ہوئے تم محافظ جن کے۔ 257

ہوئے تم محافظ جن کے۔

تاج برطانیہ نے رعایاپر حکمرانی کرنے لئے جو بھی فورس بنائی ان کے اقدامات بتاتے تھے کہ ان کے سینے میں دل نہیں تھا،ورنہ  جیتے جاگتے انسانوں پر سیدھی گولی کیوں چلا تے،اِس عہد کی رخصتی کے بعد اہلکار تو بدل گئے، ان کے رنگ روپ بھی وہ نہ رہے مگر نجانے کیوں ان کے سینے میںوہ پتھر کا دل رکھ گئے جو کسی ماں، بہن،پاب کا درد سمجھنے ہی سے قاصر  ہے، سماج سے متعلق پولیس کے یہ اہلکار نہ تو برطانوی آقاہیں ،نہ کسی غلام قوم پر مسلط ،تاہم ان کے رویوںمیں سامراجیت کے جراثیم  پائے جاتے ہیں،تحکمانہ انداز،تکبر اور غرور میں ڈوبی آواز انکی رعونیت کا پتہ دیتی ہے۔
 عوامی تنقید کے بعد محکمہ کے ذمہ داران نے چند نعرے گاڑیوں اور تھانے کی عمارات پرجلی حروف میں لکھوائے، نیا بیانیہ بھی متعارف کروایا ہے کہ'' نفرت جرم سے ہے مجرم سے نہیں'' اس کے برعکس اقدامات کی بدولت یہ بیانیہ مقبولیت نہ پا سکا ،تھانہ یا کسی ناکے پر واسطہ پڑے تو وہ اِسی طرح پیش آتے ہیں جیسے آپ مجرم ہیں، ادب سے مخاطب ہونا ،نرم لہجہ میں گفتگو کرنااس سے وہ کوسوں دور ہیں، وضع قطع سے اگر سادہ لوح ہیں تو یہ آپ کی بڑی بد قسمتی ہے،عین ممکن کہ انداز تخاطب زبان کی بجائے ہاتھ سے ہو جائے خوف کے مارے انکے سوالات کا جواب تسلی بخش نہ دے سکے توآپ تھانے کا مہمان بھی بن سکتے ہیں۔آپ نیم تعلیم یافتہ ہیں اور اپنی خلاصی کے لئے '' بڑے صاحب'' کو بذریعہ فون سفارش کروادی ہے تو یہ مجبوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ،جرائم کی وہ فہرست سفارشی کو پیش کریں گے آپ کی ساری حیاتی صفائیاں پیش کرتے گذر جائے گی۔
ذ مہ داران کا کہنا ہے کہ کیمونٹی پولیسینگ کے ذریعہ لوگوں کے دلوں سے پولیس کا خوف ختم کرنے کا ''عوام دوست پولیس'' کا تصور لایا گیا ہے، لیکن یہ سب کتابی باتیں ہیں، عملاً آج بھی عام شہری تھانہ میں قدم رکھنے سے پہلے حلقہ کی بڑی شخصیت کا سہارا لیتا ہے،بہت سے جرائم اس لئے دانستہ رپورٹ ہی نہیں کروائے جاتے کہ کون سا انصاف مل جانا ہے خواری اس کے علاوہ ہوگی، 75سال کے بعد بھی پولیس عوام دوست نہیں بن سکی ، یہ صرف ان کے ہی دوست ہیں، جن کا سکہ تھانہ میں چلتا ہے،جن کا تعلق ''انڈر ورلڈ' سے ہے جو مک مکا کرنے میں مہارت رکھتے ہیں۔
 زیادہ کرب ناک معاملہ ہے، ماورائے عدالت قتل ہے، کیا پولیس والے صاحب اولاد نہیں ہیں؟ ماں باپ کو بچے کتنے پیارے ہوتے ہیں، انکی پرورش کرنا ،انکی تعلیم و تربیت کرنا اس گرانی میں کس قدر محال ہے، وہ پولیس اہلکار کسی نوجوان کو رات کی تاریکی میں محض اس لئے گولی مار دے کہ اس نے'' صاحب'' کے حکم پر موٹر سائیکل نہیں روکی اور ناکہ عبور کر لیا،اس سے بڑا بھی کوئی قبیح جرم ہو سکتا ہے کہ اس کو زخمی حالت میں چھوڑ کر بھاگ نکلے کہ کہیں موقع وارات پر پکڑا نہ جائے، کیا یہ نوجوان کسی غلام ریاست کا شہری ہوتا ہے، اسے کوئی حق نہیں کہ وہ خوشی کے تہوار پر اپنے دوستوں کے ہمراہ کھانے پر چلا جائے،اس سے بڑ کر وہ نو عمر ہو جس کا کوئی کریمینل ریکارڈ بھی نہ ہو، ایسے حادثہ پر ان بچوں کے والدین پر کیا گذرے گی، جو ان کے بڑھاپے کا سہارا ہوتے ہیں، پولیس حکام کیا سماجی رویوں سے نابلد ہیں۔ 
ایسانوجوان جس کا دو روز بعد نکاح بھی ہو، اور عید سے ایک دن قبل اس لئے مار دیا جائے کہ وہ پولیس کے کہنے پر رکا نہیں تھا، دنیا کا کونسا قانون یوں ماورائے عدالت مارنے کی حمایت کرے گا، جبکہ شہر میں کوئی غیر معمولی صورت حال بھی نہیں تھی، نہ کوئی ہنگامے چل رہے تھے، نہ ہی کرفیو نافذ تھا، نوجوان کسی بکتر بند گاڑی میں بھی سوار نہ تھے، یہ سانحہ چند روز قبل ملتان کی شاہ رکن عالم کالونی میں پیش آیا جو سماج کا تعلیم یافتہ علاقہ مانا جاتا ہے، یہ کالونی جرائم پیشہ افراد کا مسکن بھی نہیں کہ وہاں رات کے وقت نوجوانان پر فائر اس لئے کھول دیا جائے کہ ناکہ پر وہ رکے نہیں ہیں۔عدلیہ، پولیس، انتظامیہ کے پاس ماوارائے عدالت قتل کا کوئی جواز ہے؟
جدید ٹیکنالوجی کی موجودگی میںپولیس کے پاس بس یہی ایک طریقہ تھا کہ وہ نہ رکنے والوں کو گولی مار دے۔ارض وطن میں یہ ایک شہر کا واقعہ نہیں ہے کراچی، رالپنڈی، وہاڑی اور دیگر شہروں کے واقعات عالمی میڈیا میں بھی رپورٹ ہوئے ہیں،  نوجوانان کا جرم البتہ یکساں ہے کہ موٹر سائیکل سوا ر آواز پر نہ رکے پولیس کاطریقہ واردات یہ کہ نافرمانوں کوموت کی نیند سلا دیا جائے۔
 محکمہ کے ذمہ دار خود کو ایک لمحہ کے لئے ا س مقام پر رکھ کر سوچیں کہ وہ گھر میں اپنے بیوی بچوں کے ساتھ ہنسی خوشی وقت گذار رہے ہوں، انکا جوان بیٹا کسی مجبوری کے عالم میں رات کے وقت بازار گیا ہو، وہاں پولیس کے کہنے پر اس لئے نہیں رکا کہ وہ انکی آواز نہیں سن سکا ،نتیجہ کے طور پر پولیس نے انکے بچے پر فائر کھول دیا ،وہ زخمی حالت میں خون میں لت پت پڑا ہے پولیس والے موقع فرار ہوگئے ہیں ،کسی طرح اسے ہسپتال پہنچا دیا جاتا ہے مگر وہ جانبر نہیں ہو سکا، خدانخواستہ یہ اطلاع کسی پولیس افسر کو ملے تو اس کا کیا ردعمل ہو گا،یہ کیوں فرض کر لیا جاتا ہے کہ ناکہ پر نہ رکنے والا ہر شہری مجرم ہی ہوتا ہے۔
جس آبادی کا 40 فیصد خط افلاس کے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہو وہ اپنے پیٹ کا ایندھن بھرنے کے لئے ایک سے زیادہ ملازمتیں کرنے پر مجبور ہو، کیا ان کا جرم یہ ہے کہ انھیں آدھی رات کے وقت گھر آنا پڑتا ہے،کہیں والد اور کہیں بیٹے یہ دکھ اٹھاتے ہیں اگر انھیں بھی دوسروں کی طرح اوپر کی کمائی ہو تو پھر انھیں کسی اندھی گولی کا نشانہ بننے کی کونسی مجبوری ہے۔
جن جدید خطوط پر محکمہ کی تربیت کادعویٰ کیا جارہا ہے وہ تو نوجوانوں کی موت کی صورت میں سامنے آرہا ہے، سنگین ترین مجرموں کو پکڑنے کا یہ طریقہ دنیا میں کہیں بھی فافذ العمل نہیں ہے کجا کہ نوجوانوں کی زندگی کو موت میں اس لئے بدل دیا جائے کہ انھوں نے ناکہ پر نہ رکنے کی حکم عدولی کی ہے ۔
سابق وزیر اعلی پنجاب کی گرفتاری کے لئے جس طرح بکتر بند گاڑی کا استعمال کیا گیا ہے ،اس کا ایک مقصد عام شہری کو خوف زدہ کرنا اور بتانا ہے کہ پولیس کس طرح اپنے اختیارات کا استعمال کرنے کا فن جانتی ہے، اس کے بعد کون سا احمق شہری پولیس کے ظلم کے خلاف صدائے احتجاج بلند کر سکے گا؟خدا راہ اس کلچر کو تبدیل کریں، مائوں کے بیٹے بڑے قیمتی ہیں،انھیں اپنے ناجائز اختیارات کی نذر نہ کریں، شاہ رکن عالم ملتان میں ماورائے عدالت نوجوانان کی ہلاکت پر وزیر اعلیٰ اور آئی جی نے متاثرہ خاندان کو انصاف کی یقین دہانی کروائی ہے، بدنام زمانہ عابد باکسر کا تجزیہ ہے کہ ایسے کیسوں میں انصاف ملنے کی توقع کم  ہی ہوتی ہے،تاہم وزیر اعلی اور آئی جی کے لئے یہ ٹسٹ کیس ہے، ہر ظالم کو یہ یاد رکھنا چایئے کہ شریعت میں نرمی ہے فطرت معاف نہیں کرتی، بآ لاخریہ کہنا ہی پڑتا ہے ، ہوئے تم محافظ جن کے
دشمن ان کا کوئی اور کیوں ہو۔  


 

بشکریہ اردو کالمز