عید الفطر 296

عید الفطر

عید الفطر جسے چھوٹی عید کہا جاتا ہے۔مسلمانوں کی خوشی کا دن ہے۔مسلمانوں کے ایک ہونے کا دن ہے،رشتہ داروں سے ملنے کا دن ہے،گلے شکوے دور کرنے کا دن ہے۔اس خوشی کے موقع کیلئے لوگ پیسے جمع کر رہے ہیں تاکہ اس موقع پر کچھ خریدا جائے وہ خوراک کی چیزیں ہوں،وہ کپڑے ہوں،وہ جوتے ہوں لیکن لوگ یہ لازمی خریدتے ہیں۔پورانے وقتوں میں عیدیں بڑے مزے کے ہوا کرتے تھے۔اور اس کی خاص وجہ یہ ہے کہ پرانے وقتوں کی عیدوں میں ایک تو مہنگائی نہیں ہوتی تھی،ایک دوسرے کیلئے دلوں میں محبتیں ہوا کرتے تھے۔رشتہ دار ایک دوسرے کے گھروں میں زیادہ جاتے تھے۔لیکن اگر آج کل کی عیدوں پر ہم نظر ڈالے یہ اس میں اور پرانے عیدوں میں زمین و آسمان کی فرق ہے۔ایک طرف حکومت نے مہنگائی آسمان تک پہنچائی ہے۔یعنی اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ ایک والد صرف اپنے بچوں کیلئے عید کے کپڑے اور جوتے بڑے مشکل سے خریدتے ہیں۔اور زیادہ تر تو کسی سے قرض لے کر آپنے بچوں کیلئے شاپنگ کرواتے ہیں۔حالات اس حد تک اچکے ہیں کہ ایک والد خود تو کسی چیز کی خریدنے کا سوچ بھی نہیں سکتا بس بچوں کی کپڑے جوتے خریدیں جائے تو شکر ادا کرتے ہیں۔حکومت نے پاکستان کی عوام سے ان کی عید کی خوشی بھی چھین لی ہے۔کیا باپ کا دل نہیں چاہتا کہ میں بھی اپنے لئے کچھ کپڑے جوتے خریدوں لیکن نہیں حکومت ایسا بلکل بھی نہیں چاہتی۔اج کل عید کے موقع پر بازاروں میں رش تو دیکھنے کو ملا لیکن جب دکانداروں سے گاہک کے متعلق پوچھا گیا تو وہ کہتے ہیں کہ کسی میں یہ طاقت نہیں رہی ہے کہ کچھ خرید سکے۔رش تو بظاہر ہے لیکن کسی کے پاس اتنے پیسے نہیں ہے کہ کچھ خرید سکے۔مجھے بتائے کہ عوام عید پر کچھ خرید نہ سکے،عید پر خوشی منا نہ سکے تو ایسا کون سا موقع آئے گا کہ یہ غریب مسلمان خوشی مناسکے گا۔کیا اتنا بھی حق نہیں ہے کہ عید پر تھوڑی خوشی منائی جاسکے۔باقی تو ساری عمر غم میں گزر جاتی ہے۔پاکستان کا نام جب کسی کے سامنے آتا ہے تو سیدھا پریشانی کا لفظ بندے کے سامنے آتا ہے۔دکاندار پریشان،گاہک پریشان۔اگر اس ملک میں کسی کو سکون ہے کسی کو راحت ہے تو وہ ہے اس ملک کی سیاستدان۔ایک شہری سے میڈیا والے نے پوچھا کہ آپ نے عید کیلئے خریداری کی تو وہ شہری میڈیا والے کے سامنے زار و قطار رونے لگ گیا،اور یہ کہا کہ میں فلاں چوک میں خودکشی کرنے پر مجبور ہونے لگا ہوں۔میرے ملک کا ایک معزز شہری کیوں خودکشی کرنے پر مجبور ہے اس سیاستدان کی وجہ سے سیاست دان کی کی حوس ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی سیاست دان تو اور بھی بھوکا پیاسا ہو رہا ہے۔پاکستان کے سیاستدانوں نے آپنے غریب عوام سے عید کی خوشیاں بھی چھین لی لیکن پھر بھی ان کے پیٹ نہیں بھرے تو اخر یہ حکمران چاہتے کیا ہے۔عوام پر صرف چمڑا رہ گیا ہے۔باقی کپڑے تو بھی پھاڑ چکے ہیں۔بس اللہ تعالیٰ ہمارے حکمرانوں کی دلوں میں رحم ڈالیں تاکہ عوام کچھ سکھ کا سانس لے سکے۔امین۔ 

بشکریہ اردو کالمز