انسان کی زندگی میں اتار چڑھاؤ ، دکھ سکھ ،خوشی اور غم دن رات کی طرح آتے ہیں۔شادمانی دیکھنا بھی اسے نصیب ہوتا ہے اور کبھی رنجیدگی سے بھی اس کا دل کبیدہ خاطر ہوتا ہے۔کبھی یہ اپنے دوستوں کے ساتھ محفل طرب مناتا ہے، تو کبھی ذرا سی تلخی سے آپس میں ان بن ہوجاتی ہے اور بات ہاتھا پائی اور گالی گلوچ تک آن پہنچتی ہے۔زندگی کے کسی بھی موڑ پر دوستوں ،ہمسائیوں ، رشتے داروں سے ان بن ہونا فطری عمل ہے۔جہاں انسانی ذہن ہے وہاں سوچنے سمجھنے،پرکھنے اور دیکھنے کی صلاحیت موجود ہے۔سوچنے سمجھنے اور غور و فکر کرنے سے انسانی ذہن میں سوالات پیدا ہوتے ہیں اور اکثر سوالات اختلاف کا سبب بنتے ہیں۔اختلافات بعض دفعہ جھگڑے کو دعوت دیتے ہیں۔
دو لوگوں کا اختلاف کسی بھی حد تک بڑ سکتا ہے اور بعض دفعہ اتنا بڑ جاتا ہے کہ دست گریبان ہونی کی نوبت آن پہنچتی ہے۔ہمسائیوں ،دوستوں سے لڑائی جھگڑا کرنے کے خطرات اور نقصانات سے قطع نظر ایک فائدہ یہ ہے کہ انسان کو اپنی خامیوں ،کوتاہیوں،برائیوں ،ناکامیوں کا پتا چل جاتا ہے۔دوران تکرار طعنوں ،گالیوں اور عیب جوئی کا جو تبادلہ طرفین میں ہوتا ہے اس سے ایک انسان اپنے آپ میں پائی جانے والی خامیوں ،کوتاہیوں اور کمیوں سے آگاہ ہوجاتا ہے۔طعنے طعنوں میں جن عیبوں کا ذکر کیا جاتا ہے ان پر غور کرکے انسان ان کو دور کر سکتا ہے اور اچھے طریقے سے کامیاب زندگی گزار سکتا ہے۔جھگڑے کے دوران ہر وہ بات افشا ہوتی ہے جس کو انسان ستر پردوں میں چھپانے کی کوشش کرتا ہے۔ کس انسان کی کیا کیا برائیاں ہیں، کیا کیا کمیاں اور خامیاں ہیں ،خاندان ، ذات و صفات اور اگلوں کی غلطیوں تک کو نہیں بخشا جاتا۔سب سے زیادہ گالیاں ماں ،بہن بیٹی کی پڑتی ہے۔ان کے تمام کاموں کو پرکھا اور دیکھا جاتا ہے جو کچھ ان سے سرزد ہوا تھا اس کو بڑا چڑھا کر دہرایا جاتا ہے۔ نیکی میں بھی بدی کا عنصر ملا کر وہ سب بیان کیا جاتا ہے جو ہوا تھا یا ہونے کا امکان تھا۔
جھگڑے کے دوران گالیوں کا تبادلہ ہی نہیں ہوتا بلکہ طعنوں ،کمیوں، خامیوں، کے ساتھ ساتھ خوبیوں کو بھی خامیاں بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔کسی نے اگر اپنی محنت سے ترقی کی منزلیں طے کیں ہوں گی اس کو شک و شبہات کی نظروں سے ہی نہیں دیکھا جاتا بلکہ یہ یقین کیا جاتا ہے کہ اس کی تمام کمائی حرام کی ہوگی اور یقینا انہوں نے چوری کی ہوگی یا ڈاکہ ڈالا ہوگا۔ذات سے بات شروع ہوتی ہے اور نسلوں کی اچھائیوں کو برائیوں میں تبدیل کرکے طعنوں اور الزامات کی صورت بیان کیا جاتا ہے۔نہ کوئی پردہ رہتا ہے اور نہ شرم ،بڑی بے باکی سے انسان میں پائی جانے والی ہر برائی پردے کو پھاڑ کر سامنے آتی ہے۔بنا لاگ و لپٹ کے ان تمام رازوں سے پردہ اٹھتا ہے جو خفیہ رکھے گئے تھے۔جو کام خفیہ اور چھپ چھپا کر انجام دئیے گئے تھے ان سب کو افشاء کیا جاتا ہے۔راز کو پردے میں رکھنے اور عیبوں کو چھپا رہنے نہیں دیا جاتا۔انسان مرجاتا ہے باتیں اور لفظ زندہ رہتے ہیں۔نسلوں کی باتیں ،عادات و اطوار ،کردار کو اچھال دیا جاتا ہے،کنبے کے کنبوں کی مٹی پلید کی جاتی ہے۔نہ بزرگوں کو بخشا جاتا ہے نہ بچوں کو۔ہر فرد کے چھوٹے بڑے گناہوں کو تولا جاتا ہے۔
لڑائی جھگڑے سے بعض دفعہ عمر بھر کی عزت مٹی میں مل جاتی ہے۔انسان کے تمام کرتوت اور نامہ اعمال سامنے آتے ہیں۔خفیہ سے خفیہ بات اور پوشیدہ سے پوشیدہ راز آشکار ہوتے ہیں۔آپس کی تو تو میں میں کے دوران عورتیں بے شمار اور لاتعداد طعنے دیتی ہیں۔جس میں جھوٹ اور مبالغہ بھی ہوتا ہے،تہمتیں اور الزام بھی ہوتے ہیں اور نون مرچ لگا کر سچ بھی ہوتا ہے۔آپس کے ان طعنوں سے ان کے دل کی بھڑاس نکل جاتی ہے اور ذہن ہلکا ہوجاتا ہے۔مرد آپس میں جب جھگڑتے ہیں تو کبھی کبھار بڑی ان ہونی ہوتی ہے۔گہرے زخم ،شدید چوٹیں اور بعض دفعہ قتل تک ہوجاتے ہیں۔ایک منٹ کا طیش عمر بھر کا پچھتاوا بن جاتا ہے۔اس سب سے بچا جا سکتا ہے اگر انسان ملنساری ،برداشت اور صبر کے گھوڑے پر سوار ہوجائے۔
جھگڑے کی بنیاد اختلاف ہے اور بغیر جھگڑے کے خوشحال زندگی گزارنے کے لیے ضروری ہے کہ انسان صبر کا دامن دونوں ہاتھوں سے تھام کر رکھے۔ اختلافات اور جھگڑوں سے نقصان اور بے چینی ہی نہیں ہوتی بلکہ سکون کی چڑیا بھی اڑ جاتی ہے۔خوشحالی رخصت ہوتی ہے اور انسان مختلف قسم کی پریشانیوں میں مبتلا ہوکر چڑچڑا ہوجاتا ہے۔ پھر ایک وقت ایسا بھی آتا ہے کہ وہ لوگوں سے میل ملاپ رکھنے سے کتراتا ہے۔زندگی میں سکون کے لیے ضروری ہے کہ انسان کے دوست اور رفیق ہوں جن سے وہ دل کا حال کہہ سکے،جن کو سنیں اور اپنی سنائے،جن کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا اچھا لگے،جن سے بات چیت کرنا سکون دے ، جو خوشی میں شامل ہوکر قہقے لگائے اور غم کے وقت جن کی آنکھیں خودبخود بھیگ جائیں۔اختلافات اور جھگڑوں سے دور رہ کر انسان خوشحال رہ سکتا ہے۔انسان میں ہر بات کو برداشت کرنے کی قوت اور صلاحیت ہونی چاہیے۔صبر وتحمل سے ہر ایک کی بات سننے کا حوصلہ ہونا چاہیے کیونکہ ہر فرد اپنے طور سچ اور حق ہی بتاتا ہے،اپنے خیالات کی تشہیر کرتا ہے۔جلدی بازی میں سنی ہوئی آدھی بات کو آدھا سمجھ لینا اور دوگنا جواب شدت کے ساتھ دینے سے اختلاف کا تخم ویسے ہی جلدی اگ آتا ہے جیسے زرخیز زمین میں کوئی بھی فصل جلدی تیار ہوجاتی ہے۔صبر و تحمل کے ساتھ ایک دوسرے کی بات سننے کے بعد مدعا و مقصد کو سمجھنے سے اختلاف کرنی کی گنجائش کم ہوجاتی ہے۔
اختلاف کرنا علم کے نئے دوازے وا کرتا ہے۔اگر اختلاف نہ ہو تو ترقی کے امکان کم ہوتے ہیں۔پرانی خیالات سے اختلاف کرنے سے ہی نئے خیالات جنم لیتے ہیں،پرانی ایجاد سے اختلاف کرنے سے ہی نئی ایجاد وجود میں آتی ہے،بات سے اختلاف کرنے سے نئی بات اور موضوع سے اختلاف کرنے سے موضوع کی گرہیں کھلتی ہیں،روانی اور بدلاؤ کے لیے اختلاف ضروری ہے۔اگر اختلاف نہ کیا جائے تو علم اور ترقی کے تمام دروازے بند ہوجائیں گے۔البتہ جھگڑوں سے پرہیز برتنا چاہیے۔اختلاف میں عروج ہے، جھگڑے میں زوال۔ایک سلجھا ہوا شخص جہاں اختلاف کرتا ہے وہیں وہ جھگڑے سے حتی الامکان بچنے کی کوشش کرتا ہے۔جھگڑا کسی بھی نوعیت کا ہو رنجیدگی اور دل تنگی کا سبب بنتا ہے۔خوش اخلاق فرد لڑتا جھگڑتا نہیں البتہ سچائی کے لیے لڑنے جھگڑے والا افضل ہے۔بعض دفعہ جھوٹ کے خلاف لڑنا جھگڑنا پڑتا ہے۔وہ بے ضمیر ہی ہوگا جو سچ کی طرفداری اور جھوٹ کی مخالفت نہ کریں۔موقع و مناسبت تک ہے کہ انسان اختلاف کرتا ہے ،لڑتا جھگڑتا ہے یا نہیں۔کچھ موقعوں پر اختلاف کرنا ضروری ہوجاتا ہے اور کچھ پر خاموش رہنا ازحد بہتر ہے۔اسی طرح کسی جگہ جھگڑنا ضروری ہے اور کسی جگہ لب بستہ رہنا لازم ہے۔بہرحال کوشش کرنی چاہیے غیر ضروری اختلاف اور جھگڑے سے دور رہا جائے۔ بڑے سکون اور اطمینان سے اپنی بات سامنے رکھی جائے اور دوسروں کی سنی جائے۔