پاکستان کی سیاست کا سب سے بڑا المیہ شاید یہ نہیں کہ یہاں اختلافِ رائے موجود ہے، بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ اختلاف کو برداشت کرنے کی روایت کمزور پڑ چکی ہے۔ ہماری سیاسی جماعتیں جمہوریت، آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی کے نعرے ضرور لگاتی ہیں، مگر جب انہی جماعتوں کے اندر کوئی ایسا رہنما سامنے آتا ہے جو ہر معاملے میں صرف "جی حضور" کہنے کے بجائے اپنی رائے دینے کی ہمت کرے تو اس کے لیے سیاسی راستے تنگ ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ ایسے افراد کو کبھی خاموش رہنے کا مشورہ دیا جاتا ہے، کبھی انہیں نظر انداز کیا جاتا ہے اور کبھی مختلف طریقوں سے دباؤ میں لانے کی کوشش کی جاتی ہے۔جمہوریت کی اصل خوبصورتی یہی ہے کہ اس میں اختلافِ رائے کو جگہ دی جائے۔ پارلیمنٹ کا مقصد صرف حکومتی فیصلوں پر مہر لگانا نہیں بلکہ ہر معاملے پر کھلے دل سے بحث کرنا، حکومت سے سوال پوچھنا اور عوامی مسائل کو اجاگر کرنا بھی ہے۔ اگر ہر منتخب نمائندہ صرف قیادت کی مرضی کے مطابق بولے تو پھر پارلیمنٹ اور کسی سرکاری دفتر میں کیا فرق رہ جاتا ہے؟گزشتہ چند ماہ کے دوران پنجاب اسمبلی کی کارروائی نے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان کے طرزِ عمل پر مختلف حلقوں کی آراء سامنے آئیں۔ ایک طبقہ انہیں متوازن، آئین اور قواعد کے مطابق ایوان چلانے والا اسپیکر قرار دیتا ہے، جبکہ دوسرا طبقہ یہ سمجھتا ہے کہ وہ اپوزیشن کو زیادہ مواقع فراہم کرتے ہیں۔ حقیقت جو بھی ہو، ایک بات سے انکار ممکن نہیں کہ اسمبلی کی کارروائی کے دوران انہوں نے متعدد مواقع پر حکومتی اور اپوزیشن دونوں بنچوں کو سننے کی کوشش کی اور قواعد کو بنیاد بنانے کی کوشش کی۔یہی وہ رویہ ہے جو ایک پارلیمانی جمہوریت کا تقاضا بھی ہے۔ اسپیکر کسی جماعت کا ترجمان نہیں بلکہ پورے ایوان کا نگہبان ہوتا ہے۔ اگر اپوزیشن کے ارکان کو اظہارِ خیال کا حق دیا جائے تو اسے جانبداری نہیں بلکہ آئینی ذمہ داری سمجھا جانا چاہیے۔ افسوس یہ ہے کہ ہمارے سیاسی کلچر میں غیر جانبداری کو بھی بعض اوقات وفاداری میں کمی تصور کر لیا جاتا ہے۔یہ مسئلہ صرف ایک شخصیت تک محدود نہیں۔ ہماری سیاسی تاریخ ایسے کئی واقعات سے بھری پڑی ہے جہاں اپنی رائے رکھنے والے سیاستدانوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ مختلف سیاسی جماعتوں میں ایسے رہنما موجود رہے جنہوں نے عوامی مسائل پر کھل کر بات کی، مگر وقت گزرنے کے ساتھ وہ پس منظر میں چلے گئے۔ یہ محض اتفاق نہیں بلکہ ہمارے سیاسی رویوں کا عکاس ہے، جہاں بعض اوقات شخصیت کو ادارے پر اور وفاداری کو صلاحیت پر ترجیح دی جاتی ہے۔جمہوریت صرف انتخابات کے انعقاد سے مضبوط نہیں ہوتی بلکہ اس وقت مضبوط ہوتی ہے جب ادارے اپنے آئینی دائرہ کار میں رہ کر کام کریں، پارلیمنٹ آزاد ہو، منتخب نمائندوں کو اظہارِ رائے کی آزادی حاصل ہو اور اختلاف کو دشمنی نہ سمجھا جائے۔ اگر ایک اسپیکر، وزیر یا رکنِ اسمبلی عوامی مسائل پر کھل کر بات کرتا ہے تو اس کا جواب دلیل سے دیا جانا چاہیے، نہ کہ اسے دباؤ کا سامنا کرنا پڑے۔آج پاکستان کو بے شمار چیلنجز درپیش ہیں۔ معیشت دباؤ میں ہے، زراعت مشکلات سے دوچار ہے، پانی کی قلت ایک سنگین حقیقت بنتی جا رہی ہے اور عام آدمی مہنگائی کے بوجھ تلے پسا ہوا ہے۔ ایسے حالات میں سیاستدانوں کی ذمہ داری صرف سیاسی بیانات تک محدود نہیں رہتی بلکہ انہیں ان بنیادی مسائل پر بھی آواز بلند کرنی چاہیے۔ اگر کوئی منتخب نمائندہ کسان، پانی، تعلیم، صحت یا مقامی حکومتوں کے مسائل پر بات کرتا ہے تو اس کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے، کیونکہ یہی عوامی نمائندگی کا اصل تقاضا ہے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان کی سیاست میں برداشت کا دائرہ پہلے سے کہیں زیادہ محدود دکھائی دیتا ہے۔ سوشل میڈیا کے دور میں اختلافِ رائے کو فوری طور پر وفاداری یا غداری کے پیمانے پر تولنے کی روایت نے سیاسی ماحول کو مزید تلخ بنا دیا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم شخصیات سے زیادہ اصولوں کی بات کریں۔ اگر آج کسی ایک سیاستدان کے اظہارِ رائے کو محدود کیا جائے گا تو کل یہی روایت دوسروں تک بھی پہنچ سکتی ہے۔ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ مضبوط سیاسی جماعتیں وہی ہوتی ہیں جہاں اندرونی مشاورت، تنقید اور مختلف آراء کو جگہ دی جاتی ہے۔ دنیا کی کامیاب جمہوریتوں میں جماعتوں کے اندر اختلاف کو کمزوری نہیں بلکہ فیصلہ سازی کو بہتر بنانے کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں اکثر اختلاف کو بغاوت سمجھ لیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں اہل، باصلاحیت اور خوددار لوگ آہستہ آہستہ عملی سیاست سے دور ہوتے چلے جاتے ہیں۔پاکستان کو اس وقت ایسے سیاستدانوں کی ضرورت ہے جو عوام کے درمیان رہیں، مسائل کو سمجھیں، ایوان میں دلیل سے بات کریں اور قانون و آئین کی بالادستی پر یقین رکھیں۔ اگر ہم ہر اس شخص کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کریں گے جو اپنی آزادانہ رائے رکھتا ہے تو اس کا نقصان صرف ایک فرد یا ایک جماعت کو نہیں بلکہ پورے جمہوری نظام کو ہوگا۔جمہوریت کی مضبوطی کا راستہ صرف انتخابات سے نہیں گزرتا بلکہ برداشت، مکالمے، آئینی بالادستی اور آزاد پارلیمانی روایات سے بھی وابستہ ہے۔ اگر ہم واقعی ایک مضبوط اور مستحکم پاکستان چاہتے ہیں تو ہمیں ایسی سیاسی فضا قائم کرنا ہوگی جہاں منتخب نمائندے عوام کی آواز بھی بن سکیں اور اپنی آئینی ذمہ داریاں بھی بلا خوف و دباؤ ادا کر سکیں۔ یہی رویہ پارلیمنٹ کو باوقار، سیاست کو مضبوط اور جمہوریت کو حقیقی معنوں میں کامیاب بنا سکتا ہے۔
ََََََََََ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
22