بادشاہوں کا دسترخوان اور ادبی گوشہ رنگا رنگ اور متنوع سجتا ہے۔یک رنگی غربت اور ابتر صورتحال کی نشانی ہے۔کشمیر سے روزانہ بنیادوں پر نکلنے والے اخبارات میں ہفتے میں ایک دن گوشہ ادب کے لیے مختص ہوتا ہے جس میں مختلف ادیبوں کی تخلیقات چھپتی ہیں۔ بہت سارے اخبارات کا یہی وطیرہ ہے کہ ہفتے میں ایک دن ادب کی آبیاری کرنے والے ادیبوں کی تخلیقات کو اپنے اخبار میں جگہ دے کر اپنے قارئین کی ذہنی کشادگی اور سکون کا سبب بنتے ہیں ۔کشمیر عظمی ہو یا تعمیل ارشاد ،چٹان ہو یا سرینگر ٹائمز یا کوئی اور اخبار ۔ان سبھی اخبارات میں گوشہ ادب میں چھپنے والی تخلیقات میں کثرت افسانوں کی ہوتی ہے۔اردو میں افسانے کے سوا بھی بہت ساری اصناف ہیں اور یہاں کے لکھاری ان کی طرف بھی توجہ کرتے ہیں لیکن خدا جانے کیا وجوہات ہیں کہ دیگر اصناف گوشہ ادب میں نہ ہونے کے برابر شائع ہوتی ہیں۔دیگر اصناف کو اخبارات کے ایڈیٹر صاحباں نظر انداز کرتے ہیں یا انہیں شائع کرنے سے کتراتے ہیں واللہ علم بالصواب۔ کشمیر میں افسانہ نگاروں کی کثیر تعداد موجود ہیں جو اس صنف کو خوب پروان چڑھا رہے ہیں۔یہ حقیقت ہے کہ موجودہ دور میں نظم میں غزل اور نثر میں افسانے کثرت سے لکھے جارہے ہیں لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ لکھاری باقی اصناف کی طرف توجہ نہیں کرتے۔گوشہ ادب میں پچھلے کئی سالوں سے لگاتار صرف افسانے ،غزلیں اور اکا دکا تنقیدی مضامین شائع ہوتے رہتے ہیں۔باقی اصناف کو جان بوجھ کر یا انجانے میں نظر انداز کرنا اردو ادب کے ساتھ زیادتی ہے۔ کسی بھی اخبار کا ادب نامہ اس کی وقعت بڑھا دیتا ہے۔اگر اس میں رنگا رنگی ہو تو سونے پہ سہاگہ۔ ادب نامے کو رنگا رنگ ہونا بھی چاہیے کیونکہ جس طرح ہر روز ساگ کھانے والے اکتا جاتے ہیں ٹھیک اسی طرح ہر اتوار کو افسانے پڑھنے والے بھی اکتاہٹ کا شکار ہوتے ہیں۔
ایک اہم مسئلہ یہ بھی ہے کہ گوشہ ادب میں پچھلے کئی سالوں سے چند ہی تخلیق کاروں کے افسانے لگاتار شائع ہورہے ہیں۔میں یہ نہیں کہتا کہ وہ برا لکھتے ہیں یا ان کے افسانے معیاری نہیں ہوتے ہیں۔وہ بہت اچھے اور معتبر تخلیق کار ہیں، اپنا خاص نام اور مقام رکھتے ہیں۔اگر لگاتار کہنہ مشق ادیبوں کے ہی افسانے شائع ہوتے رہیں گے تو نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کے مواقع کم ہی آئیں گے۔نوجوان ادیبوں کی تخلیقات کو ترجیع بنیادوں پر یہاں کے اخبارات کو شائع کرنا چاہیے تاکہ ان کے حوصلے بلند ہوں اور وہ بہتر سے بہترین لکھنے کی کوشش کریں۔ آگے ان کے ہاتھوں میں ہی ادب کا وہ پھتر آئے گا جس کو وہ فنکاری اور مہارت سے تراش کر مورت بنا سکتے ہیں اور جس کو بعد میں پوجا جا سکتا ہے۔اگر ان کو بہتریں ادب لکھنے کے راز سے محروم رکھا جائے گا تو آنے والے وقت میں معیاری اور بہتریں ادب کے چشمے جو دنیا کو سیراب کر سکتے ہیں ، سوکھ جائیں گے۔ نوجوان نسل کو یہ سبق بار بار یاد دلانے کی ضرورت ہے کہ ایک بہترین تحریر ہی صدیوں تک زندہ رہتی ہے اور ادب صرف افسانے تک محدود نہیں ہے۔ کہنہ مشق ادیب ہوں یا نئے تخلیق کار صرف ایک صنف افسانہ کو شائع کرنا اور دیگر اصناف کو نظر انداز کرنا اچھی روش نہیں ہے۔کشمیر میں صرف افسانہ ہی نہیں لکھا جاتا دیگر اصناف کی طرف توجہ کرنے والے افراد بھی موجود ہیں جن کو یہ شکوہ ہے کہ ان کی تخلیقات کشمیر کے باہر اخبارات اور رسائل میں تو شائع ہوتی ہیں لیکن یہاں کے اخبارات کے معیار پر پوری نہیں اترتی۔شاید یہاں کے ایڈیٹر حضرات نے معیار میں جان پہچان ، مروت اور رشتہ داری کے علاوہ دوستانہ مراسم بھی شامل کئے ہیں۔یہ حقیقت ہے کہ اخبار میں چھپنے کے لیے جان پہچان اور بڑے بڑوں سے سلام علیک ہونا ضروری ہے۔لیکن اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ کچھ ایڈیٹر حضرات صرف تحریری مواد دیکھتے ہیں اگر وہ لائق اشاعت ہے تو بلا تردد چھاپ دیتے ہیں۔اب اگر تحریر غیر معیاری ہے تو ان کا حق ہے کہ وہ اسے نظر انداز کر دے کیونکہ غیر معیاری مواد چھاپنا نہ صرف ایڈیٹر صاحب کی شخصیت کو متاثر کرتا ہے بلکہ اخبار کی ساکھ کو بھی زک پہنچاتا ہے۔
آج کل اتنے اخبارات ،رسائل و جرائد نکلتے ہیں کہ معمولی تک بندی کرنے والے متشاعر اور کچھ اناپ شناپ لکھنے والے نام نما ادیب بھی کسی نہ کسی اخباری صحفے پر اپنا قبضہ جمائے رکھتے ہیں،اچھے لکھاریوں کی تو بات ہی نہیں کہ وہ نہ چھپے۔ہمارے ہاں یہ روش زور پکڑتی جارہی ہے کہ یہاں اسی کی تحریر اخبارات کی زینت بنتی ہے جس کے ایڈیٹر صاحب سے مراسم ہوں یا جو خود کوئی رسالہ یا اخبار نکالتا ہو۔آپ کچھ بھی لکھیں معیاری یا غیر معیاری آپ کے سوشل اسٹیٹس، جان پہچان ، مرتبے اور مراسم تک ہے کہ آپ کی تحریر کس اخبار اور رسالے کی زینت بنے گی۔چھپنا معیار نہیں جس کی تحریرات لگاتار اخبارات و رسائل میں چھپ رہی ہیں ضروری نہیں کہ وہ بڑا ادیب ہے یا اس کی تخلیقات میں وہ دم خم ہے کہ وہ خود کو ادب کے سمندر میں زندہ رکھ پائیں گی۔تحریر میں جان اور نیا پن ہو تو قاری کی توجہ کا مرکز خودبخود بنتی ہے۔
ہر ادیب کا نام ایک مخصوص صنف کے ساتھ زندہ رہتا ہے۔کسی کا نام تنقید نگاری کی وجہ سے زندہ ہے تو کسی کو غزل نے جاوداں رکھا ہے،کسی کی پہچان بحیثیت ناول نگار ہے تو کسی نے اپنی صلاحیتوں کے جوہر افسانے میں دکھائے ہیں، کوئی مثنوی ،نظم ،رباعی ، انشائیہ ،خاکہ میں نام کماتا ہے۔کوئی خدا داد صلاحیتوں کا مالک ہوتا ہے جو الگ الگ اصناف میں طبع آزمائی کرتا ہے اور ہر صنف میں نامور رہتا ہے۔کسی خاص صنف کو اپنا وسلہ اظہار بنانا برا نہیں اور نہ افسانہ نگار عیب دار ہیں کہ وہ اس صنف میں اپنے تجربات ،احساسات اور جذبات کی تشہیر کرتے ہیں۔ایڈیٹر صاحباں کو چاہیے کہ جہاں وہ افسانوں کو شائع کرتے ہیں وہیں ترجیع بنیادوں پر دیگر اصناف کو شائع کریں۔اگر ممکن ہو تو مہینے کے ہفتوں میں ایک ہفتہ افسانے کے سوا دیگر اصناف کے لیے رکھیں تاکہ جس طرح افسانے کی آبیاری ہورہی ہے باقی اصناف کو بھی پھلنے پھولنے کے مواقع میسر آئیں۔
تحریر :- معشوق احمد۔
آتھر پروفائل لنک۔
https://urducolumns.pk/news/11405