پیارے نوجوانو! تم ایک ایسے زمانے میں پیدا ہوئے ہو جہاں لائک کو محبت فالو کو عزت اور تعریف کو سچ سمجھ لیا گیا ہے اس لیے جب کوئی تمہاری غلطی کی نشاندہی کرتا ہے تو تمہیں یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اس نے تمہاری شخصیت پر حملہ کر دیا ہو یاد رکھو آئینہ کبھی دشمن نہیں ہوتا وہ صرف وہی دکھاتا ہے جو حقیقت ہوتی ہے اگر آئینہ چہرے پر دھول دکھائے تو عقلمندی آئینہ توڑنے میں نہیں بلکہ چہرہ دھونے میں ہے
مرحوم شہید ارشد شریف کا ایک جملہ مجھے اسوقت یاد آرہا ہے اگر شیشے میں تمہیں اپنا چہرہ اچھا نہ لگے تو شیشہ مت توڑو اپنا چہرہ صاف کرو یہ بظاہر ایک جملہ ہے مگر اسمیں ہی سمجھنے والوں کے لئے پوری داستان ہے
تنقید سے بھاگنے والی نسلیں تاریخ نہیں بناتیں تاریخ وہ نسلیں بناتی ہیں جو اپنی کمزوریاں تسلیم کرتی ہیں ان سے سیکھتی ہیں اور پھر خود کو پہلے سے بہتر بناتی ہیں جو صرف تعریفیں سنتا ہے وہ آہستہ آہستہ حقیقت سے دور ہوتا جاتا ہے یہاں تک کہ ایک دن اسے اپنی ہی بنائی ہوئی دنیا سچ لگنے لگتی ہے ہر اختلاف نفرت نہیں ہوتا ہر تنقید دشمنی نہیں ہوتی اور ہر تلخ بات غلط نہیں ہوتی کبھی کبھی سب سے کڑوی بات ہی سب سے بڑی سچائی ہوتی ہے اپنے اندر اتنا حوصلہ پیدا کرو کہ اگر کوئی دلیل کے ساتھ تمہاری غلطی بتائے تو اسے خاموشی سے سنو اس پر غور کرو اور اگر وہ درست ہو تو اپنی اصلاح کرنے میں دیر نہ کرو یہی رویہ انسان کو بڑا بناتا ہے یاد رکھیں تعریف انسان کو وقتی خوشی دیتی ہے مگر تعمیری تنقید اسے عمر بھر کے لیے بہتر انسان بنا دیتی ہے تنقید سے مت ڈرو، اس سے سیکھو کیونکہ تعمیر کی پہلی اینٹ اکثر تنقید ہی ہوتی ہے
دنیا کی ہر نسل کی ایک کمزوری ہوتی ہے کسی نسل کو طاقت کا غرور لے ڈوبا کسی کو دولت کا نشہ کسی کو اقتدار کی ہوس لیکن موجودہ جین زی کا سب سے بڑا مسئلہ شاید یہ ہے کہ یہ تنقید سننے کا حوصلہ کھوتی جا رہی ہے یہ ایسی نسل ہے جو چند سیکنڈ کی ویڈیوز میں زندگی کا فلسفہ تلاش کرتی ہے چند سو لائکس کو اپنی کامیابی سمجھتی ہے اور ذرا سی مخالفت پر رشتے دوستیاں اور دلیلیں سب ختم کر دیتی ہے زندگی مگر سوشل میڈیا نہیں ہے جہاں ناپسندیدہ کمنٹ ڈیلیٹ کر دیا جائے زندگی ایک کھلی کتاب ہے یہاں ہر صفحہ آپ سے سوال بھی کرے گا اور آپ کا احتساب بھی کرے گا اگر آپ ہر اس شخص کو دشمن سمجھیں گے جو آپ کی غلطی بتاتا ہے تو پھر آپ کے اردگرد صرف وہ لوگ رہ جائیں گے جو آپ کی ہر بات پر تالیاں بجائیں گے اور یاد رکھیے تالیاں ہمیشہ کامیابی کی علامت نہیں ہوتیں کبھی کبھی یہ انسان کی تباہی کا پیش خیمہ بھی بن جاتی ہیں
میں نے زندگی میں ایک بات سیکھی ہے تعریف آپ کو خوش ضرور کرتی ہے لیکن بہتر نہیں بناتی بہتر وہ شخص بنتا ہے جو تلخ بات سن کر بھی مسکرا دے سوچے اپنا جائزہ لے اور اگر غلط ہو تو اپنی انا کو قربان کرکے خود کو درست کر لے انا کی فتح وقتی ہوتی ہے لیکن کردار کی فتح ہمیشہ رہتی ہے قدرت کا بھی ایک عجیب اصول ہے دریا اگر بہنا چھوڑ دے تو دلدل بن جاتا ہے درخت اگر جھکنا چھوڑ دے تو پہلی آندھی اسے گرا دیتی ہے اور انسان اگر سیکھنا چھوڑ دے تو زندہ رہ کر بھی اندر سے مر جاتا ہے اسی طرح جو انسان تنقید سے بھاگتا ہے وہ اپنی شخصیت کی نشوونما کا دروازہ خود بند کر دیتا ہے اسلیے میری نوجوانوں سے صرف ایک درخواست ہے اپنی زندگی میں کم از کم ایک ایسا شخص ضرور رکھیں جو آپ کے سامنے سچ بولنے کی ہمت رکھتا ہو جو آپ کی غلطی پر آپ کو روک سکے جو آپ کی تعریف سے زیادہ آپ کی اصلاح کی فکر کرے ایسے لوگ نعمت ہوتے ہیں بوجھ نہیں ان کی قدر کیجیےکیونکہ وہ آپ کے کردار کے معمار ہوتے ہیں اور آخر میں صرف ایک بات ہمیشہ یاد رکھیے دنیا میں سب سے خطرناک لمحہ وہ نہیں ہوتا جب لوگ آپ پر تنقید کرتے ہیں بلکہ وہ ہوتا ہے جب لوگ آپ کی غلطیوں پر بھی خاموش ہو جائیں کیونکہ خاموشی اکثر اس بات کا اعلان ہوتی ہے کہ لوگوں نے آپ سے امید چھوڑ دی ہے تنقید امید کی آخری کرن ہے جب تک کوئی آپ کی اصلاح کرنا چاہتا ہے سمجھ لیجیے آپ کے بہتر ہونے کے امکانات ابھی زندہ ہیں جس دن آپ نے تنقید کو دشمن اور تعریف کو سچ سمجھ لیا اسی دن آپ کی ذہنی ترقی رک جائے گی عظمت کا سفر تعریفوں سے نہیں خود احتسابی سے شروع ہوتا ہے اور جو انسان خود کو بدلنے کا حوصلہ رکھتا ہے وقت بھی آخرکار اسی کے حق میں گواہی دیتا ہے۔
آخر میں صرف اتنا یاد رکھو کہ زندگی میں تمہارے دو طرح کے ساتھی ہوں گے ایک وہ جو ہر بات پر تمہاری تعریف کریں گے چاہے تم غلط ہی کیوں نہ ہو اور دوسرے وہ جو تمہیں تمہاری خامیوں کا احساس دلائیں گے چاہے ان کی بات تمہیں تلخ ہی کیوں نہ لگے وقت گزرنے کے بعد تمہیں معلوم ہوگا کہ تعریف کرنے والوں نے تمہیں وقتی سکون تو دیا مگر آگے بڑھنے کا راستہ نہیں دکھایا جبکہ سچ بولنے والوں نے تمہیں گرنے سے بچایا سنبھلنا سکھایا اور ایک بہتر انسان بننے میں مدد دی یاد رکھو لوہا آگ میں تپ کر ہی فولاد بنتا ہے سونا بھٹی میں جل کر ہی کندن بنتا ہے اور انسان تنقید آزمائش اور خود احتسابی سے گزر کر ہی شخصیت کی بلندیوں کو چھوتا ہے اگر تم چاہتے ہو کہ کل دنیا تمہارا احترام کرے تو آج اپنے اندر اتنا ظرف پیدا کرو کہ سچ سن سکو اختلاف کو برداشت کر سکو اور اپنی غلطیوں سے سیکھ سکو کیونکہ تاریخ نے کبھی اُن لوگوں کو عظیم نہیں لکھا جو صرف اپنی تعریفیں سنتے رہے تاریخ نے ہمیشہ اُنہیں زندہ رکھا جنہوں نے تلخ حقیقت کو قبول کیا اپنی اصلاح کی اور اپنے کردار کو اپنی سب سے بڑی پہچان بنا دیا یاد رکھنا تعریف انسان کے کانوں کو بھلی لگتی ہے نفس کو خوش کرتی ہے مگر تنقید اگر دیانت دار ہو تو انسان کی تقدیر بدل دیتی ہے جھوٹی تعریف سے کڑوا سچ اچھا ہوتا ہے اسلئے کڑوا سچ کو برداشت کیجئے اور زندگی کو آسان بنائے