(گزشتہ سے پیوستہ )
اردو بازار (موہن لعل روڈ) پر قیام پاکستان کے وقت کئی ہندو او رسکھوں کی دکانیں بھی تھیں۔ 1950ء میں موہن لعل روڈ کا نام اردو بازار رکھ دیا گیا۔ منشی گلاب سنگھ کے دوسرے بیٹے سوہن لعل کا بھی کبھی یہاں برف خانہ تھا ہمیں یاد ہے کہ اردو بازار میں ایک زمانے میں بڑی تعداد میں کاتب (خوش نویس ) بیٹھا کرتے تھے، اردو بازار میں پچھلے پچاس برس سے ایک بنک ایک ہی جگہ پر واقع ہے، کبھی اس کے اوپر کمروں میں بے شمار کاتب بیٹھا کرتے تھے۔ یہ اردو بازار وہ نہیں جو ہم نے دیکھا تھا۔ لوہاری دروازے سے شروع ہونے والا اردو بازار آج ریٹی گن اور ٹیپ روڈ تک آ چکا ہے۔
اردو بازار کے نزدیک واقع گورنمنٹ سینٹرل ماڈل اسکول اور گورنمنٹ مسلم ماڈل اسکول دونوں بڑے تاریخی اسکول ہیں۔ دکھ اور افسوس کی بات یہ ہے کہ دونوں تاریخی تعلیمی ادارے آج اپنا وہ مقام، نام اور تشخص کھو چکے ہیں۔ گورنمنٹ سینٹرل ماڈل سکول کا آغاز مڈل اسکول کی سطح سے یکم مارچ 1883 میں ہوا یہ بڑی دلچسپ حقیقت ہے کہ اس اسکول کا آغاز ایک گرلز اسکول کے اندر ہوا۔ پنجاب یونیورسٹی اولڈ کیمپس کے تاریخی سینٹ ہال کے سامنے انارکلی گرلز اسکول ہوا کرتا تھا اگرچہ اس اسکول کی عمارت اچھی حالت میں نہ تھی پھر بھی یہاں کچھ عرصہ کلاسیں جاری رکھی گئیں۔
یہ لاہور کا واحدا سکول ہے جہاں کئی انگریز ہیڈما سٹرز تعینات کئے گئے پھر یہ اسکول ایک مدت تک سینٹرل ٹریننگ کالج کا لیبارٹری اسکول بھی رہا۔ ہمیں یاد ہے کہ سینٹرل ٹریننگ کالج میں زیرتعلیم بی ایڈ اور ایم ایڈ کے طلبا ہمیں بطور PUPILٹیچرز یعنی (شاگرد استاد) پڑھانے آیا کرتے تھے، اسٹوڈنٹس ان PUPILٹیچرز کی کارکردگی کے بارے میں اپنے ریگولر اساتذہ کو آگاہ کرتے تھے جن کی بنیاد پر ان PUPILٹیچرز کو بی ایڈ/ ایم ایڈ کی ڈگری کے لیے اہل قرار دیا جاتا تھا۔کیا خوبصورت زمانہ تھااس سینٹرل اسکول کا معیار آج کے سینٹرل اسکول سے کئی گنا بہتر اور شاندار تھا،سینٹرل ماڈل اسکول کا ہیڈماسٹر سینٹرل ٹریننگ کالج کے پرنسپل کو جواب دہ تھا یعنی اس زمانے میں اس اسکول کے طلبا کو کالج جیسا ماحول اور نظم وضبط حاصل تھا۔ہم نے سینٹرل ٹریننگ کالج میں ایک گورے پرنسپل کو بھی دیکھا ہے سینٹرل ٹریننگ کالج میں فوجی تربیت بھی دی جاتی تھی۔ اس کی عمارت انتہائی خوبصورت ہے، اس کالج میں بھی ایک مزار ہے لاہور کے کئی تعلیمی اداروں میں مزار ہیں۔پھر ہم جس سال وہاں پڑھ رہےتھے وہ آخری سال تھا جب لڑکیاں بھی پانچویں جماعت تک جونیئر ماڈل اسکول میں پڑھا کرتی تھیں۔ پنجاب کے ایک سابق چیف سیکریٹری کی اہلیہ، ایک سابق مرکزی وزیر کی بیٹی اور ہیڈماسٹر کی بیٹی ہماری کلاس فیلوز تھیں، کیا خوبصورت یادیں تھیںاب پھر اس اسکول میں پانچویں جماعت کی تعلیم شروع کر دی گئی ہے، اب ہیڈماسٹر کا عہدہ پرنسپل کر دیا گیا ہے، سیدہ نزہت اس اسکول کی پہلی خاتون پرنسپل ہیں جو اسکول بڑے احسن انداز میں چلا رہی ہیں۔ اس زمانے میں راجہ دھیان سنگھ کی حویلی میں ایک اسکول ہوا کرتا تھا جس کا نام تھا ڈسٹرکٹ اسکول لاہور، یہ راجہ دھیان سنگھ کی وہیحویلی ہے جہاں کبھی گورنمنٹ کالج لاہور بھی رہا۔ آج کل یہاں گورنمنٹ فاطمہ جناح کالج برائے خواتین چونا منڈی ہے ہم نے اس کالج میں ایم اے صحافت کی پہلی دو کلاسوں کو پڑھا یا بھی ہے کبھی اس کالج کا نام نواز شریف گرلز کالج بھی رہا۔ اس حویلی میں کبھی روزنامہ جنگ لاہور کے زیر اہتمام بڑی خوبصورت بسنت منائی جاتی تھی اس بسنت کا اہتمام سر مد علی ایم ڈی مارکیٹنگ جنگ گروپ اور ہم کرتے رہے ہیں اس تاریخی حویلی میں ایک ایسا کمرہ بھی موجود ہے جس میں سانپ، بچھو اور خطرناک حشرت الاراض ہوا کرتے تھے راجہ دھیان سنگھ مجرموں کو اس کمرے میں بند کر دیتا تھا اور کمرے کی جالیوں سے ان مجرموں کو ان سانپوں، بچھوؤں دیگر خطرناک کیڑے مکوڑوں سے کٹوانے کا نظارہ کرتا تھا۔ وہ کمرہ آج بھی موجود ہے ہمارے زمانے میں وہاں کمپیوٹر لیب بنا دی گئی تھی اب پتہ نہیں اس کمرے میں کیا ہے؟ اس حویلی میں غسل خانے یعنی وہ کمرے جہاں شہزادیاں غسل کیا کرتی تھیں دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں ہم نے خود یہ خوبصورت نقش ونگار والے غسل خانے دیکھے ہیں اور وہاں گرم پانی اور سرد پانی کا ایسا نظام بنایا گیا تھا جس کو دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ چارسو سال پہلے اس حویلی میں اسٹیم باتھ کا انتظام تھا۔
یہ بڑی تاریخی اور خوبصورت حویلی ہے یہاں ایک ہاتھی دروازہ ہے جہاں سے راجہ ہاتھی کی سواری کےلیے بڑی اونچی بالکونی سے ہاتھی پر سوار ہوتا تھا یہ دروازہ آج بھی اپنی اصل حالت میں ہے افسوس شو مارکیٹ نے اس تاریخی حویلی کے حسن کو گہن لگا دیا ہے۔ کاش حکومت اس حویلی تک تمام راستوں کو صاف ستھرا اور بڑا کر دے۔
یقین کریں یہ بڑی خوبصورت حویلی ہے ہم تو آج بھی کبھی کبھار اس حویلی کو دیکھنے جاتے ہیں اور بہت لطف اندوز ہوتے ہیں، اس حویلی کو حویلی آصف جاہ اور حویلی خوشحال سنگھ کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ گورنمنٹ کالج لاہور کی تاریخ میں اس حویلی کا نام راجہ دھیان سنگھ ہی کی حویلی ہے اور یہیں سے گورنمنٹ کالج لاہور کا آغاز ہوا تھا، یہ چار سو برس قدیم ہے۔ (جاری ہے )