(گزشتہ سے پیوستہ)
موہنی روڈ پر اب صرف چند ایک قدیم مکانات، قدیم بمبئے زری فیکٹری اور ایک فلور ملز ہی رہ گئی ہے۔ اس پوری سڑک کو جس طریقے سے تباہ وبرباد کیاگیا وہ لاہور کی تاریخ کا بدترین باب ہے۔ ہمیں یاد ہے کہ رات کو دس بجے کے بعد یہ سڑک سنسان ہو جاتی تھی۔ کسی زمانے میں یہاں چاندی کے ورق بنانے کے لئے کاریگر مخصوص انداز میں چاندی کو کوٹا کرتے تھےتوایک خاص قسم کا ردھم پیدا ہوتا تھا۔ پھر تانگے کے گھوڑوں کی ٹاپ، کیا دلفریب اور دلکش منظر ہوتا تھا۔ ہم بازارِ حکیماں سے اپنے نانا میاں عید محمد مرحوم کے گھر سے اپنے گھر واقع ٹیپ روڈ پر جب تانگے سے آیا کرتے تھے تو تانگہ شاہی محلے سے گزر کر آتا تھا۔ شاہی محلے کی رونقیں رات دس بجے کے بعد بحال ہونا شروع ہو جاتی تھیں۔
شاہی محلے میں برصغیر کا قدیم ترین سینما عزیز تھیٹر 1908ء میں قائم ہوا تھا۔ لاہور میں رائل ٹاکیز اور پھر پاکستان ٹاکیز کے نام سے آج تک مشہور ہے۔ کبھی یہاں پر تھیٹر ہوا کرتا تھا اور پارسی نوٹنکی ہوتی تھی۔ نوٹنکی میںا سٹیج ڈرامے اور خاموش فلمیں دکھائی جاتی تھیں۔ لاہور کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ پہلی بولتی فلم عالم آرا 1931ء میں رائل ٹاکیز میں نمائش کے لیے پیش کی گئی۔ یہ لاہور کا پہلا سینما گھر تھا۔ قیام پاکستان سے قبل اس کانام رائل ٹاکیز تھا۔ اس سینما گھر میں 1908سے 2012ء تک فلمیں دکھائی جاتی رہیں۔ لاہور میں اتنے طویل عرصے تک کسی سینما گھر میں فلمیں نہیں دکھائی گئیں۔ 2012ء میں سنیما کے مالک کی وفات کےبعدیہ بند ہوگیا۔ البتہ سینما آج بھی موجود ہے۔ یہ ایک تاریخی سینما گھر ہے جسے محفوظ بنانے کی ضرورت ہے۔ تھوڑی سی توجہ سے یہ سینما دوبارہ فلمیں دکھانے کے قابل ہو سکتا ہے۔ یہ شاہی محلہ کے مین چوک میں ہے۔ اس کے سامنے کبھی تانگوں کا اڈا اور گھوڑوں کو پانی پلانے کے لئے ایک جھوٹا ساحوض تھا جہاں اب دکانیں بن چکی ہیں۔ تانگوں کے اس اڈے پر دو طرح کے تانگے کھڑے ہوتے تھے۔ ایک وہ تانگے جن پر کارپوریشن کے قانون کے مطابق پیلا رنگ، دائیں بائیں دو لالٹین اور باقاعدہ نمبر پلیٹ ہوتی تھی۔ دوسرے وہ تانگے جن کو پرائیویٹ تانگہ کہا جاتا تھا۔ وہ اس زمانے میں بھی بڑے مہنگے ہوتے تھے۔ یہ تانگے مختلف رنگوں کے ہوتے تھے۔ شاہی محلے میں آنے والے امرا ان تانگوں پر آتے تھے۔ بڑی دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک تانگوںکا اڈا شاہی محلے چوک میں اور دوسرا ٹیکسالی دروازہ کے شروع میں بھی تھا۔ اس زمانے میں لاہور شہر میں بے شمار تانگوں کے اڈے تھے، ہم نے تقریباًتمام تانگوں کے اڈے دیکھے ہیں۔
بھاٹی گیٹ سے لاہور ریلوے اسٹیشن پر سواریوں والے تانگے کا کرایہ چار آنے اور سالم تانگے کا کرایہ ایک روپیہ ہوا کرتا تھا۔ ہم نے کئی مرتبہ سواریوں والے اور سالم تانگے پر سفر کیا ہے۔ لالٹین نہ لگانے پر اورگھنٹی نہ ہونے پر تانگے کا چالان بھی ہوا کرتا تھا۔کیا خوبصورت دور تھا، جواب کبھی لوٹ کر نہیں آئے گا۔ بھاٹی دروازے سے لے کر لاہور ریلوے اسٹیشن تک لوگ تانگوں پر ہی سفرکیا کرتے تھے۔ بات موہنی روڈ سے شروع ہوئی اور ہم کہاں پہنچ گئے۔ موہنی روڈ کے بالکل دائیں طرف شیش محل روڈ ہے۔ ہم بچپن سے آج تک اس شیش محل کو تلاش کر رہے ہیں جس کی وجہ سے اس سڑک اور علاقے کا نام شیش محل روڈرکھا گیا۔
کہتے ہیں کہ کسی بیگم سلاطین چغتائی نے یہاں کبھی بڑا خوبصورت شیش محل بنوایا تھا، اس وجہ سے اس علاقے کا نام شیش محل پڑ گیا تھا۔ کسی زمانے میں اس سڑک پر ڈاکٹر چوہدری اور ان کی بیگم کا بڑا مشہور کلینک تھا۔ یہیں کبھی ڈاکٹر غزنوی (مذہبی اسکالر) کا مکتب بھی تھا۔ شیش محل روڈ ہی سے ایک راستہ حضرت پیر مکیؒ کے مزار مبارک کی طرف جاتا ہے۔
عزیز قارئین! شاید آپ کویقین نہ آئے لاہور میں ایک ایسا درخت بھیہے جو 1792 کا ہے اور اس درخت پر تحریر ہے THE PAN YAN۔ ہم کسی زمانے میں اسپیشل برانچ میں اپنے ایک دوست سے ملنے جاتے تھے تو ہمیں کبھی یہ اندازہ نہیں ہوا کہ یہ جو درخت رابرٹس کلب کے اندر ہے,1792 کا ہے۔ خیر اب اس درخت کو محکمہ آثارقدیمہ نے اپنی تحویل میں لے لیا ہےاور عام لوگوں کو اِس درخت کو دیکھنے کی اجازت نہیں کیونکہ رابرٹس کلب میں اب اسپیشل برانچ یعنی خفیہ پولیس جسے کبھی سی آئی ڈی بھی کہا جاتا تھا، کے دفاتر ہیں۔رابرٹس کلب کی لکڑی کی بڑی خوبصورت عمارت ہے، اب اس میں لائبریری ہے۔ کبھی انگریز افسر اس عمارت کو کلب کے طور پر استعمال کرتے تھے ویسے تو ایچیسن کالج میں بھی گوروں کا ایک کلب تھا جو اب ایچیسن کالج کی کنٹرولر امتحانات کی سرکاری رہائش گاہ ہے۔
رابرٹس کلب میں جو درخت ہے اس کا تنا ہمارے خیال میں لاہور کے تمام درختوں سے بڑا ہے اور اس کی جڑیں زمین میں دوبارہ لگ چکی ہیں۔ بڑا خوبصورت درخت ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ لاہور کے اس قدیم ترین درخت کو ناصرف محفوظ کیا جائے بلکہ اس کی دیکھ بھال بہت اچھے انداز میں کی جائے اور لاہوریوں کو اس قدیم ترین درخت کےبارے میں بتایا جائے۔
لاہور بلکہ پنجاب میں جب انگریزوں نے سکھوں کے بعد حکومت سنبھالی تو لاہور میں ٹھگ بہت ہوا کرتے تھے۔لاہور میں ٹھگی، ڈاکہ زنی اور بچیوں کو مارنے کا سلسلہ عام تھا چنانچہ انگریزوں نے لاہور میںپہلا ٹھگی ڈیپارٹمنٹ/ ٹھگی اسکول آف انڈسٹری قائم کیاتھا۔ (جاری ہے)