حسن زیب ملک - ہم ہم

 ہم نے لوگوں کی باتیں سن سنا کر‘ محکمہ صحت کے ہدایت نامے پڑھ پڑھا کر‘ فیس بک کی پوسٹیں رٹ رٹا کر‘ ٹوئٹر سے معلومات چراچرا کر اور اپنی اختراعات گڑھ گڑھ کرکورونا کی علامات ‘ کوائف اور نتائج پر طویل‘ خوفناک اور ہولناک قسم کی تقاریر ازبر کر رکھی ہیں جو ہم بنا تصدیق سننے والوں اور نہ سننے والوں کے کانوں مےں انڈےلتے رہتے ہیں‘ہم دلچسپ لوگ ہیں ہم ہر وہ عمل کریں گے جو ہمیں نہیں کرنا چاہئے اور جو کرنا چاہئے اس کے قریب بھی نہیں پھٹکیں گے‘ہم اگر اپنے گریبان میں کبھی جھانکیں تو دوغلے پن کے شاہکارنظر آئیں گے مثلاً ہم گاڑی میں گنڈیڑیاں چوس چوس کر‘ مالٹے چھیل چھیل کر‘ سیب کھاکھا کر‘ جوس پی پی کر ‘چپس ٹھونس ٹھونس کر‘ بوتلیں انڈیل انڈیل کر‘ چیونگم چبا چبا کر‘ کیلے ڈکار ڈکار کرچھلکے‘ ریپر‘ بوتلیں اور ٹشو پیپر باہر پھینکتے رہیں گے اورتھوڑی سی بھی شرم محسوس کئے بنا صفائی میں انگریزوں کی مثالیں دیتے رہیں گے‘ ہم25لاکھ کی گاڑی میں بیٹھ کر‘ غلط اوورٹیک کرکرکے‘ اشارے توڑ توڑ کر‘ اوورسپیڈنگ کرکرکے‘ سیٹ بیلٹ استعمال نہ کرکے آگے بڑھتے رہیں گے‘راستے مےں دوسری گاڑےوں کے ڈرائےوروں کو بنا کسی غلطی باآواز بلند صلواتےں سناتے رہیں گے لیکن جونہی کوئی پولیس والاہمیں روکے گا ہم اس کو اس گستاخی کی سزا دینے کو اپنی اولین ڈیوٹی جان لیں گے‘ ہم دھڑلے سے بجلی چوری کرینگے‘ کنڈے لگائیں گے‘ میٹر آہستہ کروائیں گے‘ میٹر غائب کرواکے جعلی ایف آئی آر بھی کٹوائیں گے پڑوسیوں کی سروس لائن سے کنکشن بھی لیں گے میٹرریڈر کو رشوت بھی دیں گے لیکن جونہی پکڑے جائیں تو’ پورا ملک چور ہے‘ کہہ کر اپنی چوری کا جواز پیدا کرنے کی کوشش میں لگ جائیں گے‘ ہم سارا دن چغلیاں کھاتے رہیں گے‘ غیبت کرتے رہیں گے۔

کام چوری کرتے رہیں گے‘ الزام تراشیاں کرتے رہیں گے‘ خود سے باتیں بنا بنا کر لوگوں کو لڑاتے رہیں گے لیکن خود کو سب سے بڑا پارسا ظاہر کرنے کی کوشش بھی کرتے رہیں گے‘ ہم تربیت نہیں دیں گے ہم بچوں کو سکھائیں گے نہیں کہ بڑوں سے کیسے بات کرنی ہے‘ چھوٹوں سے کیسے پیش آنا ہے‘ سڑک کیسے پار کرنی ہے‘ اچھا انسان کیسے بننا ہے‘ گند کہاں پھینکنا ہے ‘ہنسنا کیسے ہے‘ بیٹھنا کیسے ہے‘ پڑھنا کتنا ہے‘ تعلیم کتنی ضروری ہے‘کھیل کود کس ٹائم اور کتنی دیرکرنی ہے‘ دوستی کس سے رکھنی ہے کن کن سے کنی کترانی ہے‘ زندگی کیسے گزارنی ہے‘ کیا کیا کرنا ہے‘ کن کن چیزوں سے خود کو بچانا ہے‘ خالق کائنات کیسے خوش ہوتا ہے‘ والدین کیسے راضی ہوتے ہیں ‘ٹی وی کتنا دیکھنا ہے ‘موبائل کتنی دیر استعمال کرنا ہے‘ کفایت شعاری کیا ہوتی ہے‘ فضول خرچی کے کیا نقصانات ہیں ‘مسکراہٹ کے فائدے کیا ہیں ‘غصہ کیسے نقصان دہ ہے ‘ہم ان کو یہ نہیں بتاتے زندگی اےک پٹڑی کی مانند ہے اس کے اصول اور ضابطے طے شدہ ہیں اس پٹڑی سے ادھر ادھر ہونے کی کوشش کروگے تو بوگیوں سمیت پٹڑی سے اتر جاﺅگے لیکن جونہی وہ راستے سے بھٹکتے ہیں ہم ٹسوے بہانے لگتے ہیں‘ ہم دو ہزار روپے‘ آٹے کے ایک تھیلے‘کبھی کبھار ایک سائیکل کے عوض ووٹ بیچ آتے ہیں اور پھر پانچ سال اپنی قسمت اور خود کو کوستے رہتے ہیں۔

 ہم عجےب لوگ ہیں ہم پڑوسیوں کے بند دریچوں میں جھانکتے رہیں گے لیکن اپنے گھر کے کھلے دروازے بند کرنے کی کوشش نہیں کریں گے ہم لوگوں میں ڈھونڈ دھونڈ کر‘ کرید کرید کر عیب نکالیں گے لیکن اپنے دامن کی گندگی جھاڑنے اور صاف کرنے کی سعی نہیں کریں گے‘ ہم سارا دن نائی خانے میں بیٹھ کر ڈونلڈ ٹرمپ کو افغانستان مودی کو کشمیر‘ پیوٹن کو شام‘ چین کو کورونا پر مشورے دیتے رہیں گے ‘ہم تندور کے تھڑے پر بیٹھ کر روز و شب دفاعی پالیسیاں‘ خارجہ اموراور معیشت کو ٹھیک کرنے کے ٹوٹکے بتاتے رہیں گے‘ ہندوستان کو دھمکیاں دیتے رہیں گے‘ امریکہ کو تباہ کرنے کی منصوبہ بندی کرتے رہیں گے‘ اسرائیل کو بد دعائیں دیتے رہیں گے لیکن ہم اپنے کام پر نہیں جائیں گے بھلے ہی کام پر جانے والا ہمارا 8سال کا بچہ اپنے استاد سے مار کھاتا رہے‘ ہم ملاوٹ کریں گے آٹے میں چوکر‘ مرچ میں اینٹیں‘ دودھ میں کیمیکل ملائیں گے لیکن برا حکومت کو جانیں گے ‘ ہم اپنے گھر کی دیوار تےن فٹ بڑھا کر ‘دکان فٹ پاتھ پر سجا کر‘ تھڑا سڑک پر بنا کر‘ گٹر گلی میں کھود کر قبضہ مافیا کو موٹی موٹی گالیاں دیتے رہیں گے ‘ہم کم تولیں گے‘ ہم اچھے دام لے کر پرانی سبزیاں اور گلے سڑے پھل گاہک کو دیں گے لیکن اس کا ذمہ دار بھی وزیراعظم کو ٹھہرائیں گے‘ ہم دغابازی کرےں گے‘ ہم دھوکہ بازی کریں گے‘ ہم نوسربازی کریں گے‘ ہم جعل سازی کریںگے‘ ہم کاروباری پارٹنر کو ٹھگیں گے‘ ہم کولیگ کو نقصان پہنچائےں گے‘ ہم بھائی کا حق ماریں گے‘ ہم بہن کو حصہ نہیں دیں گے پھر بھی دیانت داری کا دعویٰ کرتے رہیں گے اور ہم وہ سب کریں گے جو نہیں کرنا چاہئے لیکن ہم وہ نہیں کریں گے جو ہمیں کرناچاہئے۔

 

بشکریہ روزنامہ آج