہت ساری زبانیں بولی اور سمجھی جاتی ہیں۔کچھ علاقائی تو کچھ ریاستی،جو زبان پوری ریاست میں بولی اور سمجھی جاتی ہے وہ  اردو  ہے۔اردو  جموں و کشمیر کے تینوں خطوں لداخ،جموں اور کشمیر میں پڑھی ، سمجھی اور بولی جاتی ہے اور تینوں خطوں میں اس کے شیدائی، اس  زبان کو پروان چڑھانے والے ،  اس کی آبیاری کرنے والے ، سمجھنے والے ،سمجھانے والے ،پڑھنے والے اور پڑھانے والے موجود ہیں۔سب سے زیادہ لوگ اسی زبان سے پیارے کرتے ہیں۔ پھر بھی کچھ لوگ  یہ واویلا مچا رہے ہیں کہ اس زبان کو خطرہ ہے، اسے کوئی نہیں پڑھتا ،اس زبان کو نظرانداز کیا جارہا ہے۔یہ سچ ہے کہ سرکاری سطح پر اس کی پذیرائی اتنی نہیں ہوئی جتنی ہونے چاہیے تھی اور نہ ہی سرکار نے اس زبان کو پھلنے پھولنے کے وہ مواقع فراہم رکھے جو اس کا حق تھا لیکن پھر بھی یہ زبان  اس درجہ بھی تنزل کا شکار نہیں جتنا کچھ کاروباری لوگ  واویلا مچا رہے ہیں۔ستم تو یہ ہے کہ اس ہائے وائے میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو   اسی  زبان سے برسر روزگار اور اسی  کی روزی کھانے والے  ہیں۔ان کے بیانات سن کر لگتا ہے کہ اردو زبان بستر مرگ پر پڑی ہےاور آخری ہچکیاں لے رہی ہے۔

کشمیر میں اردو زبان میں باقی زبانوں کے نسبت سب سے زیادہ اخبارات نکلتے ہیں۔ مختلف رسائل و جراید کی تعداد بھی کافی ہے۔اردو کے اخبارات و رسائل نکالنے والے اردو سے وابستہ تو ہیں مگر صرف کاروبار کی حد تک۔ان کو اردو کی ترقی یا اس کی ابتر صورتحال سے کوئی غرض نہیں۔ایڈیٹر حضرات بھی صرف اپنی نوکری کے خادم ہیں نہ کہ اردو کے خدمت گزار ۔پھر بھی انجانے میں ہی وہ اردو کو فروغ  تو دے رہے ہیں۔اردو میں نیوز چینلز کی اچھی خاصی تعداد موجود ہیں۔اردو کتابوں کے پبلشر بہت سارے ہیں جو سالانہ   مختلف موضوعات پر کثیر تعداد میں  کتابیں  چھاپتے ہیں اور ان کتابوں کو ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا ہے۔پھر بھی شکوہ اور واویلا مچائی جارہی ہے کہ اردو زبان خطرے میں ہے۔اصل میں یہاں زبان خطرے میں نہیں بلکہ یہ واویلا کرنے والوں کی اپنی ساکھ اور کاروبار  خطرے میں لگ رہا  ہے۔
اردو ادب کے فروغ کے حوالے سے دنیا کے مختلف ممالک میں ادبی محافل اور سیمنار منعقد ہوتے ہیں۔یہاں بھی ایسی محافل کا انعقاد جوش و خروش سے کیا جاتا ہے لیکن یہاں کے سیمنار اور پروگرام کی نوعیت مختلف اور الگ ہوتی ہے۔یہاں سیمنار میں ادیبوں اور شاعروں کے بجائے اردو پبلیشرز اور کاروبار کرنے والوں کو بلایا جاتا ہے جو ہر محفل میں یہ رونا روتے ہیں کہ اس زبان کو خطرہ ہے۔یہ اپنے  بیانات اور تقاریر میں یہ تاثر دیتے ہیں کہ اردو زبان خطرے میں ہی نہیں بلکہ کل پرسوں ختم ہونے والی ہے۔حالانکہ سچ ان کے بیانات کے برعکس ہے۔یہاں اردو زبان  اپنے شباب اور آب وتاب کے ساتھ  پھل پھول رہی ہے اور اس کے پڑھنے والوں میں بھی روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔یہاں ہر سال طلباء  کی ایک  کثیر تعداد  مختلف یونیورسٹیوں سے ایم- اے اردو کرکے نکلتے ہیں۔   اس زبان میں تحقیق کرنے والے موجود ہیں جو مختلف یونیورسٹیوں میں اس کام میں منہمک ہیں۔اتنا ہی نہیں یہاں نہ صرف بزرگ ،پختہ اور تجربہ کار ادیب اس زبان کی آبیاری کررہے ہیں بلکہ نئی نسل بھی اس جانب خاص دلچسپی لے رہی ہے اور بکثرت اردو میں لکھ رہے ہیں۔اردو کا دامن اتنا تنگ نہیں جتنی ان لوگوں کی نظر تنگ ہے جو اپنے منافع کے لیے شور وغل مچا رہے ہیں۔
کسی بھی طور ناامید ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ادبی حوالے سے یہاں کی مٹی بنجر نہیں بلکہ بڑی زرخیز ہے۔ یہاں اردو کا ماضی روشن ، حال درخشان اور مستقبل تاب ناک ہے۔کوئی اپنے منافع کے لیے واویلا مچائے اس کی طرف کم ہی دھیان دینا چاہیے۔کوئی بھی زبان منافع خوروں کے واویلا مچانے سے خطرہ میں نہیں پڑتی اور نہ ختم ہو جاتی ہے۔ ہاں ایک ٹولا ایسا بھی ہے جو نام کمانے اور یاری دوستی نبھانے کے لیے کتابیں چھاپتے ہیں لیکن ان کی  جو بھی کتاب  چھپتی ہے اس کی قیمت آسمان سے باتیں کرتی ہے۔ان   حضرات  کو لکھنے کا شوق کم اور  کتاب ترتیب دینے کا چسکا دیوانگی کی حد تک ہوتا ہے۔ان میں اگر کوئی کچھ لکھ بھی لے اول تو وہ چھپنے کے قابل نہیں ہوتا اور  اگر اثر و رسوخ اور مروت کے دم پر چھپ بھی گیا تو پڑھنے کے قابل نہیں ہوتا۔ فرض کیجیے سو میں سے کوئی ایک  مرتب کتاب مثلا کشمیر کے شاہکار افسانے یا اس جیسی کوئی کتاب  آپ کو لگیں کہ اچھی ہے اور پڑھنی چاہیے اس کی قیمت  اتنی  ہو گی جتنے میں ایک چھوٹے سے کنبے کا ہفتے  کا خرچہ بڑے چاؤ سے نکلے گا۔اس بابت جب میں نے  اپنے ایک دوست سے پوچھا کہ بھائی ان کتابوں  کی قیمت آسمان سے ایک بالشت کی دوری پہ کیوں ہوتی  ہے تو اس نے سیدھا سا جواب دیا  اس لیے تاکہ کوئی ان کو پڑھ نہ سکے۔ میں نے تعجب کا اظہار کرتے ہوئے پوچھا کہ  یہ کیا بات ہوئی کوئی پڑھ نہ سکے پھر چھاپتے ہی کیوں ہیں۔؟  بولے نام کمانے کے لیے تاکہ لوگ کہیں  کہ یہ اتنی کتابوں کے مصنف اور اتنی ہی کتابوں کے مرتب ہیں۔اصل میں یہ جان بوجھ کر قیمت زیادہ رکھتے ہیں تاکہ کوئی ان کتابوں کو   خریدے نہ سکیں۔  اپنے دوستوں احبابوں میں سے ایسے چنندہ دوستوں کو کتاب مفت میں دیتے ہیں  جو تبصرہ وغیرہ لکھتے ہوں تاکہ ان کی کتابوں کا تبصرہ لکھ کر  تعریفوں کے پل باندھے جائیں۔یہ کس حد تک صحیح ہے واللہ علم بالصواب۔
اتنا تو ہر اردو کے طالب علم کو پتا ہوگا کہ گوپی چند نارنگ ، مسعود حسین خان، سید عبداللہ ، آل احمد سرور ، نور الحسن نقوی، رشید احمد صدیقی، ڈاکٹر قمر رئیس، وزیر آغا، عبادت بریلوی، وقار عظیم، سلیم اختر، کلیم الدین احمد ______ جیسے لکھاریوں کی کتب  ڈیڑھ دو سو  میں آسانی سے ملتی ہیں لیکن ہمارے یہاں قیمت  پانچ سو سے شروع تو ہوتی ہے مگر ختم کہاں ہوگی اس کی کوئی حد نہیں۔اس حساب سے مجھے لگتا ہے کہ دوست کی باتوں میں دم ہے ورنہ ایسی کون سی معقول   وجہ ہے   ؟  کیا ایسا ہے کہ ہمارے یہاں جو لکھاری ہیں وہ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ  مذکورہ بالا لکھاریوں سے اچھے ہیں؟ اگر نہیں تو پھر ایسی کون سے تدابیر کرنی چاہیے جس سے  یہاں سے شائع ہونے والی کتابیں معیار و مواد کے اعتبار سے اعلی وارفع ہونے کے ساتھ ساتھ  مناسب  قیمت پہ میسر ہوں ۔  ورنہ ہم یہ گلہ کرنے میں حق بجانب ہیں کہ ہم  یہاں سے شائع ہونے والی کتب کو صرف  دیکھ سکتے ہیں ان کے ورق پلٹ سکتے ہیں مگر  ان کو خرید کر پڑھ  نہیں سکتے۔ایسے ہی لوگ ہیں جو پبلشرز کو ادبی پروگرام میں بلاتے ہیں اور وہ وہاں واویلا مچا رہے ہوتے ہیں کہ اردو کو خطرہ ہے۔
یہاں ادب  کو کاروبار ، مروت پروری اور تعلقات کو بہتر بنانے کا ذریعہ بنایا گیا ہے۔کسی بھی کام میں جب کاروباری سوچ اور منافع حاصل کرنے کی لت شامل ہو جائے تو اس کا ستیاناس ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔یہاں جتنے بھی سرکاری ادارے اردو کے فروغ اور زبانوں کی ترقی کے لیے قائم کئے گئے تھے وہ مروت ،دوستی یاری اور عزیزوں کو خوش کرنے کے لیے وقف ہیں۔جس کی جان پہنچان ہے وہ ان اداروں سے مراعات پا لیتا ہے اور جو گمنام ادیب تن دہی اور بنا غرض ادب کو پروان چڑھا رہے ہیں۔وہ نہ تو ان اداروں کے فیض سے آشنا ہے اور نہ ان کے شر سے محفوظ۔یہ کسی طور جائز نہیں کہ ایک مخصوص ٹولہ بار بار کسی بات کو دہرائے اور اس کو ہی سچ مان لیا جائے۔بعض دفعہ کوئی بات غرض اور اپنے مدعا نکالنے کے لیے پھیلائی جاتی ہے۔مجموعی صورت حال تسلی بخش ہے اور ہمیں یقین رکھنا چاہیےکہ صورت حال حوصلہ بخش ہے ۔حوصلہ شکن بیانات دینے والوں کی بھی کمی نہیں ہے۔کسی بات کی طرف دھیان نہ دیا جائے وہ خود اپنا وقار کھو دیتی ہے ہمیں بھی ان واویلا مچانے والوں کی طرف کم ہی توجہ کرنی چاہیے۔

بشکریہ اردو کالمز