سانحہ کاہنہ صرف ایک عمارت کی چھت گرنے کا حادثہ نہیں،بلکہ یہ ہمارے تعلیمی، انتظامی، تعمیراتی اور سماجی نظام کی کمزوریوں کا ایسا المناک استعارہ ہے جس نے ایک ہی لمحے میں چودہ معصوم جانیں نگل لیں۔ بستی عیدگاہ، آہلووالی گلی، کاہنہ میں ایک نجی ٹیوشن سینٹر کی خستہ حال چھت گرنے سے چودہ ننھے طلبہ جاں بحق جبکہ ٹیوشن پڑھانے والی خاتون اُستاد سمیت متعدد بچے زخمی ہوگئے۔ یہ منظر صرف متاثرہ خاندانوں کے لیے قیامت نہیں تھا بلکہ ہر صاحبِ دل انسان کے لیے ایک ایسا سوال بھی تھا جس کا جواب ہمارے نظامِ حکمرانی کے پاس آج تک موجود نہیں۔کسی بھی معاشرے کی اصل دولت اس کے بچے ہوتے ہیں۔ جب یہی بچے غیر محفوظ عمارتوں،ناکافی سہولیات اور ناقص انتظامات کی نذر ہونے لگیں تو یہ صرف ایک حادثہ نہیں رہتا بلکہ ریاستی ترجیحات پر ایک سنگین سوالیہ نشان بن جاتا ہے۔ سانحہ کاہنہ نے ایک مرتبہ پھر یہ حقیقت آشکار کر دی کہ ترقی کے بلند و بانگ دعوؤں کے باوجود عوام کی بنیادی ضروریات، خصوصاً تعلیم، صحت اور محفوظ انفراسٹرکچر، اب بھی نظرانداز کیے جا رہے ہیں۔حادثے کے فوراً بعد انتظامیہ، ریسکیو ادارے، تاجر برادری، سماجی کارکن، مذہبی و سیاسی شخصیات اور مخیر حضرات متاثرہ خاندانوں کے درمیان پہنچے۔ غمزدہ والدین کو تسلی دی گئی، کھانے پینے کا انتظام کیا گیا اور خاموشی سے مالی امداد بھی فراہم کی گئی۔ یہ جذبہ ہمدردی یقیناً قابلِ تحسین ہے، سوال یہ ہے کہ کیا ہر بڑے سانحے کے بعد صرف امدادی سرگرمیاں ہی ہماری اجتماعی ذمہ داری پوری کر دیتی ہیں؟ کیا بہتر نہ ہوتا کہ ایسے سانحات کو جنم دینے والے اسباب پہلے ہی ختم کر دیے جاتے؟ کاہنہ،جو وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف کا انتخابی حلقہ ہے، گزشتہ کئی برسوں سے بنیادی سہولیات کی شدید کمی کا شکار ہے۔ پانچ سال گزرنے کے باوجود نہ سیوریج نظام کی مناسب دیکھ بھال کی گئی، نہ سڑکوں اورگلیوں کی تعمیر و مرمت ہوئی اور نہ ہی مین ہولز سمیت دیگر عوامی مسائل پر کوئی سنجیدہ توجہ دی گئی۔ افسوسناک حادثے کے بعد جب وزیرِاعلیٰ مریم نواز کے دورے کی خبر سامنے آئی تو اچانک انتظامیہ متحرک ہو گئی۔ دن رات صرف اسی گلی اور اردگرد کے محدود علاقے میں کام جاری ہے جہاں ان کی آمد متوقع ہے۔ ٹوٹی سڑکیں مرمت کی جا رہی ہیں، مین ہولز کے ڈھکن لگائے جا رہے ہیں، صفائی کی جا رہی ہے اور ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے کہ یہ تاثر دیا جا سکے کہ اس علاقے میں پہلے سے ترقیاتی کام جاری تھے۔ حالانکہ مقامی رہائشیوں کے مطابق یہ تمام سرگرمیاں صرف حالیہ دنوں میں شروع ہوئی ہیں، جبکہ باقی پورا علاقہ آج بھی وہی مسائل جھیل رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہی کام پہلے کر دیے جاتے تو کیا قیمتی جانوں کا ضیاع روکا نہیں جا سکتا تھا؟ اس سانحے نے کاہنہ کے سرکاری ہسپتال کی کمزوریاں بھی بے نقاب کر دیں۔ شہریوں کے مطابق ابتدائی طبی امداد کے لیے صرف ایک ڈاکٹر موجود تھا جبکہ ضروری طبی سہولیات بھی ناکافی تھیں۔کسی بھی ہنگامی صورتحال میں صحت کے مراکز کا مضبوط اور فعال ہونا ناگزیر ہے، یہاں بھی وہی پرانا المیہ سامنے آیا کہ حادثہ پہلے پیش آیا اور انتظامات بعد میں تلاش کیے جانے لگے۔ یہ سانحہ صرف ایک عمارت کے گرنے کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک طویل عرصے سے جاری ناقص تعلیمی منصوبہ بندی کا بھی شاخسانہ ہے۔ کاہنہ اور اس کے گردونواح میں سرکاری سکولوں کی کمی، موجودہ اداروں کی ابتر حالت اور معیاری تعلیم تک محدود رسائی نے کم آمدنی والے والدین کو مجبور کر دیا کہ وہ اپنے بچوں کو محلوں میں قائم سستے نجی ٹیوشن مراکز بھیجیں۔ ان والدین کی خواہش صرف اتنی تھی کہ ان کے بچے بہتر تعلیم حاصل کرکے اپنی زندگی سنوار سکیں، غربت نے انہیں ایسے راستے پر لا کھڑا کیا جہاں تعلیم کی تلاش موت کے سفر میں بدل گئی۔ رپورٹس میں سامنے آنے والی بعض تفصیلات معاشرتی ناہمواری کی تلخ تصویر پیش کرتی ہیں۔ بتایا گیا کہ گرمی کی شدت کم کرنے کے لیے بدنصیب ٹیوشن سینٹر کی چھت پر اضافی مٹی ڈالی جا رہی تھی۔ دوسری طرف ٹیوشن پڑھانے والی خاتون اُستاد کے مالی حالات اس قدر محدود تھے کہ وہ نہ ائیرکنڈیشنر لگا سکتی تھیں، نہ ائیرکولر اور نہ ہی بجلی کے بڑھتے ہوئے اخراجات برداشت کرنے کی استطاعت رکھتی تھیں۔ یہ صورتحال کسی ایک فرد کی ناکامی نہیں بلکہ ایسے معاشی نظام کی عکاس ہے جہاں محنت کش اُستاد بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ سانحے کے بعد فوری طور پر غیر رجسٹرڈ اور غیر قانونی ٹیوشن سینٹرز کے خلاف کارروائی کی باتیں تو ہونے لگیں،پراس بنیادی سوال پر سنجیدہ غور کم دکھائی دیا کہ آخر ایسے مراکز وجود میں کیوں آتے ہیں؟ ہر محلے میں معیاری سرکاری سکول، مناسب اساتذہ، محفوظ عمارتیں اور بچوں کے لیے سہولیات موجود ہوتیں تو والدین نجی ٹیوشن سینٹرز کا رخ کیوں کرتے؟ تعمیراتی قوانین پر سختی سے عمل درآمد ہوتا تو خستہ حال عمارتوں میں تعلیمی سرگرمیوں کی اجازت کیسے ملتی؟مقامی ہسپتال مکمل سہولیات سے آراستہ ہوتے تو زخمی بچوں کو بروقت اور بہتر علاج کیوں نہ ملتا؟ یہ حقیقت بھی فراموش نہیں کی جا سکتی کہ محض چند افراد کو ذمہ دار قرار دے کر مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تعلیمی اداروں کی رجسٹریشن، عمارتوں کی باقاعدہ جانچ، تعمیراتی ضوابط پر سخت عمل درآمد، مقامی ہسپتالوں کی اپ گریڈیشن، سرکاری سکولوں کی تعداد اور معیار میں اضافہ، اساتذہ کی مالی معاونت اور بجلی سمیت بنیادی سہولیات کی فراہمی کو قومی ترجیح بنایا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ مقامی حکومتوں کو بھی فعال بنایا جائے تاکہ وہ اپنے علاقوں میں قائم تعلیمی مراکز کی باقاعدہ نگرانی کر سکیں۔کاہنہ شہرلاہورکاقدیم ترین علاقہ ہے جو آج تک،کھیل کی میدانوں،پارکس اورقبرستانوں جیسی بنیادی ضروریات سے بھی محروم ہے۔ سانحہ کاہنہ ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ حادثات محض تقدیر کا لکھا نہیں ہوتے، بلکہ اکثر وہ اجتماعی غفلت، ناقص منصوبہ بندی اور مسلسل انتظامی کوتاہیوں کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ آج بھی ہم نے اس واقعے سے سبق نہ سیکھا تو خدشہ ہے کہ کل کسی اور شہر، کسی اور گلی اور کسی اور ٹیوشن سینٹر سے اسی نوعیت کی دل دہلا دینے والی خبر سننے کو ملے۔ چودہ معصوم بچوں کی شہادت محض اعداد و شمار نہیں بلکہ چودہ ایسے خوابوں کا خاتمہ ہے جن سے کئی خاندانوں کی امیدیں وابستہ تھیں۔ ان ننھی کلیوں کا سب سے بڑا خراجِ عقیدت یہی ہوگا کہ ریاست، معاشرہ اور متعلقہ ادارے وقتی بیانات اور نمائشی اقدامات سے آگے بڑھ کر ایسے موثر اور دیرپا فیصلے کرے جو آئندہ والدین کو اپنے بچے کی کتابوں کے ساتھ اس کا جنازہ اٹھانے پر مجبور نہ ہونے دیں۔سانحہ کاہنہ،ذمہ دارکون؟کیایہ سوال صدیوں جواب کی تلاش میں رہے گااورہمیشہ کی طرح یہ دل خراش سانحہ بھی بھلادیاجائے گا؟
41