گہرے دوستوں میں ان بن ہوجائے تو خطرناک دشمنی جنم لیتی ہے۔ انسان اور شانتی میں دوستی تھی لیکن جانے کس بات پر دونوں میں جھگڑا ہوا کہ ستر سال سے ایک دوسرے کا منہ دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتے۔انسان اکیلا نہیں رہ سکتا یہی وجہ ہے کہ اس نے اب پریشانی کو اپنا دوست بنا لیا ہے۔اب اس کے حلقہ احباب میں بے سکونی ،وحشت ،اداسی ، رنج شامل ہیں۔صحبت کا اثر تو ہوتا ہے۔اسی صحبت کا اثر ہے کہ انسان اب آئے روز ہنگامے کرتا ہے ،کبھی روتا ہے، کبھی پچھتا رہا ہے اور کبھی رنجیدہ ہوتا ہے۔شاید اپنے پرانے دوستوں سکون ، شانتی ،امن کی اسے یاد آتی ہوگی۔جب یہ سب اس کے ساتھ ہوتے تھے تو وہ ہنگاموں اور شر انگیزیوں کے ہوتے ہوئے بھی ہشاش بشاش رہتا تھا۔
"انصاف کرو، انصاف کرو ہمارے ساتھ انصاف کرو" کی آوازیں جب ہر گلی کوچے میں گونجنے لگیں تو جانوروں نے میٹینگ کی کہ آخر ان انسانوں کو کیا تکلیف ہے؟ یہ کیوں روز چیختے چلاتے رہتے ہیں۔کبھی "انصاف کرو" ،"کبھی ہماری مانگیں پوری کرو" ، "کبھی ہم کیا چاہتے"،انہیں کون اتنا ستا رہا ہے کہ یہ روز سڑکوں پر نعرہ بازی کرتے ہیں۔ہمارے پاس نہ ان کی طرح مکانات ہیں نہ دکانیں پھر بھی ہم اتنا شور و غل نہیں کرتے۔کہیں انہیں ہم سے تو کوئی تکلیف نہیں۔سب جانوروں نے یک زبان ہوکر شیر سے دریافت کیا کہ بول بھائی شیر تو نے انسانوں کو تو نہیں ستایا۔ شیر بچارے نے قسمیں کھائی کہ نہیں میں نے انسانوں کو کوئی دکھ نہ دیا۔کبھی انہیں تنگ نہ کیا۔باری باری سارے جانوروں سے دریافت کیا گیا سوائے لومڑی کے۔اس کے بارے میں سب کا خیال تھا کہ بے ضرر جانور ہے۔سب اس کی مکاری اور چالبازی سے بے خبر اس سوال کا جواب ڈھونڈ رہے تھے کہ آخر انسانوں کو کون تکلیف دے رہا ہے۔
یوں تو گدھے کو بے وقوف جانور سمجھا جاتا ہے لیکن میٹینگ میں فقط اس نے ہوش مندی کی باتیں کیں اور لومڑی سے سوال کیا کہ کہیں تو نے انسانوں کو تنگ تو نہیں کیا۔ماضی میں بھی انسان کو سب سے زیادہ نقصان مکاری ،چالبازی ،چاپلوسی سے پہنچایا گیا ہے۔ہم سب تیری مکاری سے واقف ہیں، ہو نہ ہو یہ سب کچھ تیرا ہی کیا دھرا ہے۔سب جانوروں نے گدھے کا ساتھ دیا۔لومڑی نے اقرار کرنے کے بعد وعدہ کیا کہ وہ مکاری کو ترک کرکے انسانوں کو تنگ کرنا چھوڑ دے گی۔بیماری جسم چھوڑ سکتی ہے لیکن مکار مکاریاں نہیں چھوڑتا۔سازشیں جاری ہیں ،عیاری ،فریب ،جھانسا سب کھلے عام گھوم رہے ہیں،انسان پریشان ہے اور نعرہ بازی کر رہے ہیں کہ "ہماری مانگیں پوری کرو"، "انصاف کرو انصاف کرو"۔کوئی تو ہے جس نے وعدہ خلافی کی ،اپنا عہد نہیں نبھایا جب ہی انسان پریشان ہے۔۔۔۔!