رائے میلہ رام نے سینٹرل ٹریننگ کالج کی عمارت کی توسیع کے لیے اس زمانے میں 15ہزار روپے دیئے تھے جو آج کے لاکھوں روپے کے برابر ہیں۔ رائے میلہ رام کا یہ کتبہ یا پتھر جو ان کے کالج کو عطیہ دینے کے حوالے سے تھا وہ ہم نےاس کالج کے کارپورچ میں دیکھاتھایہ گلابی رنگ کا تھا اصل کتبہ اب کالج میں کہیں نہیں موجودہ کتبہ ٹین کا بنایا گیا ہے۔ جہاں کبھی گورے پرنسپل اور بعد میں دیسی پرنسپلوں کی گاڑیاں کھڑی ہوتی تھیں۔ لاہور میں جتنے بھی تعلیمی ادارے گوروں نے تعمیر کئے ان سب میں کارپورچ ضرور ہے اور آج بھی بعض پرنسپل کارپورچ میں اپنی سرکاری/ ذاتی گاڑی کھڑی کرتے ہیں۔ کوئین میری کالج میں تین کارپورچ ہیں۔ ایک اسکول سائیڈ پر بڑا خوبصورت کارپورچ ہے جہاں اس اسکول کے تعمیر کی تاریخ 1910 درج ہے۔
یہ کتبہ آج بھی اپنی اصل شکل میں گلابی اور کالے رنگ میں نصب ہے جبکہ دوسرا کارپورچ اسکول/ کالج کے پرنسپل آفس کے باہر ہے اور تیسراکارپورچ کالج سائیڈ پر ہے۔ کوئین میری کالج کا طرز تعمیر انتہائی خوبصورت اور تاریخی ہے اس پر پھر بھی بات کریںگے۔ کوئین میری کالج کے اندر پانچ مزار بھی ہیں۔ سینٹرل ٹریننگ کالج میں میلہ رام کا یہ کتبہ کسی بدذوق پرنسپل نے وہاں سے اتار کر اسے کالج کے اندر ایک دیوار پر انتہائی بلندی پرنصب کردیا ہے۔ جہاں کسی کی نظر نہیں جاتی۔ آہستہ آہستہ ایک دن یہ کتبہ وہاں سے غائب کر دیا جائے گا۔ حالانکہ اس کتبے کو اصل شکل میں محفوظ کرنے کی ضرورت ہے۔
عزیز قارئین! لاہور کی تاریخ تو ہے ہی بڑی دلچسپ مگر یہاں کے تعلیمی اداروں اور تاریخی عمارتوں کی تاریخ اس سے بھی زیادہ دلچسپ اور پڑھنے کے لائق ہے۔ گورنمنٹ سینٹرل ماڈل اسکول، لاہور ماڈل اسکول اور سینٹرل ٹریننگ کالج کی تاریخ سے آج وہاں کے طالب علم تک ناواقف ہیں۔ہم نے جب سینٹرل ٹریننگ کالج کے بعض اساتذہ کو اپنے دور کے چند واقعات سنائے تو وہ حیران رہ گئے۔ اسی سینٹرل ماڈل اسکول میں کبھی لاہور ماڈل اسکول بھی تھا۔ پھر دونوں اسکول مدغم کردیے گئے۔ اگر آپ سینٹرل ٹریننگ کالج، سینٹرل ماڈل اسکول اور جونیئر ماڈل اسکول (جس کو اب انہوں نے کلاس ششم کا بلاک بنا دیا ہے) تینوں کا طرز تعمیر دیکھیں تو بالکل ایک جیسا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ آج بھی ان تینوں تعلیمی اداروں میں قدیم ہال کسی حد تک اپنی اصل شکل و صورت میں ہیں بلکہ سینٹرل ٹریننگ کالج کا ہال آج بھی دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ لوہے کے بڑے بڑے پول اور اونچی اونچی چھتیں جن پر روشن دان ہوا کرتے تھے۔ کئی کمروں کے درمیان چھت میں روشن دان آج بھی موجود ہیں۔ لاہور ماڈل اسکول کبھی موتی بازار میں بھی رہا ہے جبکہ سینٹرل ماڈل اسکول کی جگہ پر کبھی میونسپل ماڈل اسکول بھی رہا ہے۔ دکھ اور افسوس کی بات یہ ہے کہ انگریزوں نے اس لاہور میں جوتاریخی اور خوبصورت عمارتیں تعمیر کیں ہم نے ان کے چہرے، ان کے نام اور کتبے تک مٹا دیئے ہیں۔ میواسپتال کے اندر انگریز دور کے ایک زمانے میں کئی کتبے اور پتھر نصب تھے جو ہم نے خود دیکھے تھے اور ہم نے ان پر فیچرز بھی تحریر کئے تھے۔ آج وہ کتبے تلاش کے باوجود نہیں ملتے۔ لارڈ میو کا مجسمہ ہم نے خود دیکھا تھا۔ آج وہ تاریخی مجسمہ غائب ہو چکا ہے۔ میو اسپتال کی تاریخی لانڈری ایک سابق ایم ایس نے دیہاڑی لگانے کے چکر میں تباہ کردی حالانکہ وہ کام کر رہی تھی۔
سینٹرل ماڈل اسکول کبھی ٹریننگ کالج اور نارمل اسکول کا لیبارٹری اسکول بھی رہا۔ دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ جب تک سینٹرل ماڈل اسکول، سینٹرل ٹریننگ کالج (اب یونیورسٹی آف ایجوکیشن کا ایک کیمپس) کا لیبارٹری اسکول رہا، اس کا معیار اتنہائی بہترین رہااور اس کے ا سٹوڈنٹس بورڈ میں پوزیشن حاصل کرتے رہے۔ اس زمانے میں اس اسکول کا اسٹاف بھی بڑا محنتی تھا۔ کیا کیا اساتذہ تھے، جی این بٹ،طاہر شاہ وانی، قاضی افضل حسین، محمد عظیم خان، محمود بٹ،خواجہ ضیاء الدین، اشرف، حمید، امین رئوف، محمد طفیل، حافظ صاحب، اسلم نیازی،مولانا عبدالرحمٰن، عبدالعلی خان، میاں طالب حسین۔ ان عظیم اساتذہ نے اس اسکول کا نام روشن کیا۔ کچھ اساتذہ کے نام ہم بھول گئے ہیں۔ بہرحال اللہ تعالیٰ کی ذات پاک ان سب کے درجات بلندفرمائے۔ آمین!
سینٹرل ماڈل اسکول کا پہلا انگریز ہیڈ ماسٹر مسٹر ایچ ٹی ٹولٹن کو مقرر کیاگیا تھا۔ مارچ 1894 کو سینٹرل ماڈل اسکول کوشمالی ہندوستان کا بہترین اسکول قرار دیا گیا تھا۔ یہ لاہور کا پہلا اسکو ل تھا جہاں 1895میں ایک بورڈنگ ہائوس یعنی ہوسٹل تعمیر کیاگیااور یہ تاریخی ہوسٹل 1980 میں ختم کر دیا گیا۔ ایچیسن کالج میں بورڈنگ ہائوس تھا مگر ایچیسن کالج (چیف کالج) صرف ایک مخصوص کلاس یعنی صرف اشرافیہ کا اسکول تھا۔ گورنمنٹ سینٹرل ماڈل اسکول لاہور کا پہلا اسکول تھا جہاں 1920-21ء میں ڈرائنگ روم، سائنس روم اور مینوئل ٹریننگ ورکشاپ تعمیر کی گئیں۔ اس اسکول میں باقاعدہ کلاس ششم سے ہشتم یعنی چھٹی جماعت سے آٹھویں جماعت تک تین سال تک بجلی، لوہے اور لکڑی کا کام سکھایا جاتا تھا۔ ہم نے ڈی سی بجلی کی ساری وائرنگ اسی اسکول سے سیکھی تھی۔(جاری ہے)