کہتے ہیں ایک شخص نے بکراعیدکے چھ سات ماہ بعدخواب دیکھا کہ عیدپرقربان ہونے والے سارے بکرے جنت میں کھیل رہے ہیں مگراس کابکراایک جگہ پربیٹھاہواہے۔یہ شخص اپنے بکرے کے پاس گیااوراس سے پوچھاکہ توان بکروں کے ساتھ کیوں نہیں کھیل رہا۔پتہ ہے بکرے نے کیاجواب دیا۔بکرے نے روتے ہوئے کہا۔مالک میری دوٹانگیں ابھی تک آپ کے فریزرمیں پڑی ہیں میں دوٹانگوں کے ساتھ کیسے کھیلوں۔کہنے کے لئے یہ ایک لطیفہ ہے لیکن اس کے اندرگھرکے فریج اورفریزرمیں مہینوں وسالوں تک قربانی کے بکروں،دنبوں،بھینس،اونٹ،گائے اوربیل کی ٹانگیں رکھنے والوں کے لئے بہت بڑاسبق ہے۔ہم نے بکراعیداورقربانی کو،،گوشت،،کے ساتھ خاص کردیاہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ بکراعیدکہیں کھل کرگوشت کھانے یامنوں کے حساب سے گھروں کے اندرجمع کرنے کانام ہے مگرایسانہیں۔بکراعیدیہ قربانی،ایثار،محبت اورعہدوفاکانام ہے۔اس دن حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے نورنظراور لخت جگرکواللہ کے حضورقربانی کے لئے پیش کیاتھا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کاوہ عمل،مقصداورمطلب قربانی،محبت،ایثاراوروفاکی ایک عظیم مثال ہے۔بیٹے کے گلے پرچھری رکھنااورپھیرنایہ کوئی چھوٹی اورمعمولی بات نہیں،حضرت ابراہیم علیہ السلام کایہ کام واقدام قربانی،ایثار،محبت،اخلاص اوروفاسے عبارت تھا،اللہ نے پکاراتوباپ بیٹے دونوں نے بغیرکسی توقف اورحیلے بہانے کے لبیک کہہ دیا۔ تب ہی تواللہ تعالیٰ کوباپ بیٹے کایہ کام،اقدام اورقربانی کایہ اندازاتناپسندآیاکہ اسے قیامت تک دنیاکے لئے ایک مثال بنادیا۔بکراعیدکے موقع پرپوری دنیامیں یہ جوہزاروں نہیں لاکھوں وکروڑوں جانورذبح ہوتے ہیں یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اورحضرت اسماعیل علیہ السلام کی اس عظیم قربانی کی یادمیں ہی ذبح ہوتے ہیں۔عیدالاضحی کے موقع پرمسلمان گائے،بیل،بھینس،بکرا،دنبہ اوراونٹ سمیت دیگرحلال جانوروں کی قربانی کرکے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عظیم سنت اوربے مثال محبت،ایثاروقربانی کی یادتازہ کرتے ہیں۔ ہم بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اسی سنت کوزندہ کرتے ہوئے قربانی کرتے ہیں ہماری یہ قربانی نہ تویہ گوشت کے لئے ہوتی ہے اورنہ ہی دنیاکودکھانے کے لئے۔کیونکہ قربانی کایہ عمل یہ ہمارے اوراللہ کے درمیان ہے۔ہم قربانی اللہ کی رضاکے لئے کرتے ہیں،ہماری قربانی کانہ توگوشت اللہ تک پہنچتاہے اورنہ ہی خون بلکہ قربانی میں چھپی ہماری وہ محبت،ایثار،اخلاص،وفااورپرہیزگاری اللہ تک پہنچتی ہے اوراسی پرکل کوہمیں بدلہ ملناہے۔جولوگ پیٹ بھرکرتکے وکباب کھانے اورگھروں کے اندر گوشت جمع کرنے کی نیت سے یادنیاکودکھانے کی خاطرگائے،بیل،بکرے اوردنبے ذبح کرتے ہیں ایسے لوگ اپنی قربانیاں خراب اورضائع کرتے ہیں۔اجر،ثواب اوربدلہ اللہ نے ہی دیناہے مگر دینی تعلیمات سے ہمیں یہ سبق ملتاہے کہ اچھے بدلے،اجروثواب کے لئے نیت صاف اوراللہ کی رضاکے لئے کیاجانے والاکام ریاکاری سے باالکل پاک ہوناچاہیئے۔اسی لئے ہمارے بزرگ کہتے ہیں کہ اللہ کی رضااورثواب کی نیت سے اگرایک کھجوربھی دی جائے توپہاڑجتنااس کاثواب ملے گا لیکن اگردنیاکودکھانے کی نیت و غرض سے پہاڑجتناسونابھی دیاجائے تواس کاکوئی اجرہے اورنہ کوئی ثواب۔اب آپ خودسوچیں کہ اگرقربانی کی نیت،مقصداورمطلب ہی غلط ہوتوپھراجروثواب ہمیں کیسے ملے گا۔؟اس لئے ہمیں اپنی نیتوں کوہرقسم کے شروفتورسے پاک وصاف کرناچاہئیے۔ماڈرن دورنے اب ہمیں بھی ماڈرن بنادیاہے۔اب ہم سمجھتے ہیں کہ گائے،بیل،بکرے اوردنبے کوذبح کرکے فوراًفریج اورفریزرمیں رکھناکہیں قربانی ہے مگرایسانہیں۔جن کاخاندان بڑااوراہل وعیال زیادہ ہوں ایسوں کے لئے قربانی کاگوشت تقسیم کئے بغیرساراخودکھانے کی اجازت ہوگی مگراس کایہ مطلب نہیں کہ بڑے خاندان اورزیادہ اہل وعیال کے نام یابہانے پرہرگھرکے فریج اورفریزربھردیئے جائیں۔ ایسے سینکڑوں نہیں ہزاروں ولاکھوں لوگ ہوتے ہیں جنہیں غربت کی وجہ سے صرف عیدقربان کے موقع پرگوشت کھانے کاموقع ملتاہے اورایسے لوگ خودقربانی کرنے کی طاقت واستطاعت بھی نہیں رکھتے،یہی صاحب حیثیت لوگ قربانی کرتے ہیں توانہیں پھرگوشت پہنچتاہے۔اب اگرہرقربانی کرنے والاقربانی کاگوشت فریج اورفریزرمیں سٹاک کرے گاتوپھرخودبتائیں کہ ایسے غریب،ناداراورمسکین لوگوں تک گوشت کیسے پہنچے گا۔؟اب تولوگوں کی تقسیم کاہمیں نہیں پتہ کہ یہ قربانی والے گوشت کی تقسیم کیسے کرتے ہیں لیکن ہم جب چھوٹے تھے توہماری والدہ صاحبہ اللہ ان کی قبرپرکروڑوں رحمتیں نازل فرمائے اوراسے جنت الفردوس میں اعلیٰ وارفع مقام نصیب فرمائے وہ اپنے ہاتھوں سے قربانی والے گوشت کے پہلے تین حصے بناتیں پھرایک حصہ گھرمیں چھوڑکرباقی دوحصے ایک اپنوں ورشتہ داروں اورایک حصہ غرباء ومساکین میں بانٹنے یاتقسیم کرنے کے لئے ہمیں دیتیں۔ گوشت کے یہ حصے تقسیم کرتے کرتے اکثرعیدوالادن ہمارے ہاتھوں سے نکل جاتااورہم جب گھرواپس پہنچتے توشام کااندھیراچھایاہوتا۔اس زمانے میں اپنوں،رشتہ داروں،دوست واحباب،غریبوں اورمسکینوں کااتناخیال ہوتاکہ قربانی والے گھروں میں تکے،کباب اورہانڈی بعدمیں پکتی اورغرباء واقرباء کے گھروں میں گوشت پہلے پہنچتا۔اب توہمیں پڑوس کابھی احساس وخیال نہیں ہوتا۔پڑوس والوں نے قربانی کی ہے یانہیں یہ اب کوئی جاننے کی کوشش ہی نہیں کرتا۔دس ذوالحجہ عیدوالادن یہ بہت بڑااورمبارک دن ہے،اس دن قربانی کاجوعمل کیاجاتاہے یہ بھی اعمال میں سے ایک بہت بڑااوربابرکت عمل ہے، اس لئے عیدقربان کے اس مبارک دن اپنوں اوررشتہ داروں کے ساتھ غرباء اورمساکین کوبھی ضروریادرکھیں۔جہاں آپ اپنے بچوں،رشتہ داروں اوردوستوں کے ساتھ خوشیاں منائیں وہاں ان خوشیوں میں غریبوں کوبھی یادرکھیں۔ عید اورقربانی یہ پیار،محبت،ایثاراوراخلاص کانام ہے، جس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ کی رضااورخوشنودی کے لئے اپنے لخت جگرتک کو قربانی کے لئے پیش کیا،اسی طرح دین کی سربلندی اوراللہ پاک کی رضاوخوشنودی کے لئے ہمیں بھی کسی قربانی سے دریغ نہیں کرناچاہیئے کیونکہ عیدقربان کااصل پیغام ہی یہی ہے۔
311