838

حسد کی آگ سے بچیں

یہ امر قابل افسوس  ہے کہ ایک مسلم معاشرے میں وہ برائیاں پائی جاتی ہیں جن سے ہمیں حتی الامکان  بچنے کی تلقین کی گئی تھی۔چوری ، زنا ،بدکاری،فحاشی،بدکلامی  ، غیبت ، چغل خوری ،رشوت خوری ،حسد ،بغض ،جلن جیسی برائیوں میں مبتلا ہونا اور ان کو گناہ نہ تصور کرنا ذلت اور پستی کی نشانیاں ہیں۔ہمارے معاشرے میں جن برائیوں نے اپنی جڑوں کو مضبوط کیا ہیں اور روز بروز ان کی جڑیں مضبوط تر ہورہی ہیں ان میں حسد بھی شامل ہے۔حسد سے مراد کسی کا برا چاہنا ہے۔یہ ایک جذبہ ہے جو تب ابھرتا ہے جب کوئی انسان یہ دیکھ لیتا ہے کہ مجھے وہ شئے میسر نہیں جو دوسرے شخص کو میسر ہے ،چاہیے وہ حقیر سے حقیر شئے ہو یا بہتر سے بہترین۔اس چیز کو دیکھ کر دل میں ہوک سی اٹھتی ہے اور ایک جذبہ جلن کا ابھرتا ہے جس سے انسان ناخوش ہوجاتا ہے۔حسد جس شخص کو ہوجائے وہ تمنا کرتا ہے کہ محسود سے یہ نعمت چھن جائے۔حسد کسی بھی نعمت کو دیکھ کر ہو سکتا ہے۔صحت و تندرستی، عزت ،رتبہ ،نوکری، خوشی غرض جن  بھی نعمتوں سے اللہ رب العزت  نے کسی شخص کو نوازا ہوگا  ان نعمتوں کی بدولت اس شخص سے حسد ہو سکتی ہے۔حسد کرنا ناجائز ہے کیونکہ یہ اللہ رب العزت کی تقسیم سے اختلاف کرنا ہے۔اس سے انسان ناخوش ہی نہیں رہتا بلکہ ناشکرا بھی ہوجاتا ہے۔حاسد کو سو پریشانیاں ہوتی ہیں۔سوچ سوچ کر اور دوسروں کو میسر نعمتوں کو دیکھ کر وہ جلن بھن ہی نہیں جاتا بلکہ پریشان بھی رہتا ہے۔بعض اشخاص حسد کرنے سے اتنا جلتے ہیں کہ وہ محسود کے خلاف سازشیش کرتے ہیں، اس کو گرانے کی تدبیریں کرتے ہیں۔ہر وقت اس کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔گویا ہر اس گناہ میں مبتلا ہوجاتے ہیں جو ان کو بے چین و بے قرار رکھنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔حسد ایک منفی جذبہ ہے اور اس میں مبتلا شخص منفی سوچ کا حامل ہوتا ہے۔کسی کی خوشی سے جلنا اور تمنا کرنا کہ جو نمعت اسے میسر ہے جو چھن جائے مثبت سوچ ہو ہی نہیں سکتی۔

ہم ایک دوسرے سے حسد کرتے ہیں اور اس کو جائز سمجھتے ہیں۔اچھے اخلاق اور بہتریں تربیت کا حامل شخص حسد جیسی بیماری میں مبتلا نہیں ہو سکتا۔حسد کرنے سے خود کو محفوظ رکھنا چاہیے کہ یہ انسان کو بے چین و بے آرام ہی نہیں رکھتا بلکہ اس کی نیکیوں اور عبادتوں کو بھی کھا جاتا ہے۔اس سے انسان گناہوں میں مبتلا ہوجاتا ہے ناشکرا بن جاتا ہے اور عاجزی و انکساری ،قناعت اور راضی برضا رہنے جیسی نمعتوں سے محروم ہوجاتا ہے۔اللہ رب العزت سے دعا کرنی چاہیے کہ وہ حاسد کے شر سے محفوظ رکھے۔حسد چونکہ برا فعل ہے اور  بیماری کے مترادف ہے۔جس طرح بیماری کا علاج کیا جاتا ہے اسی طرح اس کا بھی علاج کرنا چاہیے ورنہ انسان خود پر ہی ظلم نہیں کرتا بلکہ دوسروں کے لیے بھی تکلیف اور آزار  کا سبب بنتا ہے۔حسد کا بہترین علاج  احادیث میں آیا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا " تم میں جو شخص کسی ایسے آدمی کو دیکھے جو اس سے زیادہ مالدار اور اس سے زیادہ اچھی شکل و صورت کا ہو (اور اس کو دیکھ کر اپنی حالت پر رنج و حسرت ہو، خدا کا شکر ادا کرنے میں سستی و کوتاہی واقع ہوتی ہو اور اس آدمی کے تئیں رشک و حسد کے جذبات پیدا ہوتے ہوں) تو اس کو چاہیے کہ وہ اس آدمی پر نظر ڈال لے جو اس سے کمتر درجہ کا ہے (تاکہ اس کو دیکھ کر اپنی حالت پر خدا کا شکر ادا کرے اور نعمت عطا کر نے والے پروردگار سے خوش ہو" ۔

ہر شخص کو اللہ رب العزت نے مختلف اوصاف اور صلاحیتوں سے نوازا ہے۔اس کے رزق کا انتظام کر رکھا ہے۔جو کچھ اس کے نصیب میں لکھا ہے وہ اس کو مل کر رہتا ہے اور جو اس کے مقدر میں نہیں وہ لاکھ کوشش اور ہزار جتن کے باوجود حاصل نہیں ہوسکتا۔جو کچھ اللہ رب العزت نے بخشا  ہے اس پر راضی رہ کر شکر کرنا چاہیے اور جو کچھ میسر نہیں اس کے لیے دعا کرنی چاہیے۔کسی کو دیکھ کر حسد نہیں کرنا چاہیے ہو سکتا ہے کہ اللہ رب العزت نے محسود کو وہ کچھ بخشا ہو جس کے وہ لائق ہے اور حسد کرنے والا اس شئے کے  لائق نہیں۔یہ بات عیاں اور واضح ہے کہ جس فرد نے  آرٹس کی تعلیم حاصل کی ہو وہ ڈاکٹر نہیں بن سکتا۔کسی نے میڈیکل پڑھا ہو اور وہ ڈاکٹر بن جائے تو آرٹس پڑھنے والے کو اس بنا پر اس سے   حسد نہیں کرنا چاہیے کہ وہ ڈاکٹر بن گیا میں  نہیں بنا۔چونکہ ایک اس کے لائق تھا دوسرا فرد اس کے لائق ہی نہیں تھا۔اس کے پاس وہ قابلیت اور اہلیت  نہیں تھی۔ آرٹس پڑھنے والے کو   ڈاکٹر  بننے کی خواہش اور   تمنا دل سے نکال دینی چاہیے تاکہ  وہ حسد سے ہی نہیں بلکہ بہت سارے گناہوں اور پریشانیوں سے بچا رہے۔ وہ ناامیدی اور تناؤ کا شکار نہیں ہوگا اور ان گناہوں سے بھی بچ جائے گا جن میں وہ حسد کرنے سے مبتلا ہوجاتا ہے۔جو نعتیں کسی شخص کو حاصل ہے ان کو دیکھ کر اللہ رب العزت کا شکر بجا لانا چاہیے کہ اللہ رب العزت بہترین تقسیم کرنے والا ہے۔ یہ سوچ رکھنی چاہیے کہ جو نعمت کسی شخص کو اللہ رب العزت نے بخشی ہے وہ اسی کے شایان شان ہے اور جو کچھ مجھے میسر ہے میرے لیے وہی بہتر ہے اور اسی میں میرے لیے خیر ہے۔انسان کسی کی ترقی کو دیکھ کر  اگر خوش ہوجاتا ہے تو یقینا اس کے دل سے حسد کی بیماری دور ہوجائے گی۔محسود سے اظہار محبت کرنا اور اپنے دل میں اس کے تئیں اچھے اور نیک جذبات رکھنا  حسد سے دور رکھنے میں معاون ثابت ہوگا۔

بشکریہ اردو کالمز