و ہ  لاہور کہیں کھوگیا 341

و ہ لاہور کہیں کھوگیا

لاہور کبھی تاریخی عمارتوں، باغات اور خوبصورت تعمیرات کا بےمثال شہر تھا۔ وہ شہر جس کو کبھی دنیا بھر سے لوگ دیکھنے آتے تھے اور یہاں کے مغلوں کے فنِ تعمیر کی تعریف کیا کرتے تھے۔ یہ دنیا میں فنِ تعمیر کے نادر نمونے تھے، ان تاریخی عمارتوں اور مقبروں کو سکھوں نے اپنے مختصر دور حکومت میں شدید نقصان پہنچایا۔ سکھوں کا دور حکومت 1799میں رنجیت سنگھ سے شروع ہوا اور 1849میں دلیپ سنگھ پر جا کرختم ہوا۔ ان چھ حکمرانوں (رنجیت سنگھ، کھڑک سنگھ، نونہال سنگھ، چندر کور، شیر سنگھ اور دلیپ سنگھ) نے لاہور کی تاریخی عمارتوں اور مقبروں کی اینٹ سے اینٹ بجا دی، پھر سکھوں کے بعد انگریزوں نے اگرچہ اطالوی اور ایک نیا انداز تعمیر متعارف کرایا مگر انہوں نے بھی مغلوں کی کئی تاریخی عمارتوں، باغات اور مقبروں کو صفحہ ہستی سے ہی مٹا دیا۔

1858کو ایسٹ انڈیا کمپنی کی حکومت ختم ہو گئی تو یکم جنوری 1859کو پنجاب لیفٹیننٹ گورنر سرجان لارنس کے سپرد کر دیا گیا۔ جان لارنس وہی ہے جس کے نام پر لارنس گارڈن اور لارنس ہال ہے، یہ پنجاب کا چیف کمشنر تھا اور پنجاب کا پہلا لیفٹیننٹ گورنر مقرر ہوا۔ سرجان لارنس صرف ایک ماہ لیفٹیننٹ گورنر رہا، خرابی صحت کی بنا پر واپس ولایت چلا گیا، اس کے بعد سر رابرٹ منٹگمری کو گورنر مقرر کر دیا گیا۔ اس شخص نے لاہور شہر کے تاریخی ورثے کو ختم اور تبدیل کر دیا۔ لاہور شہر کے ارد گرد موجود خندق بند کرا دی گئی اور وہاں باغات لگا دیے گئے جو آہستہ آہستہ ختم ہو گئے۔ انگریزوں نے 1849سے 1947تک مغل دور کی کئی تعمیرات ختم کرا دیں لیکن انہوں نے ایسی تعمیرات بھی قائم کیں جو آج بھی زیر استعمال ہیں اور فنِ تعمیر کا نادر نمونہ ہیں۔ اسی طرح اورنگ زیب کے عہد کا مورخ سجان رائے بٹالوی بیان کرتا ہے کہ ایاز نے لاہور میں قلعہ پختہ تعمیر کروایا اور اسے ازسر نو آباد کیا، عام ادبی روایات بھی ایاز ہی کو لاہور کا بانی قرار دیتی ہیں چنانچہ خیراللہ فدا لاہوری اپنی مثنوی سسی پنوں میں لکھتا ہے

بانی او ایاز و محمود است

زیں بنا حسن و عشق مقصود است

ہم نے اپنے ہوش اور طالب علمی کے زمانے میں لاہور کے کئی تاریخی دروازوں کے باہر باغات دیکھے ہیں، ان باغات میں جادو ٹونے والے، فال اور ستاروں کا حساب لگانے والے، مرغوں کی لڑائی کرانے والے اور ڈوروں پر مانجھا لگانے والے بھی دیکھے ہیں۔ یہاں عمر رسیدہ افراد اور بچے مختلف کھیل کھیلا کرتے تھے۔ اور کچھ نہر کے آثار بھی تھے جو بعد میں گندا نالہ بن گیا۔ سر رابرٹ منٹگمری نے شہر کی دہری فصیل کو مسمار کر دیا اور اس اندرونی فصیل کو بھی آدھا کر دیا تھا، ہم نے شیرانوالہ، یکی اور مستی دروازے کے باہر اس کے آثار کبھی دیکھے تھے۔ لارنس گارڈن میں منٹگمری ہال اور منٹگمری شہر اسی گورنر کے نام پر آج بھی موجود ہے۔ منٹگمری شہر کو اب ساہی وال کہتے ہیں، لارنس اور منٹگمری ہال میں کبھی جمخانہ کلب تھا، اب قائداعظم لائبریری ہے۔ یہ دونوں ہال بڑے خوبصورت ہیں، ان کے فرش لکڑی کے ہیں، ہم نے اپنے بچپن میں یہاں پر کئی ڈانس اور فلمیں دیکھی ہیں۔ ہفتہ کی رات کو جمخانہ کلب میں بچوں کے داخلے پر پابندی ہوتی تھی، کیا خوبصورت دور تھا۔ لارنس گارڈن میں جو اونچی اونچی پہاڑیاں ہیں وہ اینٹیں پکانے کے پرانے بھٹے تھے اور کبھی یہاں ایک توپ بھی ہوتی تھی جو پورے بارہ بجے گولا داغا کرتی تھی اور پورے لاہور شہر کو پتہ چل جاتا تھا کہ دن کے بارہ بج گئے ہیں۔

لارنس گارڈن میں ہر اتوار کو فوج یا پولیس کا بینڈ مظاہرہ بھی کیا کرتا تھا جو ہم نے خود دیکھا ہے۔ کمپنی باغ، گول باغ اور لارنس گارڈن ایلیٹ کلاس انگریزوں کی سیر گاہیں تھیں۔

لارنس گارڈن، گول باغ (جسے کبھی بینڈ اسٹینڈ گارڈن) اور کمپنی باغ (جسے اب بادامی باغ کہا جاتا ہے) میں گول باغ ان سب میں سب سے قدیم ہے۔ اب اس کو ناصر باغ کہا جاتا ہے، کبھی اِس باغ کے عین درمیان سڑک پر ٹریفک چلا کرتی تھی پھر غالباً 1975میں یہ سڑک مستقل طور پر بند کر دی گئی اور گول باغ کے بالکل سامنے بہت بڑا رائونڈ ابائوٹ ہوتا تھا، یہاں کبھی ٹریفک کا سپاہی ٹریفک کنٹرول کیا کرتا تھا۔ لکڑی کا سفید بیٹ اور سفید یونیفارم پہن کر جس پر لال رنگ کی پٹی لگی ہوتی تھی۔ جب لاہور میں ٹریفک سنگل نہیں آئے تھے تو سپاہی لکڑی کے ڈبے پر کھڑے ہو کر ٹریفک کنٹرول کرتے تھے اور لکڑی کے ڈبے پر سفید اور کالی دھاریاں ہوتی تھیں اور چوک پر سڑک پار کرنے والوں کے لیے سیمنٹ کے پلرز لگے ہوتے تھے۔ 1865میں جوڈیشنل کمشنر کا عہدہ ختم کرکے لاہور میں چیف کورٹ قائم کر دی گئی، اس میں پہلی مرتبہ دو جج مقرر کیے گئے، پہلے جج مسٹر ایچ اے رابرٹس اور دوسرے جج چارلس بال نوٹس مقرر ہوئے۔ یہ لاہور کے پہلے دو جج تھے، مسٹر ایچ اے رابرٹس کے نام پر رابرٹس کلب ہے جو آج بھی لاہور میں ہے۔ پرانی انار کلی میں کپور تھلہ ہائوس کے بڑے خوبصورت دو منزلہ گھر تھے، جن کو تباہ کر دیا گیا۔ پرانی انارکلی کا کپور تھلہ ہائوس جہاں کئی مکانات تھے بلکہ دو منزلہ فلیٹ تھے، وہ بڑی خوبصورت جگہ تھی، اس کے باہر بڑا میدان تھا، آج شاید ہی کوئی کپور تھلہ ہائوس کا فلیٹ اپنی اصل شکل میں موجود ہو۔ (جاری ہے)

بشکریہ جنگ نیوز

بشکریہ نایٹی ٹو نیوز کالمز